مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يَحْسَبُ فِيهِ الزَّكَاةُ . باب: اس چیز کا بیان ، جس میں زکوۃ لازم ہوتی ہے
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : فَرَضَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَمْوَالِ الْمُسْلِمِينَ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ ، وَفِي أَمْوَالِ أَهْلِ الذِّمَّةِ فِي كُلِّ عِشْرِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ ، وَفِي أَمْوَالِ مَنْ لَا ذِمَّةَ لَهُ فِي كُلِّ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ دِرْهَمٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، لَكِنَّهُ قَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ زُنَيْجٌ ، وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ ثِقَاتٌ ; فَوَقَفُوهُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے اموال میں ہر چالیس درہم میں ، ایک درہم اور اہل ذمہ کے اموال میں سے ، ہر بیس میں سے ایک درہم ، اور جن کے لئے ذمہ نہ ہو ، ان ( غیر مسلموں ) کے اموال میں سے ، ہر دس درہموں میں سے ایک درہم کی ادائیگی مقرر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، تاہم انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : اسے نقل کرنے میں زنیج منفرد ہے ، جبکہ ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے اسے نقل کیا ہے ، اور انہوں نے اسے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔