مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ التَّعَدِّي فِي الصَّدَقَةِ . باب: زکوۃ وصول کرنے میں زیادتی کرنا
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمْ صَدَقَةُ كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : " كَذَا وَكَذَا " قَالَ : فَإِنَّ فُلَانًا تَعَدَّى عَلَيَّ قَالَ : فَنَظَرُوا فَوَجَدُوهُ قَدْ تَعَدَّى عَلَيْهِ بِصَاعٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ بِكُمْ إِذَا سَعَى عَلَيْكُمْ مَنْ يَتَعَدَّى عَلَيْكُمْ أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا وَزَادَ الطَّبَرَانِيُّ بَعْدَ قَوْلِهِ : " أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي " فَخَاضَ الْقَوْمُ وَبَهَرَهُمُ الْحَدِيثُ ، حَتَّى قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا كَانَ رَجُلٌ غَائِبٌ عَنْكَ فِي إِبِلِهِ وَمَاشِيَتِهِ وَزَرْعِهِ فَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَتُعُدِّيَ عَلَيْهِ فَكَيْفَ يَصْنَعُ ، وَهُوَ عَنْكَ غَائِبٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَ النَّفْسِ بِهَا يُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ ، فَلَمْ يُغَيِّبْ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ ، ثُمَّ أَدَّى الزَّكَاةَ ، فَتَعُدِّيَ عَلَيْهِ فِي الْحَقِّ فَأَخَذَ سِلَاحَهُ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں موجود تھے ، ایک شخص آیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں فلاں چیز کی زکوۃ کتنی بنے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اتنی اور اتنی بنے گی ، اس نے عرض کی : پھر فلاں شخص نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے ، راوی کہتے ہیں : جب ان لوگوں نے تحقیق کی ، تو پتہ چلا کہ اس نے ایک صاع کی زیادتی کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ جب تمہارے پاس وصولی کرنے والا ایسا شخص آئے گا ، جو اس زیادتی سے زیادہ زیادتی تمہارے ساتھ کرے گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس طرح نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اس روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اس زیادتی سے زیادہ زیادتی کرے گا ، تو وہ لوگ زیادہ پریشان ہو گئے اور اس بات نے انہیں پریشان کر دیا یہاں تک کہ ان میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس وقت کیا ہو گا کہ جب کوئی شخص آپ کو چھوڑ کر اپنے اونٹوں اور جانوروں میں ہو گا ، کھیتوں میں ہو گا ، اور پھر اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے گا اور پھر اس کے ساتھ زیادتی کی جائے گی ، تو اس وقت اسے کیا کرنا چاہیے جبکہ وہ آپ کے پاس موجود نہ ہو ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنی دلی خوشی کے ساتھ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے گا ، اور وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے حصول کا ارادہ رکھے گا ، اور اپنے مال میں سے کوئی بھی چیز نہیں چھپائے گا ، اور نماز قائم کرے گا ، اور زکوۃ ادا کرے گا ، پھر حق کے معاملے میں اس کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے ، تو اگر وہ اپنا ہتھیار لے کر جنگ کرتا ہے ، اور مارا جاتا ہے ، تو وہ شہید شمار ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس سب کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔