حدیث نمبر: 4345
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَلْيُؤَدِّ زَكَاةَ مَالِهِ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ حَقًّا أَوْ لِيَسْكُتْ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابُلُتِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے مال کی زکوۃ ادا کرنی چاہیئے ، اور جو شخص اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے حق بات کہنی چاہیے ، یا پھر خاموش رہنا چاہیے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو ، اسے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4345
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13561)»