مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ التَّعَدِّي فِي الصَّدَقَةِ . باب: زکوۃ وصول کرنے میں زیادتی کرنا
وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ : جَلَسَ إِلَيْنَا شَيْخٌ فِي دُكَّانِ أَيُّوبَ فَسَمِعَ الْقَوْمَ يَتَحَدَّثُونَ فَقَالَ : حَدَّثَنِي مَوْلَايَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ : مَا اسْمُهُ ؟ قَالَ : قُرَّةُ بْنُ دُعْمُوصٍ النُّمَيْرِيُّ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَوْلَهُ النَّاسُ ، فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ فَلَمْ أَسْتَطِعْ فَنَادَيْتُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَغْفِرْ لِلْغُلَامِ النُّمَيْرِيِّ ، قَالَ : " غَفَرَ اللَّهُ لَكَ " ، قَالَ : وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ سَاعِيًا فَلَمَّا رَجَعَ رَجَعَ بِإِبِلٍ جِلَّةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَيْتَ هِلَالَ بْنَ عَامِرٍ ، وَنُمَيْرَ بْنَ عَامِرٍ ، وَعَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ ، فَأَخَذْتَ جِلَّةَ أَمْوَالِهِمْ ؟ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ الْغَزْوَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ آتِيَكَ بِإِبِلٍ جِلَّةٍ تَرْكَبُهَا وَتَحْمِلُ عَلَيْهَا . فَقَالَ : " وَاللَّهِ لَلَّذِي تَرَكْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِي أَخَذْتَ ، ارْدُدْهَا وَخُذْ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِهِمْ وَصَدَقَاتِهِمْ " . قَالَ : فَسَمِعْتُ الْمُسْلِمِينَ يُسَمُّونَ تِلْكَ الْإِبِلَ الْمَسَانَّ الْمُجَاهِدَاتِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤جریر بن حازم بیان کرتے ہیں : ایوب کے چبوترے پر ، ایک صاحب ہمارے پاس آ کر بیٹھے ، انہوں نے لوگوں کو بات چیت کرتے ہوئے سنا ، تو یہ بات بیان کی : میرے آقا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کی ہے ، میں نے ان سے دریافت کیا : اُن کا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : سیدنا قرہ بن دعموص نمیری رضی اللہ عنہ ، وہ بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، لوگ آپ کے ارد گرد موجود تھے ، میں آپ کے قریب ہونے کی کوشش کرنے لگا ، میں ایسا نہیں کر پایا ، تو میں نے آپ کو بلند آواز میں پکار کر کہا: یا رسول اللہ ! آپ نمیری فرد کے لئے دعائے مغفرت کیجیئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی تمہاری مغفرت کرے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کو زکوۃ وصول کرنے والے کے طور پر بھیجا ، جب وہ واپس آئے ، تو وہ عمدہ اونٹ لے کر آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ہلال بن عامر ، نمیر بن عامر اور عامر بن ربیعہ کے پاس گئے اور پھر تم نے ان کے بہترین اموال حاصل کر لئے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو سنا تھا کہ آپ کسی جنگ کا ذکر کر رہے تھے ، تو مجھے یہ بات اچھی لگی کہ میں آپ کے پاس عمدہ اونٹ لے کے آؤں ، تاکہ آپ اُن پر سوار ہو سکیں اور سواری کے لئے دے سکیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! جسے تم چھوڑ کے آئے ہو ، وہ میرے نزدیک ان سے زیادہ پسندیدہ ہیں جو تم نے وصول کیے ہیں ، تم انہیں واپس کر دو ! اور درمیانے درجے کے اموال اور صدقات حاصل کرو “ ۔ رادی کہتے ہیں : تو میں نے مسلمانوں کو سنا کہ انہوں نے ان اونٹوں کا نام ” مسان مجاہدات “ رکھا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔