حدیث نمبر: 4392
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : قَالَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ ، وَكَانَ شَابًّا : وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَنِي أَفْضَلَهُمْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ، وَقَدْ فَضَلْتُهُمْ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أَمَّرْتُكَ عَلَى أَصْحَابِكَ وَأَنْتَ أَصْغَرُهُمْ . فَإِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا فَأُمَّهُمْ بِأَضْعَفِهِمْ ، فَإِنَّ وَرَاءَكَ الْكَبِيرَ ، وَالصَّغِيرَ ، [ وَالضَّعِيفَ ] ، وَذَا الْحَاجَةِ ، وَإِذَا كُنْتَ مُصَدِّقًا فَلَا تَأْخُذِ الشَّافِعَ وَهِيَ الْمَاخِضُ ، وَلَا الرُّبَّى ، وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ ، وَجَزَرَةُ الرَّجُلِ هُوَ أَحَقُّ بِهَا مِنْكَ ، وَلَا تَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا وَأَنْتَ طَاهِرٌ . وَاعْلَمْ أَنَّ الْعُمْرَةَ هِيَ الْحَجُّ الْأَصْغَرُ ، وَإِنَّ عُمْرَةً [ هِيَ ] خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَحَجَّةً خَيْرٌ مِنْ عُمْرَةٍ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ قِصَّةُ الْإِمَامَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ ، وَوَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے ، جب وہ نوجوان تھے ، تو اس وقت ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی وفد کی شکل میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پایا کہ مجھے اُن سب میں زیادہ قرآن آتا ہے ، یہاں تک کہ اُن سب میں سے صرف مجھے سورۃ بقرہ آتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں تمہارے ساتھیوں کا امیر مقرر کرتا ہوں حالانکہ تم ان سے عمر میں سب سے کم ہو ، جب تم لوگوں کی امامت کرو ، تو تم ان کے سب سے کمزور فرد کے حساب سے اُن کی امامت کرنا ، کیونکہ تمہارے پیچھے بڑی عمر کے ، چھوٹے ، کمزور ، کام کاج والے لوگ ہوں گے ، اور جب تم زکوۃ وصول کرو ، تو حاملہ ، یا جس جانور کو اپنے استعمال کا دودھ حاصل کرنے کے لیے پالا گیا ہو ، یا بکرے ، ان کو وصول نہ کرنا ، اور آدمی نے جس کو اپنے کھانے کے لیے پالا ہو ، اس کا وہ تم سے زیادہ حق دار ہو گا ، تم قرآن کو صرف باوضو حالت میں چھونا ، اور یہ بات جان لینا ، عمرہ ، حج اصغر ہے ، اور عمرہ ، دنیا اور اس میں موجود سب چیزوں سے زیادہ بہتر ہے ، اور حج کرنا ، عمرہ سے بھی بہتر ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس میں سے امامت والا واقعہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن سلیمان ہے ، جسے ائمہ کی ایک جماعت نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4392
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8336)»