حدیث نمبر: 4384
عَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ بِكِتَابٍ فِيهِ الْفَرَائِضُ ، وَالسُّنَنُ ، وَالدِّيَاتُ ، وَبَعَثَ بِهِ عَمْرَو بْنَ حَزْمٍ ، فَقُرِئَتْ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَهَذِهِ نُسْخَتُهَا : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى شُرَحْبِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ ، وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ ، وَنُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ قَيْلِ ذِي رُعَيْنٍ ، وَمَغَافِرَ ، وَهَمْدَانَ . أَمَّا بَعْدُ : فَقَدْ رَجَعَ رَسُولُكُمْ ، وَأُعْطِيتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ خُمْسَ اللَّهِ ، وَمَا كَتَبَ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْعُشْرِ فِي الْعَقَارِ ، وَمَا سَقَتِ السَّمَاءُ ، أَوْ كَانَ سَبْخًا ، أَوْ كَانَ بَعْلًا فِيهِ الْعُشْرُ إِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ ، وَفِي كُلِّ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ سَائِمَةٍ شَاةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ . فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلَاثِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ السِّتِّينَ فَإِنْ زَادَتْ عَلَى سِتِّينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَسَبْعِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ تِسْعِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةً طَرُوقَةُ الْجَمَلِ ، وَفِي كُلِّ ثَلَاثِينَ بَاقُورَةً بَقَرَةٌ جَذَعٌ أَوْ جَذَعَةٌ ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَاقُورَةً بَقَرَةٌ ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً سَائِمَةً شَاةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً . فَإِنْ زَادَتْ عَلَى الْعِشْرِينَ وَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا شَاتَانِ ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ ثَلَاثَمِائَةٍ ، فَإِنْ زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ . ¤ وَلَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ مُحْفِلَةٌ وَلَا هَرِمَةٌ وَلَا عَجْفَاءُ وَلَا ذَاتُ عُوَارٍ ، وَلَا تَيْسُ الْغَنَمِ ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعِ حَسَنَةُ الصَّدَقَةِ ، وَمَا أُخِذَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ ، وَفِي كُلِّ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ ، وَمَا زَادَ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ . وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ شَيْءٌ . وَفَى كُلِّ أَرْبَعِينَ دِينَارًا دِينَارٌ . وَالصَّدَقَةُ لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِأَهْلِ بَيْتِهِ ، إِنَّمَا هِيَ الزَّكَاةُ تُزَكَّى بِهَا أَنْفُسُهُمْ وَلِلْفُقَرَاءِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَا فِي رَقِيقٍ ، وَلَا فِي مَزْرَعَةٍ ، وَلَا عُمَّالِهَا شَيْءٌ إِذَا كَانَتْ تُؤَدَّى صَدَقَتُهَا مِنَ الْعُشْرِ ، وَإِنَّهُ لَيْسَ فِي عَبْدٍ مُسْلِمٍ وَلَا فِي فَرَسِهِ شَيْءٌ " . ¤ وَكَانَ فِي الْكِتَابِ : " أَنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : إِشْرَاكٌ بِاللَّهِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُؤْمِنَةِ بِغَيْرِ حَقٍّ ، وَالْفِرَارُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَوْمَ الزَّحْفِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَرَمْيُ الْمُحْصَنَةِ ، وَتَعَلُّمُ السِّحْرِ ، وَأَكْلُ الرِّبَا ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ ، وَإِنَّ الْعُمْرَةَ الْحَجُّ الْأَصْغَرُ ، وَلَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ ، وَلَا طَلَاقَ قَبْلَ أَمْلَاكٍ ، وَلَا عَتَاقَ حَتَّى تَبْتَاعَ ، وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَشِقُّهُ بَادٍ ، وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ عَاقِصًا شَعْرَهُ " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَبَقِيَّتُهُ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَسِيُّ ; وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَتَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ مَعِينٍ ، وَقَالَ أَحْمَدُ : إِنَّ الْحَدِيثَ صَحِيحٌ . قُلْتُ : وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کی طرف ایک مکتوب لکھا تھا ، جس میں فرائض ، سنن اور دیت سے متعلق احکام تھے ، آپ نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے ہمراہ وہ خط بھیجا تھا ، وہ خط اہل یمن کے سامنے پڑھا گیا ، اُس کے الفاظ یہ ہیں : ” اللہ تعالی کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ سیدنا محمد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شرحبیل بن عبد کلال ، حارث بن عبد کلال ، نعیم بن عبد کلال اور ذی معافر اور ہمدان قبیلے کے اکابرین کی طرف ہے : امابعد ! تمہارا قاصد واپس آیا ، اور تمہیں جو مال غنیمت عطا کیا گیا ، اس میں سے پانچواں حصہ ، اللہ تعالی کے لئے ہے ، اور وہ چیز ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر عشر لازم کیا ہے ، جو زمین کی پیدوار کے حوالے سے ہے ، وہ زمین جو بارش کے ذریعے سیراب ہو ، یا جو چشمے والی ہو ، یا جو بارانی ہو ، ( یعنی ہر وہ زمین جو قدرتی طریقے سے سیراب ہوتی ہو ) اس میں عشر لازم ہو گا ، جبکہ اس کی پیداوار پانچ وسق تک پہنچ جائے ، اور ہر پانچ سائمہ اونٹوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہاں تک کہ وہ چوبیس تک پہنچ جائیں ، اگر چوبیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر بنت مخاض نہیں ملتی ہے ، تو ابن لبون مذکر کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہ حکم پینتیس تک ہے ، اگر وہ پینتیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو اس میں بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہ حکم پینتالیس تک ہے ، اگر وہ پینتالیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں ، تو اس میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، جس کو جفتی کے لئے دیا جا سکے ، یہ حکم ساٹھ تک ہے ، اگر وہ ساٹھ سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں ، تو ان میں جزعہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہاں تک کہ وہ پچھتر تک پہنچ جائیں ، اگر وہ پچھتر سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں ، تو اُن میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہاں تک کہ وہ نوے تک پہنچ جائیں ، اگر وہ ایک بھی زیادہ ہو جائیں ، تو ان میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، جو جفتی کے لئے دیے جا سکیں ، یہ حکم ایک سو بیس تک کے لئے ہو گا ۔ اگر ایک سو بیس سے زیادہ ہو جائیں ، تو ہر چالیس میں ایک بنت لبون کی ، اور ہر پچاس میں ایک حقہ کی ، جسے جفتی کے لئے دیا جا سکے ، ادائیگی لازم ہو گی ، اور ہر تیس گائیوں میں ایک گائے کی ادائیگی لازم ہو گی ، جو جزع یا جزعہ ہو ، اور ہر چالیس گائیوں میں ایک گائے کی ادائیگی لازم ہو گی ، اور ہر چالیس بکریوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہاں تک کہ وہ ایک سو بیس تک پہنچ جائیں ، اگر وہ ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں ، تو ان میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہاں تک کہ وہ دو سو تک پہنچ جائیں اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو ان میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہاں تک کہ وہ تین سو تک پہنچ جائیں ، اگر وہ زیادہ ہو جائیں تو ہر ایک سو بکریوں میں ، ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ۔ زکوۃ میں کوئی ایسا جانور وصول نہیں کیا جائے گا ، جو محفلہ ( وہ مادہ جانور ، جس کا دودھ کچھ دن تک نہ دوہا گیا ہو ، تاکہ یہ ظاہر ہو کہ وہ زیادہ دودھ دینے والا جانور ہے ) ہو ، بوڑھا ہو ، لنگڑا ہو ، کانا ہو ، یا نر بکرا ہو ، اور ( زکوۃ کی وصولی کے لئے ) متفرق مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا ، اور اکٹھے مال کو متفرق نہیں کیا جائے گا ، اچھے طریقے سے زکوۃ وصول کی جائے گی جو چیز دو حصے داروں سے لی جائے گی ، تو وہ اُن دونوں کے درمیان برابری کی بنیاد پر تقسیم ہو گی ۔ چاندی کے پانچ اوقیہ میں ، پانچ درہم کی ادائیگی لازم ہو گی ، جو اُس سے زیادہ ہو ، تو ہر چالیس درہموں میں ایک درہم کی ادائیگی لازم ہو گی ، اور جو چاندی پانچ اوقیہ سے کم ہو ، اس میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی ، ہر چالیس دینار میں ایک دینار کی ادائیگی لازم ہو گی ، اور صدقہ ( یعنی زکوۃ ) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اس کے اہل بیت کے لئے حلال نہیں ہے ، یہ زکوۃ ہے ، جس کے ذریعے اُن لوگوں کے وجود پاک کیے جاتے ہیں اور یہ غریب مومنین کے لئے ہو گی ، اللہ کی راہ میں خرچ ہو گی ، غلاموں کو ( آزاد کرنے ) کے لئے خرچ نہیں ہو گی ، یہ کھیتی باڑی میں خرچ نہیں ہو گی ، اور نہ ہی اس کی وصولی کے اہلکاروں کو کچھ دیا جائے گا ، جبکہ ” عشر “ میں سے اس کی زکوۃ ادا کر دی گئی ہو ، اور مسلمان کے غلام ، یا اس کے گھوڑے میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی “ ۔ اس مکتوب میں یہ بات بھی تحریر تھی : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے بڑا کبیرہ گناہ ، کسی کو اللہ کا شریک قرار دینا ، کسی مؤمن جان کو ناحق طور پر قتل کرنا ، اللہ کی راہ میں میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، پاک دامن عورت پر الزام لگانا ، جادو سیکھنا ، سود کھانا ، یتیم کا مال کھانا ہے ، اور عمرہ ، حج اصغر ہے ، اور قرآن کو باوضو شخص ہاتھ لگائے گا ، اور ملکیت حاصل ہونے سے پہلے طلاق نہیں دی جا سکتی ، اور غلام آزاد نہیں کیا جا سکتا ، جب تک تم اُسے خرید نہیں لیتے ، اور کوئی بھی شخص ایسی حالت میں ایک کپڑے میں نماز ادا نہ کرے کہ اُس کا ایک پہلو ظاہر ہو رہا ہے ، اور کوئی بھی شخص ایسی حالت میں نماز ادا نہ کرے ، کہ اُس نے بالوں کا جوڑا بنایا ہوا ہو “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، اور اس روایت کا کچھ حصہ امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد حرسی ہے ، جسے امام أحمد نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، یحیی بن معین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ، امام أحمد کہتے ہیں : یہ حدیث مستند ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4384
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4385
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَدَخَلَ أَبُو ذَرٍّ الْمَسْجِدَ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ سَارِيَةٍ ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : كَيْفَ أَنْتَ ؟ ثُمَّ وَلَّى وَاسْتَفْتَحَ : ( أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ) ، وَكَانَ رَجُلًا صَلْبَ الصَّوْتِ . فَرَفَعَ صَوْتَهُ فَارْتَجَّ الْمَسْجِدُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقُلْتُ : يَا أَبَا ذَرٍّ - أَوْ قَالَ لَهُ النَّاسُ - حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " فِي الْإِبِلِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا " . قَالَ أَبُو عَاصِمٍ : وَأَظُنُّهُ قَالَ : " فِي الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْبُرِّ صَدَقَتُهُ ، وَفِي الذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةِ ، وَالتِّبْرِ صَدَقَتُهُ ، وَمَنْ جَمَعَ مَالًا فَلَمْ يُنْفِقْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَفِي الْغَارِمِينَ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، فَهُوَ كَيَّةٌ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ [ قُلْتُ ] : يَا أَبَا ذَرٍ ، اتَّقِ اللَّهَ ، وَانْظُرْ مَا تَقُولُ ، فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ كَثُرَتِ الْأَمْوَالُ فِي أَيْدِيهِمْ ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي انْتَسِبْ لِي . فَانْتَسَبْتُ لَهُ ، قَالَ : قَدْ عَرَفْتُ نَسَبَكَ الْأَكْبَرَ ، قَالَ : أَفَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : اقْرَأْ ( وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . قَالَ : فَافْقَهْ إِذًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِطُولِهِ ، وَرَوَى أَحْمَدُ طَرَفًا مِنْهُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں موجود تھا ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے ، انہوں نے ایک ستون کے پاس دو رکعات ادا کیں ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان سے دریافت کیا : آپ کیا حال ہے ؟ پھر وہ مڑ گئے اور انہوں نے سورت الهاکم التکاثر پڑھنی شروع کی ، وہ ایک ایسے شخص تھے جن کی آواز بھاری تھی ، وہ بلند آواز میں پڑھنے لگے ، تو مسجد میں گونج پیدا ہوئی ، پھر وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ، تو میں نے کہا: اے سیدنا ابوذر غفاری ! ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) لوگوں نے اُن سے کہا: آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے ، جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، تو انہوں نے یہ بات بتائی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اونٹوں میں اُن کی زکوۃ لازم ہو گی ، اور بکریوں میں ان کی زکوۃ لازم ہو گی ۔ ابوعاصم نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا : گائیوں میں ان کی زکوۃ لازم ہو گی ، گندم میں اس کی زکوۃ لازم ہو گی ، سونے اور چاندی اور خالص سونے میں اس کی زکوۃ لازم ہو گی ، جو شخص مال جمع کرے گا ، اور اسے اللہ کی راہ میں ، مقروضوں ، اور مسافروں ( کی مدد میں ) خرچ نہیں کرے گا ، تو یہ چیز قیامت کے دن اُس کے لئے داغ لگنے کا باعث ہو گی“ ۔ میں نے کہا: اے سیدنا ابوذر غفاری ! آپ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور آپ یہ جائزہ لیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ کیونکہ لوگوں کے پاس تو اموال بہت زیادہ ہو گئے ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم میرے سامنے اپنا نسب بیان کرو ، میں نے ان کے سامنے اپنا نسب بیان کیا ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے تمہارے نسب کو پہچان لیا ہے ، کیا تم نے قرآن پڑھا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : پھر تم یہ آیت پڑھو : ” وہ لوگ جو سونے اور چاندی کا خزانہ اکھٹے کرتے ہیں ، اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ انہوں نے اسے آیت کے آخر تک پڑھا ، پھر انہوں نے فرمایا : تم سمجھ جاؤ ۔
یہ روایت امام بزار نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4385
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى المسند (35/3)»
حدیث نمبر: 4386
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَنَّ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرَ ، وَمَا سُقِيَ بِالنَّوَاضِحِ نِصْفَ الْعُشْرِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنت مقرر کی ہے کہ جس زمین کو آسمان ( یعنی بارش ) ، یا چشموں کے ذریعے سیراب کیا جائے ، اُس میں عشر کی ادائیگی لازم ہو گی ، اور جسے اونٹنی پر پانی لا کر سیراب کیا جائے ، اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم ہو گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4386
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4387
وَعَنْ قَزَعَةَ قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، وَهُوَ مَكْنُوزٌ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ قُلْتُ : إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ عَنْهُ هَؤُلَاءِ . قَالَ : وَسَأَلْتُهُ عَنِ الزَّكَاةِ . فَقَالَ : - لَا أَدْرِي أَرَفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَمْ لَا - : " فِي مِائَةِ دِرْهَمٍ خَمْسَةُ الدَّرَاهِمِ ، وَفَى أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْ ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ ، وَفِي الْإِبِلِ فِي خَمْسٍ شَاةٌ ، وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ ، وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا [ ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا حُقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا ] جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ . فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قزعہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُن کے پاس بہت سے لوگ موجود تھے ، جب لوگ ان کے پاس سے چلے گئے ، تو میں نے ان سے کہا: میں آپ سے اُس چیز کے بارے میں دریافت نہیں کروں گا ، جس کے بارے میں یہ ( لوگ ) آپ سے دریافت کر رہے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اُن سے زکوٰۃ کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے جواب دیا : راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ کیا انہوں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کر کے بیان کی تھی ؟ یا نہیں ؟ ( انہوں نے بتایا : ) ” ایک سو درہموں میں پانچ درہم کی ادائیگی لازم ہو گی ، چالیس بکریوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہ حکم ایک سو بیس تک کے لئے ہے ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو ان میں دو سو تک دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر زیادہ ہو جائیں ، تو تین سو تک میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر زیادہ ہو جائیں ، تو ہر ایک سو میں ، ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ، اونٹوں میں پانچ میں ، ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ، دس میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، پندرہ میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، بیس میں چار بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، پچیس میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہ حکم پینتیس تک کے لئے ہے ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے تو پینتالیس تک میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو ساٹھ تک میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو پچھتر تک میں ایک جذعہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہوئے ، تو نوے تک میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو ایک سو بیس تک میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے تو ہر پچاس میں ایک حقہ کی ، اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4387
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4388
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ فِي سُنَّةِ الصَّدَقَاتِ : " فِي أَرْبَعِينَ شَاةً إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ . فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ . وَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ . فَإِنْ كَثُرَتِ الْغَنَمُ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ " . ¤ وَكَتَبَ فِي صَدَقَةِ الْبَقَرِ : " فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً جَذَعَةٌ ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً مُسِنَّةٌ " . ¤ وَكَتَبَ فِي صَدَقَةِ الْإِبِلِ : " فِي خَمْسٍ شَاةٌ ، وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ ، وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ إِلَى سِتِّينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسَةٍ وَسَبْعِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَحِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَإِنْ كَثُرَتِ الْإِبِلُ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ " . ¤ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقات کے احکام میں اپنے عاملین کی طرف یہ تحریر کیا تھا : ” چالیس بکریوں سے لے کے ایک سو بیس تک میں ( ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ) اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو دو سو تک میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو تین سو تک میں تین ( یعنی بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ) اگر بکریاں زیادہ ہو جائیں ، تو ہر ایک سو بکریوں میں ، ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گائیوں کی زکوۃ میں یہ تحریر کیا تھا : ہر تیس گائیوں میں ، ایک جذعہ اور ہر چالیس گائیوں میں ایک ممنہ کی ادائیگی لازم ہو گی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کی زکوۃ میں یہ تحریر کیا تھا : پانچ اونٹوں میں ایک بکری کی ، دس اونٹوں میں دو بکریوں کی ، پندرہ اونٹوں میں تین بکریوں کی ، بیس اونٹوں میں چار بکریوں کی ، اور پچیس اونٹوں میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہ حکم پینتیس تک کے لئے ہے ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو پنتالیس تک ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، جسے جفتی کے لئے دیا جا سکے ، یہ حکم ساتھ تک کے لئے ہے ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو پچھتر تک میں ایک جذعہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو نوے تک میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے تو ایک سو بیس تک میں دو حقوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر اونٹ زیادہ ہو جائیں ، تو ہر پچاس میں ایک حقہ کی اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ۔
یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، محمد بن اسماعیل بن عبداللہ کے حوالے سے ، اُن کے والد سے نقل کی ہیں اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4388
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4389
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : لَمْ يَأْمُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوْقَاصِ الْبَقَرِ شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : لَكِنَّهُ مُرْسَلٌ ; لِأَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ طَاوُسٍ عَنْ مُعَاذٍ ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گائیوں میں ” اوقاص “ کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا تھا ( اس کی وضاحت اگلی روایت میں آئے گی ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : تاہم یہ روایت ” مرسل “ ہے ، کیونکہ اسے طاؤس نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، اور طاؤس نے ان سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4389
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
حدیث نمبر: 4390
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً ، جَذَعًا أَوْ جَذَعَةً ، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً مُسِنَّةً . قَالُوا : فَالْأَوْقَاصُ ؟ قَالَ : مَا أَمَرَنِي فِيهَا بِشَيْءٍ ، وَسَأَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمْتُ . فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ فَقَالَ : " لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ " . ¤ قَالَ : قَالَ الْمَسْعُودِيُّ : [ وَ ] الْأَوْقَاصُ : مَا بَيْنَ الثَّلَاثِينَ إِلَى الْأَرْبَعِينَ ، وَالْأَرْبَعِينَ إِلَى السِّتِّينَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَقَالَ : لَمْ يُتَابِعْ بَقِيَّةَ أَحَدٌ عَلَى رَفْعِهِ إِلَّا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، وَالْحَسَنُ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ طَاوُسٍ مُرْسَلًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا ، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ہر تیس گائیوں میں ایک تبیع یا تبیعہ ، یا ایک جذع یا جذعہ وصول کریں ، اور ہم چالیس گائیوں میں ایک مسنہ وصول کریں ، لوگوں نے عرض کی : ” اوقاص “ کیا حکم ہو گا ؟ تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے بتایا : مجھے اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حکم نہیں دیا ، جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا ، تو آپ سے دریافت کر لوں گا ، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اس بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُن میں کسی چیز کی ادائیگی لازم نہیں ہو گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مسعودی فرماتے ہیں : ” اوقاص “ سے مراد تیس سے لے کے چالیس تک ، یا چالیس سے لے کر ساتھ تک کی تعداد ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس روایت کے ” مرفوع “ ہونے میں ، کسی نے بھی بقیہ کی متابعت نہیں کی ہے ، صرف حسن بن عمارہ نے متابعت کی ہے ، اور حسن نامی راوی ضعیف ہے ، یہ روایت طاؤس کے حوالے سے ” مرسل “ روایت کے طور پر بھی نقل کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4390
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4391
وَعَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ قَرَأَ كِتَابَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَنَّهُ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَيْءٌ . فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى تِسْعٍ . فَإِذَا كَانَتْ عَشْرًا فَشَاتَانِ إِلَى أَرْبَعَ عَشْرَةَ . فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ فَفِيهَا ثَلَاثٌ إِلَى تِسْعَ عَشْرَةَ . فَإِذَا بَلَغَتِ الْعِشْرِينَ فَأَرْبَعٌ إِلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ . فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ . فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ . فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى السِّتِّينَ . فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى التِّسْعِينَ . فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ . فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ . ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ . وَلَيْسَ فِي الْغَنَمِ شَيْءٌ فِيمَا دُونَ الْأَرْبَعِينَ . فَإِذَا بَلَغَتِ الْأَرْبَعِينَ فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ . فَإِذَا زَادَتْ فَشَاتَانِ إِلَى الْمِائَتَيْنِ . فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الْمِائَتَيْنِ فَثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى الثَّلَاثِ مِائَةٍ . فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الثَّلَاثِ مِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وِجَادَةً كَمَا تَرَاهُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا مکتوب پڑھا ( جس میں یہ تحریر تھا : ) ” پانچ سے کم اونٹوں میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی ، جب وہ پانچ ہو جائیں ، تو نو تک میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ، جب وہ دس ہو جائیں ، تو چودہ تک میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، جب وہ پندرہ ہو جائیں تو ان میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہ حکم اُنیس تک کے لئے ہے ، جب وہ بیس تک پہنچ جائیں ، تو چوبیس تک میں چار بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، جب وہ پچیس تک پہنچ جائیں ، تو پینتیس تک میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی ، جب وہ زیادہ ہو جائیں تو پینتالیس تک میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، اور جب وہ زیادہ ہو جائیں ، تو ساٹھ تک میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، جب وہ زیادہ ہو جائیں ، تو نوے تک میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، جب وہ زیادہ ہو جائیں ، تو ایک سو بیس تک میں دو حقوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، جب وہ زیادہ ہو جائیں ، تو ہر پچاس میں ایک حقہ کی اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، چالیس سے کم بکریوں میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی ، جب وہ چالیس ہو جائیں ، تو ایک سو بیس تک میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ، جب وہ زیادہ ہو جائیں ، تو دو سو تک میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، جب وہ دو سو سے زیادہ ہو جائیں ، تو تین سو تک میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر وہ تین سو سے بھی زیادہ ہوں ، تو ہر ایک سو میں ، ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ” وجادہ “ کے طور پر نقل کی ہے ۔ جیسا کہ آپ اسے ملاحظہ کر رہے ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4391
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (125 و 126 و 127)»
حدیث نمبر: 4392
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : قَالَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ ، وَكَانَ شَابًّا : وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَنِي أَفْضَلَهُمْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ، وَقَدْ فَضَلْتُهُمْ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أَمَّرْتُكَ عَلَى أَصْحَابِكَ وَأَنْتَ أَصْغَرُهُمْ . فَإِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا فَأُمَّهُمْ بِأَضْعَفِهِمْ ، فَإِنَّ وَرَاءَكَ الْكَبِيرَ ، وَالصَّغِيرَ ، [ وَالضَّعِيفَ ] ، وَذَا الْحَاجَةِ ، وَإِذَا كُنْتَ مُصَدِّقًا فَلَا تَأْخُذِ الشَّافِعَ وَهِيَ الْمَاخِضُ ، وَلَا الرُّبَّى ، وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ ، وَجَزَرَةُ الرَّجُلِ هُوَ أَحَقُّ بِهَا مِنْكَ ، وَلَا تَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا وَأَنْتَ طَاهِرٌ . وَاعْلَمْ أَنَّ الْعُمْرَةَ هِيَ الْحَجُّ الْأَصْغَرُ ، وَإِنَّ عُمْرَةً [ هِيَ ] خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَحَجَّةً خَيْرٌ مِنْ عُمْرَةٍ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ قِصَّةُ الْإِمَامَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ ، وَوَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے ، جب وہ نوجوان تھے ، تو اس وقت ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی وفد کی شکل میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پایا کہ مجھے اُن سب میں زیادہ قرآن آتا ہے ، یہاں تک کہ اُن سب میں سے صرف مجھے سورۃ بقرہ آتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں تمہارے ساتھیوں کا امیر مقرر کرتا ہوں حالانکہ تم ان سے عمر میں سب سے کم ہو ، جب تم لوگوں کی امامت کرو ، تو تم ان کے سب سے کمزور فرد کے حساب سے اُن کی امامت کرنا ، کیونکہ تمہارے پیچھے بڑی عمر کے ، چھوٹے ، کمزور ، کام کاج والے لوگ ہوں گے ، اور جب تم زکوۃ وصول کرو ، تو حاملہ ، یا جس جانور کو اپنے استعمال کا دودھ حاصل کرنے کے لیے پالا گیا ہو ، یا بکرے ، ان کو وصول نہ کرنا ، اور آدمی نے جس کو اپنے کھانے کے لیے پالا ہو ، اس کا وہ تم سے زیادہ حق دار ہو گا ، تم قرآن کو صرف باوضو حالت میں چھونا ، اور یہ بات جان لینا ، عمرہ ، حج اصغر ہے ، اور عمرہ ، دنیا اور اس میں موجود سب چیزوں سے زیادہ بہتر ہے ، اور حج کرنا ، عمرہ سے بھی بہتر ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس میں سے امامت والا واقعہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن سلیمان ہے ، جسے ائمہ کی ایک جماعت نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4392
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8336)»
حدیث نمبر: 4393
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " نِعْمَ الْإِبِلُ الثَّلَاثُونَ يُخْرَجُ فِي زَكَاتِهَا وَاحِدَةٌ ، وَيَرْحَلُ مِنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاحِدَةٌ ، وَيُمْنَحُ مِنْهَا وَاحِدَةٌ ، هِيَ خَيْرٌ مِنَ الْأَرْبَعِينَ ، وَالْخَمْسِينَ ، وَالسِّتِّينَ ، وَالثَّمَانِينَ ، وَالتِّسْعِينَ ، وَالْمِائَةِ ، وَوَيْلٌ لِصَاحِبِ الْمِائَةِ مِنَ الْمِائَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تیس اونٹ اچھے ہوتے ہیں ، اُن کی زکوۃ میں ایک نکل جاتا ہے ، اور ان میں سے ایک پر اللہ تعالیٰ کی راہ میں سامان لادا جاتا ہے ، ان میں سے ایک کو عطیہ کے طور پر دیا جاتا ہے ، یہ چالیس اور پچاس اور ساٹھ اور اسی اور نوے اور سو سے بہتر ہیں اور ایک سو اونٹوں کے مالک کے لئے اونٹوں کے حوالے سے بربادی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4393
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6276)»
حدیث نمبر: 4394
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ الْأَشْدَقِ قَالَ : أَدْرَكْتُ عِدَّةً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ رُقَادُ بْنُ رَبِيعَةَ قَالَ : أَخَذَ مِنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنَمِ مِنَ الْمِائَةِ شَاةً ، فَإِنْ زَادَتْ فَشَاتَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ كَثِيرٍ الْبَجَلِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَيَعْلَي مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
یعلی بن اشدق بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد صحابہ کا زمانہ پایا ہے ، جن میں سے ایک سیدنا رقاد بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بکریوں میں ، ایک سو بکریوں سے ایک بکری اور اگر زیادہ ہوں ، تو دو بکریاں وصول کی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن کثیر بجلی ہے ، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، یعلی نامی راوی متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4394
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4631)»
حدیث نمبر: 4395
وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَعَثَ مُصَدِّقًا فَقَالَ : تَعْتَدُّ عَلَيْهِمْ بِالسَّخْلِ ؟ فَقَالُوا : يَعْتَدُّ عَلَيْنَا بِالسَّخْلِ ، وَلَا يَأْخُذُ مِنْهُ . فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : نَعَمْ يُعْتَدُّ عَلَيْهِمْ بِالسَّخْلَةِ يَحْمِلُهَا الرَّاعِي وَلَا يَأْخُذُهَا ، وَلَا يَأْخُذُ الْأَكُولَةَ ، وَلَا الرُّبَّى ، وَلَا الْمَاخِضَ ، وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ ، وَيَأْخُذُ الْجَذَعَةَ ، وَالثَّنِيَّةَ ، فَذَلِكَ عَدْلٌ بَيْنَ غَذِيِّ الْمَالِ وَخِيَارِهِ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سفیان بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے زکوۃ وصول کرنے والا شخص بھیجا ، تو انہوں نے فرمایا : تم نے جانوروں میں بالکل چھوٹے بچے کو بھی شمار کرنا ہے ، لوگوں نے کہا: اس نے ہمارے حوالے سے بالکل چھوٹے بچے کو بھی شمار کیا ہے ، لیکن زکوۃ میں اُسے وصول نہیں کیا ، جب وہ شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : جی ہاں ! ان لوگوں کے خلاف چھوٹے بچے کو شمار کیا جائے گا ، جسے چرواہا اٹھا کے چلتا ہے ، لیکن زکوۃ وصول کرنے والا اسے زکوۃ میں وصول نہیں کرے گا ، اور نہ ہی وہ ایسے جانور کو وصول کرے گا جس کو اپنے کھانے کے لیے یا اپنے لیے دودھ حاصل کرنے کے لیے پالا گیا ہو ، نہ حاملہ کو اور نہ ہی بکرے کو وصول کرے گا ، وہ جذعہ اور ثنبہ کو وصول کرے گا ، اور ( عمدہ یا بالکل ہی ردی مال کی بجائے ) درمیانے درجہ کا مال وصول کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4395
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6395)»
حدیث نمبر: 4396
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِي الْبَقَرِ الْعَوَامِلِ صَدَقَةٌ ، وَلَكِنْ فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعٌ ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنٌّ ، أَوْ مُسِنَّةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” کھیت میں ہل چلانے میں استعمال ہونے والی گائیوں میں زکوۃ نہیں ہو گی ، ویسے ہر تیس میں ایک تبیع ، اور ہر پچاس میں ایک مسن یا مسنہ کی ادائیگی لازم ہو گی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4396
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10974)»
حدیث نمبر: 4397
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ : فِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ بَنَتُ مَخَاضٍ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پچیس اونٹوں میں بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر وہ نہ ہو ، تو ابن لبون مذکر کی ادائیگی لازم ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4397
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9589)»
حدیث نمبر: 4398
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ مَسْرُوقَ بْنَ وَائِلٍ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ بِالْعَقِيقِ فَأَسْلَمَ وَحَسُنَ إِسْلَامُهُ وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَبْعَثَ إِلَى قَوْمِي تَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ ، وَأَنْ تَكْتُبَ لِي كِتَابًا إِلَى قَوْمِي عَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ . فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ : اكْتُبْ لَهُ ، فَكَتَبَ [ لَهُ ] : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، إِلَى الْأَقْيَالِ مِنْ حَضْرَمَوْتَ بِإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَالصَّدَقَةِ عَلَى التِّيعَةِ ، وَالتِّيمَةِ ، وَفِي السَّيُوبِ الْخُمْسُ ، وَفِي الْبَعْلِ الْعُشْرُ ، لَا خِلَاطَ وَلَا وِرَاطَ ، وَلَا شِغَارَ وَلَا شِنَاقَ ، وَلَا جَنَبَ ، وَلَا جَلَبَ بِهِ ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ بَعِيرَيْنِ فِي عِقَالٍ ، مَنْ أَجْبَى فَقَدْ أَرْبَى ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " . ¤ وَبَعَثَ إِلَيْهِمْ زِيَادُ بْنُ لَبِيبٍ الْأَنْصَارِيُّ . ¤ أَمَّا الْخِلَاطُ : فَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَاشِيَةِ . ¤ وَأَمَّا الْوِرَاطُ : فَلَا يُقَوِّمُهَا بِالْقِيمَةِ . ¤ وَأَمَّا الشِّغَارُ : فَيُزَوِّجُ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ ، وَيُنْكِحُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ بِلَا مَهْرٍ . ¤ وَالشِّنَاقُ : أَنْ يَعْقِلَهَا فِي مَبَارِكِهَا . ¤ وَالْإِجْبَاءُ : أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْمَنَ عَلَيْهَا الْعَاهَةُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ضحاک بن نعمان بن سعد بیان کرتے ہیں : سیدنا مسروق بن وائل رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” عقیق “ کے مقام پر حاضر ہوئے ، انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ان کا اسلام عمدہ ہوا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ میری قوم کی طرف کسی کو بھیجیں ، اور انہیں اسلام کی دعوت دیں ، آپ میرے لئے ایک تحریر لکھ دیں ، جو میری قوم کے نام ہو ، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت نصیب کرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تم اسے تحریر لکھ دو ! تو انہوں نے اسے تحریر لکھ کے دی : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ ” حضر موت “ کے اکابرین کے نام ہے کہ نماز قائم کی جائے ، زکوۃ ادا کی جائے ، تیعہ ( یعنی چالیس بکریوں ) اور تیمہ ( ایک قول کے مطابق اس سے مراد وہ بکریاں ہیں جو چالیس سے زائد ہوں ، یہاں تک کہ ان کی تعداد اگلے فریضہ تک پہنچ جائے اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد وہ بکری ہے جو گھر میں ذاتی استعمال کا دودھ حاصل کرنے کے لیے ہو ) ، میں صدقہ ( یعنی زکوۃ ) لازم ہو گی ، جبکہ سیوب ( وہ مال جو زمانہ جاہلیت میں دفن کیا گیا تھا اگر وہ کسی کو مل جاتا ہے ، تو اس ) میں خمس کی ادائیگی لازم ہو گی ، بارانی زمین ( کی پیداوار میں ) عشر کی ادائیگی لازم ہو گی ، نہ ” خلاط “ ہو گا ، اور نہ ” وراط “ ہو گا ، نہ ” شغار “ ہو گا ، نہ ” شناق “ ہو گا ، نہ ” جنب “ ہو گا ، نہ اُسے لایا جائے گا ، نہ ایک رسی میں دو اونٹوں کو اکھٹا کیا جائے گا ، جو شخص اجباء کرے گا ( یعنی کھیت کی پیداوار یا پھل وغیرہ کے پک کر تیار ہونے سے پہلے اس کو فروخت کرے گا ) ، وہ سود کا کام کرے گا ، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیجا تھا ۔
( مصنف فرماتے ہیں : ) جہاں تک لفظ ” خلاط “ کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد یہ ہے کہ جانوروں کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا ۔ جہاں لفظ ” وراط “ کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد یہ ہے کہ اُن کی قیمت کا تعین نہیں کیا جائے گا ۔ جہاں تک لفظ ” شغار “ کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کی شادی کر دے ، اس شرط پر کہ دوسرا شخص بھی اپنی بیٹی کی شادی اُس کے ساتھ کر دے گا ، اور درمیان میں کوئی مہر نہ ہو ۔ لفظ ” شناق “ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اُن کو ان کے بیٹھنے کی جگہ پر باندھ دے ۔ لفظ ” اجباء “ سے مراد یہ ہے کہ پھل کو فروخت کر دیا جائے ، اس سے پہلے کہ وہ آفت سے محفوظ ہو جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4398
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف