حدیث نمبر: 4460
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا يُصَدِّقُ يُقَالُ لَهُ : ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ ، فَصَدَّقَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَعَدَّيْتُ ، وَلَا تَرَكْتُ لَهُمْ حَقًّا ، وَلَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ فَقَبِلْتُ الْهَدِيَّةَ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ : إِنِّي أَبْعَثُ رِجَالًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَيَأَتِي أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ : وَاللَّهِ مَا تَعَدَّيْتُ وَلَا تَرَكْتُ لَهُمْ حَقًّا ، وَلَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ فَقَبِلْتُ الْهَدَيَّةَ ، أَلَا جَلَسَ فِي حِفْشِ أُمِّهِ فَيَنْظُرُ مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْدِي إِلَيْهِ ، إِيَّاكُمْ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ عَلَى عُنُقِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ ، أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ ، أَوْ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ " . ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى نُظِرَ إِلَى بَيَاضِ إِبِطَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَنِيفَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا ، اس کا نام ابن لتنبیہ تھا ، اس نے زکوۃ وصول کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے کوئی زیادتی نہیں کی اور ان لوگوں کے حق کو ترک نہیں کیا ، البتہ مجھے ایک چیز تحفے کے طور پر دی گئی تھی ، تو میں نے تحفہ قبول کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں کچھ لوگوں کو زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجتا ہوں ، پھر اُن میں سے کوئی شخص آتا ہے ، اور یہ کہتا ہے : اللہ کی قسم ! میں نے کوئی زیادتی نہیں کی ، اور اُن کے کسی بھی حق کو نہیں چھوڑا ، البتہ مجھے ایک تحفہ دیا گیا ، تو میں نے تحفہ قبول کر لیا ، وہ شخص اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھا رہا ؟ تاکہ اس بات کا جائزہ لیتا کہ کون اسے تحفہ دیتا ہے ؟ تم لوگ اس چیز سے بچنے کی کوشش کرو کہ ( قیامت کے دن ) تم میں سے ایک شخص اس حالت میں آئے کہ اس کی گردن پر اونٹ موجود ہو ، جو آواز نکال رہا ہو ، یا گائے موجود ہو جو ڈکرا رہی ہو ، یا بکری موجود ہو جو منمنا رہی ہو “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحنیفہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4460
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف