حدیث نمبر: 4346
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ بِخَمْسٍ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا خَمْسٌ بِخَمْسٍ ؟ قَالَ : " مَا نَقَضَ قَوْمٌ الْعَهْدَ إِلَّا سُلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوُّهُمْ ، وَمَا حَكَمُوا بِغَيْرِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَّا فَشَا فِيهِمُ [ الْفَقْرُ ، وَلَا ظََهَرَتْ فِيهِمُ الْفَاحِشَةُ إِلَا فَشَا فِيهِمُ ] الْمَوْتُ . وَلَا مَنَعُوا الزَّكَاةَ إِلَّا حُبِسَ عَنْهُمُ الْقَطْرُ ، وَلَا طَفَّفُوا الْمِكْيَالَ إِلَّا حُبِسَ عَنْهُمُ النَّبَاتُ وَأُخِذُوا بِالسِّنِينَ‌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ الْمَرْوَزِيُّ ، لَيَّنَهُ الْحَاكِمُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ ، وَفِيهِمْ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پانچ چیزیں ، پانچ چیزوں کے ساتھ مشروط ہیں ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! پانچ چیزیں ، پانچ چیزوں کے ساتھ مشروط ہونے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب بھی کوئی قوم عہد شکنی کرتی ہے ، تو ان کے دشمن کو ان پر مسلط کر دیا جاتا ہے ، اور جب بھی لوگ اس چیز کے علاوہ فیصلہ دیتے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ، تو ان کے درمیان غربت پھیل جاتی ہے ، اور جس قوم کے درمیان فحاشی ظاہر ہو جاتی ہے ، ان کے درمیان موت پھیل جاتی ہے ، اور جو لوگ زکوۃ نہیں دیتے ہیں ، اُن سے بارش کو روک لیا جاتا ہے ، اور جو لوگ ماپنے میں ہیرا پھیری کرتے ہیں ، اُن سے پیدوار کو روک دیا جاتا ہے ، اور انہیں قحط سالی لپیٹ میں لے لیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن کیسان مروزی ہے ۔ امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے کمزور قرار دیا ہے ، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان کے بارے میں کلام بھی کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4346
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10992)»