مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ . باب: ابلیس اور اُس کے لشکروں کا بیان
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَصْبَحَ إِبْلِيسُ بَعَثَ جُنُودَهُ فَيَقُولُ : مَنْ أَضَلَّ الْيَوْمَ مُسْلِمًا أَلْبَسْتُهُ التَّاجَ ، فَيَجِيئُونَ فَيَقُولُ أَحَدُهُمْ : لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ، فَيَقُولُ : يُوشِكُ أَنْ يَتَزَوَّجَ . وَيَجِيءُ هَذَا فَيَقُولُ : لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى عَقَّ وَالِدَيْهِ ، فَيَقُولُ : يُوشِكُ أَنْ يَبِرَّ . وَيَجِيءُ هَذَا فَيَقُولُ : لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى أَشْرَكَ ، فَيَقُولُ : أَنْتَ أَنْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب صبح ہوتی ہے ، تو ابلیس اپنے لشکریوں کو بھیجتا ہے اور یہ کہتا ہے : آج جو کسی مسلمان کو سب سے زیادہ گمراہ کرے گا ، میں اُسے تاج پہناؤں گا ، جب وہ لوگ واپس آتے ہیں ، تو کوئی بتاتا ہے : میں ایک شخص کے ساتھ مسلسل رہا ، یہاں تک کہ اُس نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی ، تو ابلیس کہتا ہے : ہو سکتا ہے ، وہ شخص دوسری شادی کر لے ، ایک لشکری آ کر یہ کہتا ہے : میں ایک شخص کے ساتھ مسلسل رہا ، یہاں تک کہ اس نے اپنے ماں باپ کی نافرمانی کی ، تو ابلیس کہتا ہے : ہو سکتا ہے وہ حسن سلوک شروع کر دے ، ایک لشکری آ کر یہ کہتا ہے : میں ایک شخص کے ساتھ مسلسل رہا ، یہاں تک کہ اُس نے شرک کر دیا ، تو ابلیس کہتا ہے : تم ہی ہو ، تم ہی ہو ( یعنی تم وہ شخص ہو ، جو اس بات کے لائق ہے کہ میں تمہیں تاج پہناؤں ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔