حدیث نمبر: 4324
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَى أَغْنِيَاءِ الْمُسْلِمِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ بِقَدْرِ الَّذِي يَسَعُ فُقَرَاءَهُمْ ، وَلَنْ يُجْهَدَ الْفُقَرَاءُ إِذَا جَاعُوا وَعَرَوْا إِلَّا بِمَا يُضَيِّعُ أَغْنِيَاؤُهُمْ ، أَلَا وَإِنَّ اللَّهَ يُحَاسِبُهُمْ حِسَابًا شَدِيدًا ، وَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّاهِدُ . ¤ قُلْتُ : ثَابِتٌ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا ، وَفِيهِمْ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے خوش حال افراد پر ، اُن کے اموال میں ، اس حساب سے زکوۃ فرض قرار دی ہے ، جو ان کے غریبوں کے لئے گنجائش کر دے ، اور جب غریب بھوکے ہوں ، اور انہیں لباس کی ضرورت ہو ، تو انہیں مشکل نہ ہو ، البتہ اس چیز کا معاملہ مختلف ہے ، جو چیز ان کے خوشحال لوگ ضائع کر دیتے ہیں ، خبردار ! اللہ تعالیٰ ان سے زبردست حساب لے گا ، اور انہیں دردناک عذاب دے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : ثابت بن محمد نامی زاہد ، اس روایت کو نقل کرنے میں منفرد ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ثابت نامی شخص ” صحیح “ کے رجال میں سے ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : ثابت بن محمد نامی زاہد ، اس روایت کو نقل کرنے میں منفرد ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ثابت نامی شخص ” صحیح “ کے رجال میں سے ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4325
وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْلٌ لِلْأَغْنِيَاءِ مِنَ الْفُقَرَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يَقُولُونَ : رَبَّنَا ظَلَمُونَا حُقُوقَنَا الَّتِي فَرَضْتَ لَنَا عَلَيْهِمْ ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَأُدْنِيَنَّكُمْ وَلَأُبَاعِدَنَّهُمْ " . ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن خوشحال لوگوں کے لئے بربادی ہو گی ، غریب کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! انہوں نے ہمارے حقوق کے حوالے سے ہم پر ظلم کیا ، وہ حق جو تو نے ہمارے لئے ان پر لازم قرار دیا تھا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ہے ! میں تمہیں ضرور قریب کروں گا ، اور انہیں ضرور دور کر دوں گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” وہ لوگ کہ ان کے اموال میں مانگنے والے اور محروم شخص کے لئے متعین حق ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث بن نعمان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث بن نعمان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4326
وَعَنْ عَلْقَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُمْ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ تَمَامَ إِسْلَامِكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَلَفْظُ الْكَبِيرِ : " إِنَّ مِنْ تَمَامِ " . وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : تمہارے اسلام کی تکمیل میں یہ بات شامل ہے کہ تم اپنے اموال کی زکوۃ ادا کرو ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ معجم کبیر کے الفاظ یہ ہیں : ” تکمیل میں سے “ اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ معجم کبیر کے الفاظ یہ ہیں : ” تکمیل میں سے “ اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 4327
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الزَّكَاةُ قَنْطَرَةُ الْإِسْلَامِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ; إِلَّا أَنَّ بَقِيَّةَ مُدَلِّسٌ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” زکوۃ ، اسلام کا پل ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ بقیہ نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ بقیہ نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 4328
وَعَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْإِسْلَامُ ثَمَانِيَةُ أَسْهُمٍ : الْإِسْلَامُ سَهْمٌ ، وَالصَّلَاةُ سَهْمٌ ، وَالصِّيَامُ سَهْمٌ ، وَالزَّكَاةُ سَهْمٌ ، وَحَجُّ الْبَيْتِ سَهْمٌ ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ سَهْمٌ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ سَهْمٌ ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَهْمٌ ، وَقَدْ خَابَ مَنْ لَا سَهْمَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْإِيمَانِ أَحَادِيثُ نَحْوُ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اسلام کے آٹھ حصے ہیں ، اسلام ( یعنی کلمہ شہادت پڑھنا ) ایک حصہ ہے ، نماز ایک حصہ ہے روزہ ایک حصہ ہے زکوۃ ایک حصہ ہے ، بیت اللہ کا حج کرنا ایک حصہ ہے نیکی کا حکم دینا ایک حصہ ہے برائی سے منع کرنا ایک حصہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ایک حصہ ہے ، اور وہ شخص رسوا ہو گیا ، جس کا کوئی حصہ نہ ہو“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عطاء ہے ، جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس سے پہلے ایمان سے متعلق باب میں اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عطاء ہے ، جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس سے پہلے ایمان سے متعلق باب میں اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 4329
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : أُمِرْنَا بِإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَمَنْ لَمْ يُزَكِّ فَلَا صَلَاةَ لَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَلَهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہمیں نماز قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ، جو شخص زکوۃ ادا نہیں کرتا ، اس کی نماز بھی نہیں ہوتی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن صحیح ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 4330
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " فِي الْإِبِلِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا ، [ وَفِي الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا ] ، وَفَى الْبُرِّ صَدَقَتُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اونٹوں میں ان کی زکوۃ لازم ہو گی ، بکریوں میں ان کی زکوۃ ہو گی ، گائے میں ان کی زکوۃ لازم ہو گی ، گندم میں ان کی زکوۃ لازم ہو گی“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4331
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آتِيَهُ بِطَبَقٍ يَكْتُبُ فِيهِ مَا لَا تَضِلُّ أُمَّتُهُ مِنْ بَعْدِهِ ، فَخَشِيتُ أَنْ تَفُوتَنِي نَفْسُهُ ، قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي أَحْفَظُ وَأَعِي . قَالَ : " أَوْصِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ ، وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ نُعَيْمُ بْنُ يَزِيدَ ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ عُمَرَ بْنِ الْفَضْلِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں آپ کے پاس کوئی ایسی چیز لے کے آؤں جس پر آپ ایسی تحریر لکھ دیں کہ اس کے بعد آپ کی امت گمراہ نہیں ہو گی ، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہوا کہ کہیں ( میرے جانے کے بعد ) آپ انتقال نہ کر جائیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : میں اس بات کو یاد بھی رکھوں گا ، اور محفوظ بھی رکھوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نماز اور زکوۃ کی تلقین کرتا ہوں ، اور جو تمہارے زیر ملکیت ہیں ( یعنی تمہارے غلاموں اور کنیزوں کے بارے میں بھی تلقین کرتا ہوں ) “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن یزید ہے ، عمر بن فضل کے علاوہ اور کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن یزید ہے ، عمر بن فضل کے علاوہ اور کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ۔
حدیث نمبر: 4332
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : أَتَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ذُو مَالٍ كَثِيرٍ ، وَذُو أَهْلٍ ، وَمَالٍ ، وَحَاضِرَةٍ ، فَأَخْبِرْنِي كَيْفَ أَصْنَعُ ، وَكَيْفَ أَنْفِقُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُخْرِجُ الزَّكَاةَ مِنْ مَالِكَ فَإِنَّهَا طُهْرَةٌ تُطَهِّرُكَ ، وَتَصِلُ أَقْرِبَاءَكَ ، وَتَعْرِفُ حَقَّ الْمِسْكِينِ ، وَالْجَارِ ، وَالسَّائِلِ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقْلِلْ لِي ! فَقَالَ : " آتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ ، وَالْمِسْكِينَ ، وَابْنَ السَّبِيلِ ، وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا " . فَقَالَ : [ حَسْبِي ] يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا أَدَّيْتُ الزَّكَاةَ إِلَى رَسُولِكَ فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْهَا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ إِذَا أَدَّيْتَهَا إِلَى رَسُولِي فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْهَا ، وَلَكَ أَجْرُهَا ، وَإِثْمُهَا عَلَى مَنْ بَدَّلَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنو تمیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس بہت سا مال ہے ، اہل خانہ بھی ہیں ، مال بھی ہے ، ساز و سامان بھی ہے ، آپ مجھے بتائیے کہ میں کیا کروں اور مجھے کیسے خرچ کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے مال کی زکوۃ نکالو ، یہ ایک ایسی پاکیزگی ہو گی ، جو تمہیں پاک کر دے گی ، تم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو ، تم مسکین ، پڑوسی اور مانگنے والے کے حق کو پہچانو ، اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے مختصر ارشاد فرمایئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم رشتے داروں کو ان کا حق دو ، مسکین کو مسافر کو ( ان کا حق دو ) اور فضول خرچی نہ کرو ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے لئے یہ کافی ہے ، جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نمائندے کو زکوۃ ادا کر دوں تو کیا میں اس کے حوالے سے اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں بری الذمہ ہو جاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم وہ ( زکوۃ ) میرے نمائندے کو ادا کر دو گے تو تم بری الذمہ ہو جاؤ گے ، تمہیں اس کا اجر ملے گا ؟ اور جو شخص اس میں تبدیلی کرے گا ، اس کا گناہ اس شخص کے ذمہ ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4333
وَعَنْ بُرَيْدَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَهُمْ مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَرْضِهِمْ وَرَفِيقِهِمْ وَمَاشِيَتِهِمْ ، وَلَيْسَ عَلَيْهِمْ فِيهِ إِلَّا الصَّدَقَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ الذِّمَّةِ : " لَهُمْ مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ " . ¤ وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا فرمایا : ” وہ لوگ اپنی زمینوں ، اپنے غلاموں اور اپنے جانوروں کے حوالے سے جس چیز پر اسلام قبول کرتے ہیں ، وہ اُن کا رہے گا ، اور ان چیزوں کے حوالے سے ، اُن پر صرف زکوۃ دینا لازم ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم ان دونوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذمیوں کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا : ” وہ لوگ جس چیز پر اسلام قبول کرتے ہیں ، وہ اُن کی ملکیت رہے گی“ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ، تا ہم وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم ان دونوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذمیوں کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا : ” وہ لوگ جس چیز پر اسلام قبول کرتے ہیں ، وہ اُن کی ملکیت رہے گی“ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ، تا ہم وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 4334
وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ أَدَّى الرَّجُلُ زَكَاةَ مَالِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ شَرُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَإِنْ كَانَ فِي بَعْضِ رِجَالِهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے مال کی زکوۃ ادا کر دیتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنے مال کی زکوۃ ادا کر دیتا ہے ، تو اس کے مال کا شر اس شخص سے چلا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند حسن ہے ، اگرچہ اس کے بعض رجال کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند حسن ہے ، اگرچہ اس کے بعض رجال کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4335
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : سَمِعْتُ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سَمِعْتُهُ مِنْهُ ، وَكُنْتُ أَكْثَرَهُمْ لُزُومًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عُمَرُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَلِفَ مَالٌ فِي بَرٍّ ، وَلَا بَحْرٍ ، إِلَّا بِحَبْسِ الزَّكَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی زبانی ایک حدیث سنی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول تھی ، میں نے وہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی نہیں سنی ، حالانکہ میں اکثر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا کرتا تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” خشکی اور سمندر میں ، جو بھی مال ضائع ہوتا ہے ، وہ زکوۃ ادا نہ کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ہارون ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ہارون ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4336
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَصِّنُوا أَمْوَالَكُمْ بِالزَّكَاةِ ، وَدَاوُوا مَرْضَاكُمْ بِالصَّدَقَةِ ، وَأَعِدُّوا لِلْبَلَاءِ الدُّعَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنے اموال کو زکوۃ کے ذریعے محفوظ کر دو ! اپنے بیماروں کا صدقہ کے ذریعے علاج کرو ، اور دعا کے ذریعے آزمائش کے لئے تیاری کرو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمیر کوفی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمیر کوفی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 4337
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَانِعُ الزَّكَاةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ سِنَانُ بْنُ سَعْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن زکوۃ ادا نہ کرنے والا شخص جہنم میں جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سنان بن سعد ہے ، اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سنان بن سعد ہے ، اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4338
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ مَالٍ وَإِنْ كَانَ تَحْتَ سَبْعِ أَرَضِينَ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ ، وَكُلُّ مَالٍ لَا تُؤَدَّى زَكَاتُهُ وَإِنْ كَانَ ظَاهِرًا فَهُوَ كَنْزٌ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِنَحْوِهِ ، وَلَكِنَّهُ مَوْقُوفٌ عَلَى ابْنِ عُمَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر وہ مال ، خواہ وہ سات زمینوں کے نیچے ہو ، اگر اس کی زکوۃ ادا کر دی جائے ، تو وہ ” کنز “ شمار نہیں ہو گا ، اور ہر وہ مال ، جس کی زکوۃ ادا نہ کی گئی ہو ، وہ اگرچہ ظاہر ہو پھر بھی وہ ” کنز “ شمار ہو گا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اس کی مانند منقول ہے ، تاہم یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر ” موقوف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اس کی مانند منقول ہے ، تاہم یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر ” موقوف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4339
وَعَنْ أَبِي شَدَّادٍ - رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ عَمَّانَ - قَالَ : جَاءَنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَأَقِرُّوا بِشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَدُّوا الزَّكَاةَ ، وَخُطُّوا الْمَسَاجِدَ كَذَا وَكَذَا وَإِلَّا غَزَوْتُكُمْ " . قَالَ أَبُو شَدَّادٍ : فَلَمْ نَجِدْ مَنْ يَقْرَأُ عَلَيْنَا ذَلِكَ الْكِتَابَ حَتَّى أَصَبْنَا غُلَامًا يَقْرَأُ فَقَرَأَ عَلَيْنَا . قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ : فَقُلْتُ لِأَبِي شَدَّادٍ : مَنْ كَانَ عَلَى عَمَّانَ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : سِوَارٌ مِنْ أَسَاوِرِ كِسْرَى . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوشداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جن کا تعلق اہل عمان سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب آیا ( جس میں یہ تحریر تھا : ) ” اما بعد ! تم لوگ اس بات کی گواہی کا اقرار کرو ، کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں ، تم زکوۃ ادا کرو ، تم مساجد کے نشان اِس اِس طرح بناؤ ، ورنہ پھر میں تمہارے ساتھ جنگ کروں گا“ ۔ سیدنا ابوشداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہمیں کوئی ایسا شخص نہیں ملا ، جو ہمارے سامنے وہ مکتوب پڑھ کر سناتا ، یہاں تک کہ ہمیں ایک لڑکا ملا جو پڑھ سکتا تھا ، تو اس نے ہمیں وہ پڑھ کر سنایا ۔ عبدالعزیز نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوشداد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اُن دنوں عمان کا حکمران کون تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : کسری کی طرف سے مقرر کردہ ایک اہل کار تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، یہ روایت ” مرسل “ ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، یہ روایت ” مرسل “ ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 4340
وَعَنْ ثَوْبَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ كَنْزًا مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يَتْبَعُهُ يَقُولُ : وَيْلَكَ مَا أَنْتَ ؟ يَقُولُ : أَنَا كَنْزُكَ الَّذِي كَنَزْتَ . فَلَا يَزَالُ حَتَّى يَلْقَمَ يَدَهُ ثُمَّ يُتْبِعُهُ سَائِرَ جَسَدِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَقَالَ : إِسْنَادُهُ حَسَنٌ . قُلْتُ : وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اپنے بعد خزانہ چھوڑ کر جاتا ہے ، قیامت کے دن اُس خزانے کو گنجے سانپ کی شکل میں بنا دیا جائے گا ، جس کی دو زبانیں ہوں گی ، وہ اس شخص کے پیچھے جائے گا وہ شخص کہے گا : تمہارا ستیاناس ہو ، تم کون ہو ؟ وہ کہے گا : میں تمہارا وہ خزانہ ہوں ، جسے تم نے اکھٹا کیا تھا ، پھر وہ خزانہ مسلسل اس شخص کے پیچھے رہے گا ، یہاں تک کہ وہ اس کے ہاتھ کو اپنے منہ میں ڈال لے گا ، اور پھر اس کے پورے جسم کو نگل لے گا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس کی سند حسن ہے ۔ میں کہتا ہوں : اس کے رجال ثقہ ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں بھی نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس کی سند حسن ہے ۔ میں کہتا ہوں : اس کے رجال ثقہ ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں بھی نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 4341
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا خَالَطَتِ الصَّدَقَةُ - أَوْ قَالَ : الزَّكَاةُ - مَالًا إِلَّا أَفْسَدَتْهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُكْتَبُ حَدِيثُهُ وَلَا يُحْتَجُّ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” صدقہ ( یعنی وہ صدقہ جو ادا نہ کیا گیا ہو ، راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) زکوۃ جس بھی مال کے ساتھ مل جاتی ہے ، اُسے خراب کر دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن جمحی ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، لیکن اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن جمحی ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، لیکن اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 4342
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ظَهَرَتْ لَهُمُ الصَّلَاةُ فَصَلَّوْهَا ، وَخَفِيَتْ لَهُمُ الزَّكَاةُ فَأَكَلُوهَا ، أُولَئِكَ هُمُ الْمُنَافِقُونَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغِفَارِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ان لوگوں کے سامنے نماز کا حکم ظاہر تھا ، تو انہوں نے نماز ادا کی ، اور زکوۃ کا حکم اُن لوگوں سے پوشیدہ رہا ، تو وہ اسے کھا گئے ، یہ لوگ منافق ہیں“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابراہیم غفاری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابراہیم غفاری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4343
وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا فِي رِسْلِهَا ، وَنَجْدَتِهَا إِلَّا جِيءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى تُبْطَحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا ، كُلَّمَا نَفِدَتْ أُولَاهَا اعْتَدَتْ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ وَيَرَى سَبِيلَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بھی اونٹوں کا مالک شخص ، اونٹوں کے بارے میں اُن کے تنگی اور آسانی ( یعنی وہ موٹے تازے ہوں یا کمزور ہوں ، ہر حال میں ) حق ( یعنی زکوۃ ) کو ادا نہیں کرے گا ، تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو اسے ان اونٹوں کے سامنے ایک چٹیل میدان میں جائے گا ، وہ ( اونٹ ) اپنے پاؤں کے ذریعے اُسے روندیں گے جب ان میں سے پہلا ختم ہو جائے گا ، تو آخری دوبارہ سے شروع ہو جائے گا ، ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا ، جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں ہو جاتا ہے ، اس کے بعد وہ شخص اپنا راستہ دیکھے گا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4344
وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا لَمْ يَكُنْ يُؤَدِّي حَقَّهَا فَتَمْشِي عَلَيْهِ بِقَاعٍ تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا ، وَيُؤْتَى بِصَاحِبِ الْبَقَرِ إِذَا لَمْ يَكُنْ يُؤَدِّي حَقَّهَا فَتَمْشِي عَلَيْهِ تَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ ، وَيُؤْتَى بِصَاحِبِ الْغَنَمِ إِذَا لَمْ يَكُنْ يُؤَدِّي حَقَّهَا فَتَمْشِي عَلَيْهِ بِقَاعٍ فَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ ، وَيُؤْتَى بِصَاحِبِ الْكَنْزِ فَيُمَثَّلُ لَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ فَلَا يَجِدُ شَيْئًا فَيُدْخِلُ يَدَهُ فِي فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِطُولِهِ - وَرَوَى الْبَزَّارُ طَرَفًا مِنْهُ - وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اونٹوں کا جو بھی مالک ہو گا ، اسے قیامت کے دن لایا جائے گا جبکہ اس نے اونٹوں کے حق ( یعنی زکوۃ ) کو ادا نہیں کیا ہو گا ، وہ اونٹ کھلے میدان میں اس کے پاس چلتے ہوئے آئیں گے اور اپنے پاؤں کے ذریعے اسے روندیں گے ، گائیوں کے مالک کو لایا جائے گا ، جب اس نے ( دنیا میں ) ان کے حق ( یعنی زکوۃ ) کو ادا نہیں کیا ہو گا ، وہ چلتی ہوئی اس شخص کے پاس آئیں گی ، اور اسے اپنے پاؤں کے ذریعے روندیں گی ، ان میں سے کوئی ایسی نہیں ہو گی ، جو بغیر سینگ کے ہو ، یا کوئی سینگ ٹوٹا ہوا ہو ، بکریوں کے مالک کو لایا جائے گا ، جس نے ان کے حق کو ادا نہیں کیا ہو گا ، تو ایک چٹیل میدان میں وہ بکریاں چلتی ہوئی اس کے پاس آئیں گی ، اپنے سینگوں کے ذریعے اسے ماریں گی ، اور اپنے پاؤں کے ذریعے اسے روندیں گی ، ان میں کوئی ایسی بکری نہیں ہو گی ، جس کا سینگ نہ ہو ، یا جس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو ، خزانے کے مالک شخص کو لایا جائے گا ، اور اس خزانے کو ایک گنجے سانپ کی شکل دے دی جائے گی ، اسے کوئی چیز نہیں ملے گی ، تو وہ اس شخص کا ہاتھ اپنے منہ میں ڈال لے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جبکہ امام بزار نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، اس روایت کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جبکہ امام بزار نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، اس روایت کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4345
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَلْيُؤَدِّ زَكَاةَ مَالِهِ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ حَقًّا أَوْ لِيَسْكُتْ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابُلُتِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے مال کی زکوۃ ادا کرنی چاہیئے ، اور جو شخص اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے حق بات کہنی چاہیے ، یا پھر خاموش رہنا چاہیے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو ، اسے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4346
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ بِخَمْسٍ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا خَمْسٌ بِخَمْسٍ ؟ قَالَ : " مَا نَقَضَ قَوْمٌ الْعَهْدَ إِلَّا سُلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوُّهُمْ ، وَمَا حَكَمُوا بِغَيْرِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَّا فَشَا فِيهِمُ [ الْفَقْرُ ، وَلَا ظََهَرَتْ فِيهِمُ الْفَاحِشَةُ إِلَا فَشَا فِيهِمُ ] الْمَوْتُ . وَلَا مَنَعُوا الزَّكَاةَ إِلَّا حُبِسَ عَنْهُمُ الْقَطْرُ ، وَلَا طَفَّفُوا الْمِكْيَالَ إِلَّا حُبِسَ عَنْهُمُ النَّبَاتُ وَأُخِذُوا بِالسِّنِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ الْمَرْوَزِيُّ ، لَيَّنَهُ الْحَاكِمُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ ، وَفِيهِمْ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پانچ چیزیں ، پانچ چیزوں کے ساتھ مشروط ہیں ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! پانچ چیزیں ، پانچ چیزوں کے ساتھ مشروط ہونے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب بھی کوئی قوم عہد شکنی کرتی ہے ، تو ان کے دشمن کو ان پر مسلط کر دیا جاتا ہے ، اور جب بھی لوگ اس چیز کے علاوہ فیصلہ دیتے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ، تو ان کے درمیان غربت پھیل جاتی ہے ، اور جس قوم کے درمیان فحاشی ظاہر ہو جاتی ہے ، ان کے درمیان موت پھیل جاتی ہے ، اور جو لوگ زکوۃ نہیں دیتے ہیں ، اُن سے بارش کو روک لیا جاتا ہے ، اور جو لوگ ماپنے میں ہیرا پھیری کرتے ہیں ، اُن سے پیدوار کو روک دیا جاتا ہے ، اور انہیں قحط سالی لپیٹ میں لے لیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن کیسان مروزی ہے ۔ امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے کمزور قرار دیا ہے ، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان کے بارے میں کلام بھی کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن کیسان مروزی ہے ۔ امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے کمزور قرار دیا ہے ، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان کے بارے میں کلام بھی کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4347
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الْعَجَمِ " . قُلْتُ : وَمَا قُلُوبُ الْعَجَمِ ؟ قَالَ : " حُبُّ الدُّنْيَا " . قَالَ : " سُنَّتُهُمْ سُنَّةُ الْأَعْرَابِ ، مَا أَتَاهُمْ مِنْ رِزْقٍ جَعَلُوهُ فِي الْحَيَوَانِ ، يَرَوْنَ الْجِهَادَ ضَرَرًا ، وَالزَّكَاةَ مَغْرَمًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اُن کے دل عجمیوں کے دلوں کی مانند ہوں گے ، میں نے دریافت کیا : عجمیوں کے دل سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دنیا کی محبت ، آپ نے ارشاد فرمایا : اُن لوگوں کا طور طریقہ دیہاتیوں کا طور طریقہ ہو گا ، اُن کے پاس جو بھی رزق آئے گا ، وہ اسے جانوروں پر خرچ کریں گے ، وہ لوگ جہاد کو نقصان دہ چیز سمجھیں گے اور زکوۃ کو تاوان سمجھیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4348
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ كَسَبَ طَيِّبًا خَبَّثَتْهُ مَنَعُ الزَّكَاةِ ، وَمَنْ كَسَبَ خَبِيثًا لَمْ تُطَيِّبْهُ الزَّكَاةُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص پاکیزہ ( یعنی حلال مال ) کماتا ہے ، تو زکوۃ ادا نہ کرنا اُسے خبیث کر دیتا ہے ، اور جو شخص خبیث ( یعنی حرام مال ) کماتا ہے ، تو زکوۃ کی ادائیگی اسے پاک نہیں کرتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 4349
وَعَنْهُ قَالَ : لَا يَكُونُ رَجُلٌ يَكْنِزُ فَيَمَسُّ دِرْهَمٌ دِرْهَمًا وَلَا دِينَارٌ دِينَارًا ، يُوَسَّعُ جِلْدُهُ حَتَّى يُوضَعَ كُلُّ دِينَارٍ وَدِرْهَمٍ عَلَى حِدَتِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : جو شخص خزانہ اکھٹا کرے گا ، اور درہم کو درہم کے ساتھ اور دینار کو دینار کے ساتھ ملائے گا اس کی جلد کو بڑا کر دیا جائے گا ، یہاں تک کہ ہر دینار اور ہر درہم کو الگ سے اس پر رکھا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4350
وَعَنْ بُرَيْدَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مَنَعَ قَوْمٌ الزَّكَاةَ إِلَّا ابْتَلَاهُمُ اللَّهُ بِالسِّنِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو لوگ زکوۃ ادا نہیں کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ انہیں قحط سالی میں مبتلاء کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4351
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ فَمَرَّ عَلَى بِئْرٍ يُسْقَى عَلَيْهَا فَقَالَ : " إِنَّ صَاحِبَ هَذِهِ الْبِئْرِ يَحْمِلُهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنْ لَمْ يُؤَدِّ حَقَّهَا " ، وَأَتَى عَلَى غَنَمٍ فَقَالَ : " إِنَّ صَاحِبَ هَذِهِ الْغَنَمِ يُفْعَلُ بِهِ كَذَا وَكَذَا إِنْ لَمْ يُؤَدِّ حَقَّهَا " ، وَأَتَى عَلَى إِبِلٍ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " لَيْسَ فِي الْمَالِ خَيْرٌ " . قُلْتُ : فَمَا بُغْيَتُنَا ؟ قَالَ : " الْخَادِمُ يَخْدِمُكَ ، فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ ، أَوْ فَرَسُكَ تُجَاهِدُ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ سے نکلا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک کنویں کے پاس سے ہوا ، جس سے پانی لیا جاتا تھا ، آپ نے فرمایا : کنویں کا مالک شخص قیامت کے دن اسے اٹھا کے آئے گا ، اگر اس نے اس کے حق کو ادا نہیں کیا ہو گا ، پھر آپ کا گزر بکریوں کے پاس سے ہوا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ان بکریوں کے مالک کے ساتھ ایسا ایسا کیا جائے گا ، اگر اس نے ان کے حق کو ادا نہیں کیا ہو گا ، پھر آپ کا گزر اونٹوں کے پاس سے ہوا ، تو آپ نے اس کی مانند بات ارشاد فرمائی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا مال زیادہ بہتر ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : مال میں کوئی بہتری نہیں ہے ، میں نے عرض کی : ہماری ضروریات کی چیزیں کیا ہونی چاہییں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک خادم ، جو تمہاری خدمت کرے ، جب وہ نماز پڑھتا ہو ، تو پھر وہ تمہارا بھائی شمار ہو گا ، یا تمہارا گھوڑا جس پر تم جہاد کے لئے جا سکو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عدی بن فضل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عدی بن فضل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 4352
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِجَمْعِ الصَّدَقَةِ ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِقَدْرِ مَالِهِ وَبِصَدَقَتِهِ فَبَكَيْتُ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا يُبْكِيكَ ؟ " . قُلْتُ : ذَهَبَ الْمُكْثِرُونَ بِالْأَجْرِ . قَالَ : " كَيْفَ ؟ " ، قُلْتُ : يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي ، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَيَجِدُونَ مَا يَتَصَدَّقُونَ ، وَلَا نَجِدُ . فَقَالَ : " بَلِ الْمُكْثِرُونَ هُمُ الْأَسْفَلُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ " . قُلْتُ : كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا فِي رِسْلِهَا وَنَجْدَتِهَا إِلَّا أَتَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَطَؤُهُ أَخْفَافُهَا ، كُلَّمَا نَفِدَ أُولَاهَا عَادَ إِلَيْهِ أُخْرَاهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ " . قُلْتُ : فَالْخَيْلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْخَيْلُ لِثَلَاثَةِ رَهْطٍ : مَنِ اتَّخَذَهَا نَجْدَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ لَهُ عُسْرُهَا وَيُسْرُهَا ، وَ[ ا ]يْمُ اللَّهِ لَوْ قَطَعَتْ رِجَامًا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ هَبَطَتْ عَلَى رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ ، وَمَنِ اتَّخَذَهَا أَشَرًا كَانَتْ عَلَيْهِ وَبَالًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالُوا : فَالْحُمُرُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا آيَةَ الْفَاذَّةِ : ( مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ) " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ جمع کروانے کا حکم دیا ، تو کوئی شخص اپنے مال کے حساب سے اپنی زکوۃ لے آتا تھا ، میں رونے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابوذر ! تم کیوں رو رہے ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مال دار لوگ اجر لے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیسے ؟ میں نے عرض کی : وہ اسی طرح نماز پڑھتے ہیں ، جس طرح ہم پڑھتے ہیں ، وہ اسی طرح روزے رکھتے ہیں ، جس طرح ہم رکھتے ہیں ، لیکن ان کے پاس ایسا مال ہے ، جسے وہ صدقہ کر دیتے ہیں اور ہمارے پاس ایسا نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( بلکہ مال و دولت کے حوالے سے ) کثرت والے لوگ ، نچلے درجے کے ہوں گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو مال کے بارے میں اس طرح اور اس طرح کہتا ہے ( یعنی اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے ) اور ایسے لوگ تھوڑے ہیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو بھی اونٹوں کا مالک ، ان کی تنگی اور خوشحالی میں ( یعنی خواہ وہ موٹے تازے ہوں یا دبلے پتلے کمزور ہوں ، ہر حال میں ) ان کی زکوۃ ادا نہیں کرے گا ، قیامت کے دن وہ اونٹ ایک کھلے میدان میں آئیں گے ، اور اسے اپنے پاؤں کے ذریعے روندیں گے ، جب ان میں سے پہلے والا گزر جائے گا ، تو دوسرے والا دوبارہ آ جائے گا ، ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں ہو جاتا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! گھوڑوں کا کیا حکم ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گھوڑے تین قسم کے افراد کے ہوتے ہیں ، ایک وہ شخص ہے ، جو اسے اللہ کی راہ میں استعمال کرنے کے لئے رکھتا ہے ، تو اس شخص کو تنگی ، اور خوشحالی ہر حال میں اس کا اجر ملے گا ، یہاں تک کہ اللہ کی قسم اگر وہ گھوڑا اپنی رسی کو تڑوا کر ایک یا دو ٹیلوں پر چڑھ جاتا ہے ، یا کسی سرسبز باغ میں داخل ہوتا ہے ( تو بھی اس شخص کو اس کا اجر ملے گا ) اور جو شخص اسے سرکشی کے لیے اختیار کرتا ہے ، تو قیامت کے دن یہ گھوڑا اس کے لئے وبال ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! خچروں کا کیا حکم ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے صرف ایک آیت نازل کی ہے ، جو جامع ہے : ” جو شخص ذرے کے وزن جتنی بھلائی کرے گا ، وہ اُسے ( یعنی اس کے بدلے کو ) دیکھ لے گا ، اور جو شخص ذرے کے وزن جتنی برائی کرے گا ، وہ اُسے دیکھ لے گا“ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 4353
وَعَنْ مَيْمُونَ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ : قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ : إِنَّ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ قَدْ مَاتَ . فَقَالَ : رَحِمَهُ اللَّهُ . فَقِيلَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّهُ قَدْ تَرَكَ مِائَةَ أَلْفٍ . فَقَالَ : لَكِنَّهَا لَمْ تَتْرُكْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
میمون بن مہران بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: گیا : زید بن حارثہ کا انتقال ہو گیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اُن پر رحم کرے ، اُن سے کہا: گیا : اے ابوعبدالرحمن ! اُس نے ایک لاکھ ( درہم یا دینار ) چھوڑے ہیں ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : لیکن تم نے اُسے نہیں چھوڑا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔