حدیث نمبر: 4347
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الْعَجَمِ " . قُلْتُ : وَمَا قُلُوبُ الْعَجَمِ ؟ قَالَ : " حُبُّ الدُّنْيَا " . قَالَ : " سُنَّتُهُمْ سُنَّةُ الْأَعْرَابِ ، مَا أَتَاهُمْ مِنْ رِزْقٍ جَعَلُوهُ فِي الْحَيَوَانِ ، يَرَوْنَ الْجِهَادَ ضَرَرًا ، وَالزَّكَاةَ مَغْرَمًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اُن کے دل عجمیوں کے دلوں کی مانند ہوں گے ، میں نے دریافت کیا : عجمیوں کے دل سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دنیا کی محبت ، آپ نے ارشاد فرمایا : اُن لوگوں کا طور طریقہ دیہاتیوں کا طور طریقہ ہو گا ، اُن کے پاس جو بھی رزق آئے گا ، وہ اسے جانوروں پر خرچ کریں گے ، وہ لوگ جہاد کو نقصان دہ چیز سمجھیں گے اور زکوۃ کو تاوان سمجھیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4347
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف