مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُخَافُ عَلَى الْعُمَّالِ . باب: سرکاری اہلکاروں کے حوالے سے کس بات کا اندیشہ ہے ؟
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مُصَدِّقًا يُقَالُ لَهُ : ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ ، فَصَدَّقَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَرَكْتُ لَكُمْ حَقًّا ، وَلَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ فَقَبِلْتُ الْهَدِيَّةَ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ : " إِنِّي أَبْعَثُ رِجَالًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَيَأْتِي أَحَدُهُمْ ، فَيَقُولُ : وَاللَّهِ مَا تَعَدَّيْتُ وَلَا تَرَكْتُ لَكُمْ حَقًّا ، وَلَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ فَقَبِلْتُ الْهَدِيَّةَ إِلَّا جَلَسَ فِي حِفْشِ أُمِّهِ ، فَيَنْظُرُ مَنْ هَذَا الَّذِي يُهْدِي لَهُ ، إِيَّاكُمْ وَأَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ عَلَى عَاتِقِهِ بِبَعِيرٍ لَهُ رُغَاءٌ ، أَوْ بَقَرَةٍ لَهَا خُوَارٌ ، أَوْ شَاةٍ تَثْغُو " . ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى نُظِرَ إِلَى بَيَاضِ إِبِطَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا ، اس شخص کا نام ابن لتبیہ تھا ، اس نے زکوۃ وصول کی ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کے لئے کوئی حق نہیں چھوڑا ( یعنی پوری وصولی کی ہے ) مجھے تحفے کے طور پر ایک چیز دی گئی تھی ، تو میں نے تحفہ قبول کر لیا ( سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں کچھ افراد کو زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجتا ہوں ، پھر ان میں سے کوئی ایک شخص آتا ہے ، اور یہ کہتا ہے : اللہ کی قسم ! نہ میں نے کوئی زیادتی کی ، اور نہ ہی میں نے آپ کے کسی حق کو چھوڑا ، لیکن مجھے تحفے کے طور پر ایک چیز دی گئی ، تو میں نے تحفہ قبول کر لیا ، وہ شخص اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھا رہا ؟ کہ وہ اس بات کا جائزہ لیتا کہ کون اسے تحفہ دیتا ہے ؟ تم لوگ اس بات سے بچنے کی کوشش کرو ، کہ کوئی شخص ( قیامت کے دن اس حال میں نہ ) آئے اور اس نے اپنی گردن پر اونٹ اٹھایا ہوا ہو ، جو آواز نکال رہا ہو ، یا گائے اُٹھائی ہوئی ہو ، جو ڈکرا رہی ہو ، یا بکری اٹھائی ہوئی ہو ، جو منمنا رہی ہو“ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔