حدیث نمبر: 4458
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي مُمْسِكٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ : هَلُمَّ عَنِ النَّارِ ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ ، وَتَغْلِبُونَنِي تَقَاحَمُونَ فِيهِ تَقَاحُمَ الْفَرَاشِ أَوِ الْجَنَادِبِ ، فَأُوشِكُ أَنْ أُرْسِلَ بِحُجَزِكُمْ وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، فَتَرِدُونَ عَلَيَّ مَعًا وَأَشْتَاتًا ، فَأَعْرِفُكُمْ بِسِيمَاكُمْ ، وَأَسْمَائِكُمْ كَمَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ الْغَرِيبَةَ مِنَ الْإِبِلِ فِي إِبِلِهِ ، وَيَذْهَبُ بِكُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَأُنَاشِدُ فِيكُمْ رَبَّ الْعَالَمِينَ فَأَقُولُ : أَيْ رَبِّ قَوْمِي ، أَيْ رَبِّ أُمَّتِي ، فَيَقُولُ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ، إِنَّهُمْ كَانُوا يَمْشُونَ بَعْدَكَ الْقُهْقَرَى عَلَى أَعْقَابِهِمْ ، فَلَا أَعْرِفَنَّ أَحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ شَاةً لَهَا ثُغَاءٌ ، فَيُنَادِي : يَا مُحَمَّدُ ، يَا مُحَمَّدُ ، فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا ، قَدْ بَلَّغْتُكَ . فَلَا أَعْرِفَنَّ أَحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ ، فَيُنَادِي : يَا مُحَمَّدُ ، يَا مُحَمَّدُ . فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُكَ . فَلَا أَعْرِفَنَّ أَحَدَكُمْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ فَرَسًا لَهَا حَمْحَمَةٌ ، فَيُنَادِي : يَا مُحَمَّدُ ، يَا مُحَمَّدُ . فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُكَ . فَلَا أَعْرِفَنَّ أَحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ سِقَاءً مَنْ أَدَمٍ يُنَادِي : يَا مُحَمَّدُ ، يَا مُحَمَّدُ . فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُكَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " يَحْمِلُ قَشْعًا " مَكَانَ : " سِقَاءً " . وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہارے ڈب کو پکڑ کر جہنم میں جانے سے روکتا ہوں ، کہ جہنم سے بچ جاؤ ، کہ جہنم سے بچ جاؤ ، تو تم لوگ میرے ق ابوسے نکل کر اس میں گرنے کی کوشش کرتے ہو ، جس طرح پتنگے اور کیڑے مکوڑے ( آگ میں گرتے ہیں عنقریب میں تمہاری ڈب کو چھوڑ دوں گا ( یعنی تم میرے ہاتھ سے پھسل جاؤ گے ) میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، تم میرے پاس اکٹھے اور الگ ، الگ ہو کر آؤ گے ، میں تمہاری مخصوص نشانی کے ذریعے تمہیں پہچان لوں گا ، اور تمہارے اسماء سے اس طرح واقف ہوؤں گا ، جس طرح کوئی شخص اپنے اونٹوں کے درمیان کسی اجنبی اونٹ کو پہچان لیتا ہے ، وہ تمہیں بائیں طرف لے جائیں گے اور میں تمہارے بارے میں تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کروں گا ، میں کہوں گا : اے میرے پروردگار ! یہ میری قوم ہے ، اے میرے پروردگار ! یہ میری امت ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے محمد ! تم نہیں جانتے ؟ کہ تمہارے بعد انہوں نے کیا تبدیلی کی تھی ؟ یہ لوگ تمہارے بعد اُلٹے قدموں پھر گئے تھے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) قیامت کے دن ، میں تم میں سے کسی ایک شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ اُس نے بکری اٹھائی ہوئی ہو ، جو آواز نکال رہی ہو ، اور وہ پکار کر کہے : اے سیدنا محمد ! اے سیدنا محمد ! ( میری مدد کریں ) اور میں یہ کہوں : میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا ، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی ، اور قیامت کے دن میں تم میں سے کسی ایک شخص کو ایسی حالت میں نہ پاؤں ، کہ اُس نے اونٹ اٹھایا ہوا ہو ، اور وہ آوازیں نکال رہا ہو ، اور وہ شخص کہے : اے سیدنا محمد ! اے سیدنا محمد ! ( میری مدد کریں ) اور میں یہ کہوں : میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا ، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی ، اور میں تم میں سے کسی ایک شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے ، تو اس نے گھوڑا اُٹھایا ہوا ہو ، جو آواز نکال رہا ہو ، وہ شخص پکار کر کہے : اے سیدنا محمد ! اے سیدنا محمد ! تو میں یہ کہوں : میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا ، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی ، میں تم میں سے کسی شخص کو قیامت کے دن ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ اُس نے چمڑے کا مشکیزہ اُٹھایا ہوا ہو ، اور وہ پکار رہا ہو : اے سیدنا محمد ! اے سیدنا محمد ! اور میں یہ کہوں کہ میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا ، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ( شاید درست لفظ امام طبرانی ہے ) نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ” مشکیزے کے لئے لفظ ” سقاء “ کی جگہ لفظ ” قشع “ نقل کیا ہے ، اور اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4458
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح