مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي بَيَانِ الزَّكَاةِ . باب: زکوۃ کا بیان
وَعَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ قَرَأَ كِتَابَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَنَّهُ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَيْءٌ . فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى تِسْعٍ . فَإِذَا كَانَتْ عَشْرًا فَشَاتَانِ إِلَى أَرْبَعَ عَشْرَةَ . فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ فَفِيهَا ثَلَاثٌ إِلَى تِسْعَ عَشْرَةَ . فَإِذَا بَلَغَتِ الْعِشْرِينَ فَأَرْبَعٌ إِلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ . فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ . فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ . فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى السِّتِّينَ . فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى التِّسْعِينَ . فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ . فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ . ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ . وَلَيْسَ فِي الْغَنَمِ شَيْءٌ فِيمَا دُونَ الْأَرْبَعِينَ . فَإِذَا بَلَغَتِ الْأَرْبَعِينَ فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ . فَإِذَا زَادَتْ فَشَاتَانِ إِلَى الْمِائَتَيْنِ . فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الْمِائَتَيْنِ فَثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى الثَّلَاثِ مِائَةٍ . فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الثَّلَاثِ مِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وِجَادَةً كَمَا تَرَاهُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤نافع بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا مکتوب پڑھا ( جس میں یہ تحریر تھا : ) ” پانچ سے کم اونٹوں میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی ، جب وہ پانچ ہو جائیں ، تو نو تک میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ، جب وہ دس ہو جائیں ، تو چودہ تک میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، جب وہ پندرہ ہو جائیں تو ان میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہ حکم اُنیس تک کے لئے ہے ، جب وہ بیس تک پہنچ جائیں ، تو چوبیس تک میں چار بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، جب وہ پچیس تک پہنچ جائیں ، تو پینتیس تک میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی ، جب وہ زیادہ ہو جائیں تو پینتالیس تک میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، اور جب وہ زیادہ ہو جائیں ، تو ساٹھ تک میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، جب وہ زیادہ ہو جائیں ، تو نوے تک میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، جب وہ زیادہ ہو جائیں ، تو ایک سو بیس تک میں دو حقوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، جب وہ زیادہ ہو جائیں ، تو ہر پچاس میں ایک حقہ کی اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، چالیس سے کم بکریوں میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی ، جب وہ چالیس ہو جائیں ، تو ایک سو بیس تک میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ، جب وہ زیادہ ہو جائیں ، تو دو سو تک میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، جب وہ دو سو سے زیادہ ہو جائیں ، تو تین سو تک میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر وہ تین سو سے بھی زیادہ ہوں ، تو ہر ایک سو میں ، ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ” وجادہ “ کے طور پر نقل کی ہے ۔ جیسا کہ آپ اسے ملاحظہ کر رہے ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔