مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي بَيَانِ الزَّكَاةِ . باب: زکوۃ کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ بِكِتَابٍ فِيهِ الْفَرَائِضُ ، وَالسُّنَنُ ، وَالدِّيَاتُ ، وَبَعَثَ بِهِ عَمْرَو بْنَ حَزْمٍ ، فَقُرِئَتْ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَهَذِهِ نُسْخَتُهَا : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى شُرَحْبِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ ، وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ ، وَنُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ قَيْلِ ذِي رُعَيْنٍ ، وَمَغَافِرَ ، وَهَمْدَانَ . أَمَّا بَعْدُ : فَقَدْ رَجَعَ رَسُولُكُمْ ، وَأُعْطِيتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ خُمْسَ اللَّهِ ، وَمَا كَتَبَ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْعُشْرِ فِي الْعَقَارِ ، وَمَا سَقَتِ السَّمَاءُ ، أَوْ كَانَ سَبْخًا ، أَوْ كَانَ بَعْلًا فِيهِ الْعُشْرُ إِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ ، وَفِي كُلِّ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ سَائِمَةٍ شَاةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ . فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلَاثِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ السِّتِّينَ فَإِنْ زَادَتْ عَلَى سِتِّينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَسَبْعِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ تِسْعِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةً طَرُوقَةُ الْجَمَلِ ، وَفِي كُلِّ ثَلَاثِينَ بَاقُورَةً بَقَرَةٌ جَذَعٌ أَوْ جَذَعَةٌ ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَاقُورَةً بَقَرَةٌ ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً سَائِمَةً شَاةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً . فَإِنْ زَادَتْ عَلَى الْعِشْرِينَ وَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا شَاتَانِ ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ ثَلَاثَمِائَةٍ ، فَإِنْ زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ . ¤ وَلَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ مُحْفِلَةٌ وَلَا هَرِمَةٌ وَلَا عَجْفَاءُ وَلَا ذَاتُ عُوَارٍ ، وَلَا تَيْسُ الْغَنَمِ ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعِ حَسَنَةُ الصَّدَقَةِ ، وَمَا أُخِذَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ ، وَفِي كُلِّ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ ، وَمَا زَادَ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ . وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ شَيْءٌ . وَفَى كُلِّ أَرْبَعِينَ دِينَارًا دِينَارٌ . وَالصَّدَقَةُ لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِأَهْلِ بَيْتِهِ ، إِنَّمَا هِيَ الزَّكَاةُ تُزَكَّى بِهَا أَنْفُسُهُمْ وَلِلْفُقَرَاءِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَا فِي رَقِيقٍ ، وَلَا فِي مَزْرَعَةٍ ، وَلَا عُمَّالِهَا شَيْءٌ إِذَا كَانَتْ تُؤَدَّى صَدَقَتُهَا مِنَ الْعُشْرِ ، وَإِنَّهُ لَيْسَ فِي عَبْدٍ مُسْلِمٍ وَلَا فِي فَرَسِهِ شَيْءٌ " . ¤ وَكَانَ فِي الْكِتَابِ : " أَنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : إِشْرَاكٌ بِاللَّهِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُؤْمِنَةِ بِغَيْرِ حَقٍّ ، وَالْفِرَارُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَوْمَ الزَّحْفِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَرَمْيُ الْمُحْصَنَةِ ، وَتَعَلُّمُ السِّحْرِ ، وَأَكْلُ الرِّبَا ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ ، وَإِنَّ الْعُمْرَةَ الْحَجُّ الْأَصْغَرُ ، وَلَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ ، وَلَا طَلَاقَ قَبْلَ أَمْلَاكٍ ، وَلَا عَتَاقَ حَتَّى تَبْتَاعَ ، وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَشِقُّهُ بَادٍ ، وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ عَاقِصًا شَعْرَهُ " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَبَقِيَّتُهُ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَسِيُّ ; وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَتَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ مَعِينٍ ، وَقَالَ أَحْمَدُ : إِنَّ الْحَدِيثَ صَحِيحٌ . قُلْتُ : وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کی طرف ایک مکتوب لکھا تھا ، جس میں فرائض ، سنن اور دیت سے متعلق احکام تھے ، آپ نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے ہمراہ وہ خط بھیجا تھا ، وہ خط اہل یمن کے سامنے پڑھا گیا ، اُس کے الفاظ یہ ہیں : ” اللہ تعالی کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ سیدنا محمد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شرحبیل بن عبد کلال ، حارث بن عبد کلال ، نعیم بن عبد کلال اور ذی معافر اور ہمدان قبیلے کے اکابرین کی طرف ہے : امابعد ! تمہارا قاصد واپس آیا ، اور تمہیں جو مال غنیمت عطا کیا گیا ، اس میں سے پانچواں حصہ ، اللہ تعالی کے لئے ہے ، اور وہ چیز ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر عشر لازم کیا ہے ، جو زمین کی پیدوار کے حوالے سے ہے ، وہ زمین جو بارش کے ذریعے سیراب ہو ، یا جو چشمے والی ہو ، یا جو بارانی ہو ، ( یعنی ہر وہ زمین جو قدرتی طریقے سے سیراب ہوتی ہو ) اس میں عشر لازم ہو گا ، جبکہ اس کی پیداوار پانچ وسق تک پہنچ جائے ، اور ہر پانچ سائمہ اونٹوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہاں تک کہ وہ چوبیس تک پہنچ جائیں ، اگر چوبیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر بنت مخاض نہیں ملتی ہے ، تو ابن لبون مذکر کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہ حکم پینتیس تک ہے ، اگر وہ پینتیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو اس میں بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہ حکم پینتالیس تک ہے ، اگر وہ پینتالیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں ، تو اس میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، جس کو جفتی کے لئے دیا جا سکے ، یہ حکم ساٹھ تک ہے ، اگر وہ ساٹھ سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں ، تو ان میں جزعہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہاں تک کہ وہ پچھتر تک پہنچ جائیں ، اگر وہ پچھتر سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں ، تو اُن میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہاں تک کہ وہ نوے تک پہنچ جائیں ، اگر وہ ایک بھی زیادہ ہو جائیں ، تو ان میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، جو جفتی کے لئے دیے جا سکیں ، یہ حکم ایک سو بیس تک کے لئے ہو گا ۔ اگر ایک سو بیس سے زیادہ ہو جائیں ، تو ہر چالیس میں ایک بنت لبون کی ، اور ہر پچاس میں ایک حقہ کی ، جسے جفتی کے لئے دیا جا سکے ، ادائیگی لازم ہو گی ، اور ہر تیس گائیوں میں ایک گائے کی ادائیگی لازم ہو گی ، جو جزع یا جزعہ ہو ، اور ہر چالیس گائیوں میں ایک گائے کی ادائیگی لازم ہو گی ، اور ہر چالیس بکریوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہاں تک کہ وہ ایک سو بیس تک پہنچ جائیں ، اگر وہ ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں ، تو ان میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہاں تک کہ وہ دو سو تک پہنچ جائیں اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو ان میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہاں تک کہ وہ تین سو تک پہنچ جائیں ، اگر وہ زیادہ ہو جائیں تو ہر ایک سو بکریوں میں ، ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ۔ زکوۃ میں کوئی ایسا جانور وصول نہیں کیا جائے گا ، جو محفلہ ( وہ مادہ جانور ، جس کا دودھ کچھ دن تک نہ دوہا گیا ہو ، تاکہ یہ ظاہر ہو کہ وہ زیادہ دودھ دینے والا جانور ہے ) ہو ، بوڑھا ہو ، لنگڑا ہو ، کانا ہو ، یا نر بکرا ہو ، اور ( زکوۃ کی وصولی کے لئے ) متفرق مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا ، اور اکٹھے مال کو متفرق نہیں کیا جائے گا ، اچھے طریقے سے زکوۃ وصول کی جائے گی جو چیز دو حصے داروں سے لی جائے گی ، تو وہ اُن دونوں کے درمیان برابری کی بنیاد پر تقسیم ہو گی ۔ چاندی کے پانچ اوقیہ میں ، پانچ درہم کی ادائیگی لازم ہو گی ، جو اُس سے زیادہ ہو ، تو ہر چالیس درہموں میں ایک درہم کی ادائیگی لازم ہو گی ، اور جو چاندی پانچ اوقیہ سے کم ہو ، اس میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی ، ہر چالیس دینار میں ایک دینار کی ادائیگی لازم ہو گی ، اور صدقہ ( یعنی زکوۃ ) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اس کے اہل بیت کے لئے حلال نہیں ہے ، یہ زکوۃ ہے ، جس کے ذریعے اُن لوگوں کے وجود پاک کیے جاتے ہیں اور یہ غریب مومنین کے لئے ہو گی ، اللہ کی راہ میں خرچ ہو گی ، غلاموں کو ( آزاد کرنے ) کے لئے خرچ نہیں ہو گی ، یہ کھیتی باڑی میں خرچ نہیں ہو گی ، اور نہ ہی اس کی وصولی کے اہلکاروں کو کچھ دیا جائے گا ، جبکہ ” عشر “ میں سے اس کی زکوۃ ادا کر دی گئی ہو ، اور مسلمان کے غلام ، یا اس کے گھوڑے میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی “ ۔ اس مکتوب میں یہ بات بھی تحریر تھی : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے بڑا کبیرہ گناہ ، کسی کو اللہ کا شریک قرار دینا ، کسی مؤمن جان کو ناحق طور پر قتل کرنا ، اللہ کی راہ میں میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، پاک دامن عورت پر الزام لگانا ، جادو سیکھنا ، سود کھانا ، یتیم کا مال کھانا ہے ، اور عمرہ ، حج اصغر ہے ، اور قرآن کو باوضو شخص ہاتھ لگائے گا ، اور ملکیت حاصل ہونے سے پہلے طلاق نہیں دی جا سکتی ، اور غلام آزاد نہیں کیا جا سکتا ، جب تک تم اُسے خرید نہیں لیتے ، اور کوئی بھی شخص ایسی حالت میں ایک کپڑے میں نماز ادا نہ کرے کہ اُس کا ایک پہلو ظاہر ہو رہا ہے ، اور کوئی بھی شخص ایسی حالت میں نماز ادا نہ کرے ، کہ اُس نے بالوں کا جوڑا بنایا ہوا ہو “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، اور اس روایت کا کچھ حصہ امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد حرسی ہے ، جسے امام أحمد نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، یحیی بن معین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ، امام أحمد کہتے ہیں : یہ حدیث مستند ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔