حدیث نمبر: 4390
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً ، جَذَعًا أَوْ جَذَعَةً ، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً مُسِنَّةً . قَالُوا : فَالْأَوْقَاصُ ؟ قَالَ : مَا أَمَرَنِي فِيهَا بِشَيْءٍ ، وَسَأَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمْتُ . فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ فَقَالَ : " لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ " . ¤ قَالَ : قَالَ الْمَسْعُودِيُّ : [ وَ ] الْأَوْقَاصُ : مَا بَيْنَ الثَّلَاثِينَ إِلَى الْأَرْبَعِينَ ، وَالْأَرْبَعِينَ إِلَى السِّتِّينَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَقَالَ : لَمْ يُتَابِعْ بَقِيَّةَ أَحَدٌ عَلَى رَفْعِهِ إِلَّا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، وَالْحَسَنُ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ طَاوُسٍ مُرْسَلًا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا ، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ہر تیس گائیوں میں ایک تبیع یا تبیعہ ، یا ایک جذع یا جذعہ وصول کریں ، اور ہم چالیس گائیوں میں ایک مسنہ وصول کریں ، لوگوں نے عرض کی : ” اوقاص “ کیا حکم ہو گا ؟ تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے بتایا : مجھے اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حکم نہیں دیا ، جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا ، تو آپ سے دریافت کر لوں گا ، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اس بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُن میں کسی چیز کی ادائیگی لازم نہیں ہو گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مسعودی فرماتے ہیں : ” اوقاص “ سے مراد تیس سے لے کے چالیس تک ، یا چالیس سے لے کر ساتھ تک کی تعداد ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس روایت کے ” مرفوع “ ہونے میں ، کسی نے بھی بقیہ کی متابعت نہیں کی ہے ، صرف حسن بن عمارہ نے متابعت کی ہے ، اور حسن نامی راوی ضعیف ہے ، یہ روایت طاؤس کے حوالے سے ” مرسل “ روایت کے طور پر بھی نقل کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4390
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف