حدیث نمبر: 4351
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ فَمَرَّ عَلَى بِئْرٍ يُسْقَى عَلَيْهَا فَقَالَ : " إِنَّ صَاحِبَ هَذِهِ الْبِئْرِ يَحْمِلُهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنْ لَمْ يُؤَدِّ حَقَّهَا " ، وَأَتَى عَلَى غَنَمٍ فَقَالَ : " إِنَّ صَاحِبَ هَذِهِ الْغَنَمِ يُفْعَلُ بِهِ كَذَا وَكَذَا إِنْ لَمْ يُؤَدِّ حَقَّهَا " ، وَأَتَى عَلَى إِبِلٍ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " لَيْسَ فِي الْمَالِ خَيْرٌ " . قُلْتُ : فَمَا بُغْيَتُنَا ؟ قَالَ : " الْخَادِمُ يَخْدِمُكَ ، فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ ، أَوْ فَرَسُكَ تُجَاهِدُ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ سے نکلا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک کنویں کے پاس سے ہوا ، جس سے پانی لیا جاتا تھا ، آپ نے فرمایا : کنویں کا مالک شخص قیامت کے دن اسے اٹھا کے آئے گا ، اگر اس نے اس کے حق کو ادا نہیں کیا ہو گا ، پھر آپ کا گزر بکریوں کے پاس سے ہوا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ان بکریوں کے مالک کے ساتھ ایسا ایسا کیا جائے گا ، اگر اس نے ان کے حق کو ادا نہیں کیا ہو گا ، پھر آپ کا گزر اونٹوں کے پاس سے ہوا ، تو آپ نے اس کی مانند بات ارشاد فرمائی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا مال زیادہ بہتر ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : مال میں کوئی بہتری نہیں ہے ، میں نے عرض کی : ہماری ضروریات کی چیزیں کیا ہونی چاہییں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک خادم ، جو تمہاری خدمت کرے ، جب وہ نماز پڑھتا ہو ، تو پھر وہ تمہارا بھائی شمار ہو گا ، یا تمہارا گھوڑا جس پر تم جہاد کے لئے جا سکو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عدی بن فضل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4351
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً