مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي بَيَانِ الزَّكَاةِ . باب: زکوۃ کا بیان
حدیث نمبر: 4393
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " نِعْمَ الْإِبِلُ الثَّلَاثُونَ يُخْرَجُ فِي زَكَاتِهَا وَاحِدَةٌ ، وَيَرْحَلُ مِنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاحِدَةٌ ، وَيُمْنَحُ مِنْهَا وَاحِدَةٌ ، هِيَ خَيْرٌ مِنَ الْأَرْبَعِينَ ، وَالْخَمْسِينَ ، وَالسِّتِّينَ ، وَالثَّمَانِينَ ، وَالتِّسْعِينَ ، وَالْمِائَةِ ، وَوَيْلٌ لِصَاحِبِ الْمِائَةِ مِنَ الْمِائَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تیس اونٹ اچھے ہوتے ہیں ، اُن کی زکوۃ میں ایک نکل جاتا ہے ، اور ان میں سے ایک پر اللہ تعالیٰ کی راہ میں سامان لادا جاتا ہے ، ان میں سے ایک کو عطیہ کے طور پر دیا جاتا ہے ، یہ چالیس اور پچاس اور ساٹھ اور اسی اور نوے اور سو سے بہتر ہیں اور ایک سو اونٹوں کے مالک کے لئے اونٹوں کے حوالے سے بربادی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔