مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ رِضَاءُ الْمُصَدِّقِ . باب: زکوۃ وصول کرنے والے کا راضی ہونا
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَيَأْتِيكُمْ رَكْبٌ مُبْغَضُونَ ; فَإِذَا جَاؤُوكُمْ فَرَحِّبُوا بِهِمْ وَخَلُّوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَبْغُونَ ، فَإِنْ عَدَلُوا فَلِأَنْفُسِهِمْ وَإِنْ ظَلَمُوا فَعَلَيْهَا ، وَأَرْضُوهُمْ ، فَإِنَّ تَمَامَ زَكَاتِكُمْ رِضَاهُمْ ، وَلْيَدْعُوا لَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب تمہارے پاس ایسے سوار آئیں گے ، جو دھوکے کا شکار ہوں گے ، جب وہ تمہارے پاس آئیں ، تو تم انہیں خوش آمدید کہنا اور جو وہ چاہتے ہیں ، انہیں ایسا کرنے دینا ، اگر وہ انصاف سے کام لیں گے ، تو یہ ان کے حق میں بہتر ہو گا ، اور اگر وہ ظلم کریں گے تو اس کا وبال ان پر ہو گا ، تم انہیں راضی کر دینا ، کیونکہ تمہاری زکوۃ کی تکمیل میں ان کی رضامندی بھی شامل ہے ، اور انہیں چاہیے کہ وہ تمہارے لئے دعا کریں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، ان میں سے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔