حدیث نمبر: 445
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ إِبْلِيسُ لِرَبِّهِ : يَا رَبِّ ، أَهْبَطْتَ آدَمَ ، وَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ سَيَكُونُ كِتَابٌ وَرُسُلٌ ، فَمَا كِتَابُهُمْ وَرُسُلُهُمْ ؟ قَالَ : رُسُلُهُمُ الْمَلَائِكَةُ ، وَالنَّبِيُّونَ مِنْهُمْ ، وَكُتُبُهُمُ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ وَالزَّبُورُ وَالْفُرْقَانُ . قَالَ : فَمَا كِتَابِي ؟ قَالَ : كِتَابُكَ الْوَشْمُ ، وَقُرْآنُكَ الشِّعْرُ ، وَرُسُلُكَ الْكَهَنَةُ ، وَطَعَامُكَ مَالَا يُذْكَرُ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، وَشَرَابُكَ كُلُّ مُسْكِرٍ ، وَصِدْقُكَ الْكَذِبُ ، وَبَيْتُكَ الْحَمَّامُ ، وَمَصَايِدُكَ النِّسَاءُ ، وَمُؤَذِّنُكَ الْمِزْمَارُ ، وَمَسْجِدُكَ الْأَسْوَاقُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأَيْلِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ فِي أَوَآخِرِ الْأَدَبِ فِي الشِّعْرِ مِثْلُ هَذَا ، أَوْ أَتَمُّ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ابلیس نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو سیدنا آدم علیہ السلام کو ( زمین کی طرف اتار رہا ہے ) مجھے پتا ہے ، عنقریب کتابیں اور رسول آئیں گے ، اُن ( یعنی اولاد آدم ) کی کتابیں اور رسول کیا ہوں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اُن کے رسول فرشتے ہوں گے ، اُن رسولوں میں انبیاء بھی ہوں گے ، اُن لوگوں کی کتابیں ، تورات ، انجیل ، زبور اور فرقان ( یعنی قرآن مجید ) ہوں گی ، ابلیس نے دریافت کیا : میری کتاب کون سی ہو گی ؟ پروردگار نے فرمایا : تمہاری کتاب گودنا ہو گی ، تمہارا قرآن ، اشعار ہوں گے ، تمہارے رسول ، کاہن ہوں گے ، اور تمہارا کھانا ، ہر وہ چیز ہو گی ، جس پر اللہ کا نام ذکر نہ کیا گیا ہو ، اور تمہارا مشروب ، ہر نشہ آور چیز ہو گی ، تمہاری سچائی ، جھوٹ ہو گی ، تمہارا گھر ، حمام ہو گا تمہارے ہتھیار ، عورتیں ہوں گی ، تمہاری آوازیں بلند کرنے والے ، آلات موسیقی ہوں گے اور تمہاری مسجد ، بازار ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن صالح ایلی ہے ، جیسے عقیلی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کتاب ” الادب“ کے آخر میں ، شعر سے متعلق باب میں آئے گی ، جو اس کی مانند ، یا اس سے زیادہ مکمل ہو گی ، ان شاء اللہ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 445
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف