مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ دَفْعِ الصَّدَقَاتِ إِلَى الْأُمَرَاءِ . باب: زکوۃ اُمراء کو ادا کرنا
حدیث نمبر: 4427
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَمَرْتَنَا بِالزَّكَاةِ زَكَاةَ الْفِطْرِ فَنَحْنُ نُؤَدِّيهَا ، فَكَيْفَ بِنَا إِنْ أَدْرَكْنَا وُلَاةً لَا يَضَعُونَهَا مَوَاضِعَهَا ؟ قَالَ : " أَدُّوهَا إِلَى وُلَاتِكُمْ ; فَإِنَّهُمْ يُحَاسَبُونَ بِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : آپ نے ہمیں زکوۃ یعنی صدقہ فطر کی ادائیگی کا حکم دیا ہے ہم نے اسے ادا کر دیا اس وقت ہمارا کیا بنے گا ؟ جب ہمیں ایسے حکمران ملیں گے کہ جو اس کو صحیح جگہ استعمال نہیں کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے متعلقہ افراد کو ادا کر دینا ، اُن لوگوں سے اس کے حوالے سے حساب لیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحکیم بن عبداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔