حدیث نمبر: 4385
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَدَخَلَ أَبُو ذَرٍّ الْمَسْجِدَ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ سَارِيَةٍ ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : كَيْفَ أَنْتَ ؟ ثُمَّ وَلَّى وَاسْتَفْتَحَ : ( أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ) ، وَكَانَ رَجُلًا صَلْبَ الصَّوْتِ . فَرَفَعَ صَوْتَهُ فَارْتَجَّ الْمَسْجِدُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقُلْتُ : يَا أَبَا ذَرٍّ - أَوْ قَالَ لَهُ النَّاسُ - حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " فِي الْإِبِلِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا " . قَالَ أَبُو عَاصِمٍ : وَأَظُنُّهُ قَالَ : " فِي الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْبُرِّ صَدَقَتُهُ ، وَفِي الذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةِ ، وَالتِّبْرِ صَدَقَتُهُ ، وَمَنْ جَمَعَ مَالًا فَلَمْ يُنْفِقْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَفِي الْغَارِمِينَ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، فَهُوَ كَيَّةٌ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ [ قُلْتُ ] : يَا أَبَا ذَرٍ ، اتَّقِ اللَّهَ ، وَانْظُرْ مَا تَقُولُ ، فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ كَثُرَتِ الْأَمْوَالُ فِي أَيْدِيهِمْ ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي انْتَسِبْ لِي . فَانْتَسَبْتُ لَهُ ، قَالَ : قَدْ عَرَفْتُ نَسَبَكَ الْأَكْبَرَ ، قَالَ : أَفَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : اقْرَأْ ( وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . قَالَ : فَافْقَهْ إِذًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِطُولِهِ ، وَرَوَى أَحْمَدُ طَرَفًا مِنْهُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مالک بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں موجود تھا ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے ، انہوں نے ایک ستون کے پاس دو رکعات ادا کیں ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان سے دریافت کیا : آپ کیا حال ہے ؟ پھر وہ مڑ گئے اور انہوں نے سورت الهاکم التکاثر پڑھنی شروع کی ، وہ ایک ایسے شخص تھے جن کی آواز بھاری تھی ، وہ بلند آواز میں پڑھنے لگے ، تو مسجد میں گونج پیدا ہوئی ، پھر وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ، تو میں نے کہا: اے سیدنا ابوذر غفاری ! ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) لوگوں نے اُن سے کہا: آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے ، جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، تو انہوں نے یہ بات بتائی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اونٹوں میں اُن کی زکوۃ لازم ہو گی ، اور بکریوں میں ان کی زکوۃ لازم ہو گی ۔ ابوعاصم نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا : گائیوں میں ان کی زکوۃ لازم ہو گی ، گندم میں اس کی زکوۃ لازم ہو گی ، سونے اور چاندی اور خالص سونے میں اس کی زکوۃ لازم ہو گی ، جو شخص مال جمع کرے گا ، اور اسے اللہ کی راہ میں ، مقروضوں ، اور مسافروں ( کی مدد میں ) خرچ نہیں کرے گا ، تو یہ چیز قیامت کے دن اُس کے لئے داغ لگنے کا باعث ہو گی“ ۔ میں نے کہا: اے سیدنا ابوذر غفاری ! آپ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور آپ یہ جائزہ لیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ کیونکہ لوگوں کے پاس تو اموال بہت زیادہ ہو گئے ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم میرے سامنے اپنا نسب بیان کرو ، میں نے ان کے سامنے اپنا نسب بیان کیا ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے تمہارے نسب کو پہچان لیا ہے ، کیا تم نے قرآن پڑھا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : پھر تم یہ آیت پڑھو : ” وہ لوگ جو سونے اور چاندی کا خزانہ اکھٹے کرتے ہیں ، اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ انہوں نے اسے آیت کے آخر تک پڑھا ، پھر انہوں نے فرمایا : تم سمجھ جاؤ ۔
یہ روایت امام بزار نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4385
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى المسند (35/3)»