مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ فَرْضِ الزَّكَاةِ باب: زکوۃ کا فرضیت کا بیان
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِجَمْعِ الصَّدَقَةِ ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِقَدْرِ مَالِهِ وَبِصَدَقَتِهِ فَبَكَيْتُ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا يُبْكِيكَ ؟ " . قُلْتُ : ذَهَبَ الْمُكْثِرُونَ بِالْأَجْرِ . قَالَ : " كَيْفَ ؟ " ، قُلْتُ : يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي ، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَيَجِدُونَ مَا يَتَصَدَّقُونَ ، وَلَا نَجِدُ . فَقَالَ : " بَلِ الْمُكْثِرُونَ هُمُ الْأَسْفَلُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ " . قُلْتُ : كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا فِي رِسْلِهَا وَنَجْدَتِهَا إِلَّا أَتَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَطَؤُهُ أَخْفَافُهَا ، كُلَّمَا نَفِدَ أُولَاهَا عَادَ إِلَيْهِ أُخْرَاهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ " . قُلْتُ : فَالْخَيْلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْخَيْلُ لِثَلَاثَةِ رَهْطٍ : مَنِ اتَّخَذَهَا نَجْدَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ لَهُ عُسْرُهَا وَيُسْرُهَا ، وَ[ ا ]يْمُ اللَّهِ لَوْ قَطَعَتْ رِجَامًا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ هَبَطَتْ عَلَى رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ ، وَمَنِ اتَّخَذَهَا أَشَرًا كَانَتْ عَلَيْهِ وَبَالًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالُوا : فَالْحُمُرُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا آيَةَ الْفَاذَّةِ : ( مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ) " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ جمع کروانے کا حکم دیا ، تو کوئی شخص اپنے مال کے حساب سے اپنی زکوۃ لے آتا تھا ، میں رونے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابوذر ! تم کیوں رو رہے ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مال دار لوگ اجر لے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیسے ؟ میں نے عرض کی : وہ اسی طرح نماز پڑھتے ہیں ، جس طرح ہم پڑھتے ہیں ، وہ اسی طرح روزے رکھتے ہیں ، جس طرح ہم رکھتے ہیں ، لیکن ان کے پاس ایسا مال ہے ، جسے وہ صدقہ کر دیتے ہیں اور ہمارے پاس ایسا نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( بلکہ مال و دولت کے حوالے سے ) کثرت والے لوگ ، نچلے درجے کے ہوں گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو مال کے بارے میں اس طرح اور اس طرح کہتا ہے ( یعنی اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے ) اور ایسے لوگ تھوڑے ہیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو بھی اونٹوں کا مالک ، ان کی تنگی اور خوشحالی میں ( یعنی خواہ وہ موٹے تازے ہوں یا دبلے پتلے کمزور ہوں ، ہر حال میں ) ان کی زکوۃ ادا نہیں کرے گا ، قیامت کے دن وہ اونٹ ایک کھلے میدان میں آئیں گے ، اور اسے اپنے پاؤں کے ذریعے روندیں گے ، جب ان میں سے پہلے والا گزر جائے گا ، تو دوسرے والا دوبارہ آ جائے گا ، ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں ہو جاتا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! گھوڑوں کا کیا حکم ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گھوڑے تین قسم کے افراد کے ہوتے ہیں ، ایک وہ شخص ہے ، جو اسے اللہ کی راہ میں استعمال کرنے کے لئے رکھتا ہے ، تو اس شخص کو تنگی ، اور خوشحالی ہر حال میں اس کا اجر ملے گا ، یہاں تک کہ اللہ کی قسم اگر وہ گھوڑا اپنی رسی کو تڑوا کر ایک یا دو ٹیلوں پر چڑھ جاتا ہے ، یا کسی سرسبز باغ میں داخل ہوتا ہے ( تو بھی اس شخص کو اس کا اجر ملے گا ) اور جو شخص اسے سرکشی کے لیے اختیار کرتا ہے ، تو قیامت کے دن یہ گھوڑا اس کے لئے وبال ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! خچروں کا کیا حکم ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے صرف ایک آیت نازل کی ہے ، جو جامع ہے : ” جو شخص ذرے کے وزن جتنی بھلائی کرے گا ، وہ اُسے ( یعنی اس کے بدلے کو ) دیکھ لے گا ، اور جو شخص ذرے کے وزن جتنی برائی کرے گا ، وہ اُسے دیکھ لے گا“ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔