حدیث نمبر: 4445
وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَبِي النَّضْرِ قَالَ : جَلَسَ إِلَيَّ شَيْخٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فِي مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ وَمَعَهُ صَحِيفَةٌ فِي يَدِهِ قَالَ : وَذَاكَ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ ، فَقَالَ لِي : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، تَرَى هَذَا الْكِتَابَ مُغْنِيًا عَنِّي شَيْئًا عِنْدَ هَذَا السُّلْطَانِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : وَمَا هَذَا الْكِتَابُ ؟ قَالَ : هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَهُ لَنَا أَنْ لَا يُتَعَدَّى عَلَيْنَا فِي صَدَقَاتِنَا . قَالَ : قُلْتُ : لَا وَاللَّهِ مَا أَظُنُّ أَنْ يُغْنِيَ عَنْكَ شَيْئًا . وَكَيْفَ كَانَ شَأْنُ هَذَا الْكِتَابِ ؟ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ بِإِبِلٍ لَنَا نَبِيعُهَا ، وَكَانَ أَبِي صَدِيقًا لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيِّ فَنَزَلْنَا الْمَدِينَةَ ، فَقَالَ لَهُ أَبِي : اخْرُجْ مَعِي فَبِعْ لِي إِبِلِي هَذِهِ قَالَ : فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَكِنْ سَأَخْرُجُ مَعَكَ وَأَجْلِسُ ، وَتَعْرِضُ إِبِلَكَ ، فَإِذَا رَضِيتَ مِنْ رَجُلٍ وَفَاءً وَصِدْقًا مِمَّنْ سَاوَمَكَ أَمَرْتُكَ بِبَيْعِهِ . قَالَ : فَخَرَجْنَا إِلَى السُّوقِ فَوَقَّفْنَا ظُهْرَنَا ، وَجَلَسَ طَلْحَةُ قَرِيبًا ، فَسَاوَمَنَا الرِّجَالُ حَتَّى إِذَا أَعْطَانَا رَجُلٌ مَا نَرْضَى قَالَ لَهُ أَبِي : أُبَايِعُهُ ؟ قَالَ : بِعْهُ ، قَدْ رَضِيتُ لَكُمْ وَفَاءً فَبَايِعُوهُ . فَبَايَعْنَاهُ فَلَمَّا قَبَضْنَا مَالَنَا ، وَفَرَغْنَا مِنْ حَاجَتِنَا ، قَالَ أَبِي لِطَلْحَةَ : خُذْ لَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا أَنْ لَا يُعْتَدَى عَلَيْنَا فِي صَدَقَاتِنَا قَالَ : فَقَالَ : هَذَا لَكُمْ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ . قَالَ : عَلَى ذَلِكَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ عِنْدِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابٌ ، قَالَ : فَخَرَجَ حَتَّى جَاءَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ صَدِيقٌ لَنَا ، يُرِيدُ أَنْ يَكُونَ لَهُ كِتَابٌ أَنْ لَا يُتَعَدَّى عَلَيْهِ فِي صَدَقَتِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا لَهُ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ قَدْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ عِنْدَهُ مِنْكَ كِتَابٌ عَلَى ذَلِكَ . قَالَ : فَكَتَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْكِتَابَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ النَّهْيَ عَنْ بَيْعِ الْحَاضِرِ لِلْبَادِي عَنْ طَلْحَةَ فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سالم بن ابوامیہ ابونضر بیان کرتے ہیں : بنوتمیم سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ میرے پاس مسجد بصرہ میں بیٹھے ، اُن کے پاس ان کے ہاتھ میں ایک صحیفہ موجود تھا ، راوی کہتے ہیں : یہ حجاج کے زمانے کی بات ہے ۔ انہوں نے مجھ سے کہا: اے اللہ کے بندے ! کیا تم یہ سجھتے ہو کہ یہ تحریر مجھے اس حکمران کے پاس کسی چیز میں کام آ سکتی ہے ؟ میں نے کہا: یہ تحریر کیا ہے ؟ انہوں نے کہا: یہ اللہ کے رسول کا مکتوب ہے ، جو آپ نے ہمارے لئے تحریر کیا تھا کہ ہماری زکوۃ کے بارے میں ہمارے ساتھ زیادتی نہ کی جائے راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میرا نہیں خیال کہ یہ آپ کے کسی کام آ سکے گی ، ویسے اس تحریر کا معاملہ کیا ہے ؟ تو ان صاحب نے بتایا : میں اپنے والد کے ساتھ مدینہ منورہ آیا ، میں اُن دنوں لڑکا تھا ، ہم اپنا اونٹ لے کے آئے تھے ، جسے ہم فروخت کرنا چاہتے تھے ، میرے والد سیدنا طلحہ بن عبیداللہ تمیمی رضی اللہ عنہ کے دوست تھے ، ہم نے مدینہ منور میں پڑاؤ کیا ، میرے والد نے اُن سے کہا: آپ میرے ساتھ چلیں اور میرا یہ اونٹ فروخت کروا دیں ، تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے ، کہ شہری شخص دیہاتی شخص کی کوئی چیز فروخت کروائے ، البتہ میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں ، میں بیٹھ جاؤں گا ، اور تم اپنے اونٹ کو بیچنا ، جب تم کسی شخص سے راضی ہو کہ جو تمہاری پسند کے مطابق بھاؤ دے رہا ہو ، تو پھر میں تمہیں اُسے فروخت کرنے کی ہدایت کر دوں گا ، راوی کہتے ہیں : ہم لوگ بازار کی طرف گئے ، ہم نے اپنے جانور کھڑے کیے ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ قریب بیٹھ گئے ، مختلف لوگوں نے ہمارے ساتھ بھاؤ تاؤ کیا ، یہاں تک کہ جب ایک شخص نے ہمیں ہماری پسند کی قیمت دینے کا طے کیا ، تو میرے والد نے اُن سے دریافت کیا : کیا میں اسے فروخت کر دوں ؟ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اسے فروخت کر دو ، میں تمہاری ادائیگی سے راضی ہوں ، تم اس کے ساتھ سودا کر لو ، ہم نے اس شخص کے ساتھ سودا کر لیا ، جب ہم نے اپنا مال قبضے میں لیا اور اپنے کام سے فارغ ہو گئے ، تو میرے والد نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی تحریر لے دیں کہ ہماری زکوۃ کے بارے میں ہمارے ساتھ زیادتی نہ کی جائے تو انہوں نے کہا: یہ سہولت ، تو تمہیں اور ہر مسلمان کو حاصل ہے ، تو میرے والد نے کہا: ( میں یہ چاہتا ہوں ) میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی تحریر ہونی چاہیے ، راوی کہتے ہیں : پھر وہ نکلے ، یہاں تک کہ ہمیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ شخص دیہاتی علاقے کا رہنے والا ہے ، میرا دوست ہے ، یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس یہ تحریر ہو کہ زکوة کے بارے میں اس کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ حق ، تو اس کو اور ہر مسلمان کو حاصل ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ چاہتا ہے کہ آپ کی طرف سے اس بارے میں کوئی تحریر ہو ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ تحریر لکھوا کے دیدی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے ، جو شہری کے دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت کرنے کے بارے میں ہے ، یہ روایت سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔ یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4445
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى المسند (1404)»