حدیث نمبر: 4339
وَعَنْ أَبِي شَدَّادٍ - رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ عَمَّانَ - قَالَ : جَاءَنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَأَقِرُّوا بِشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَدُّوا الزَّكَاةَ ، وَخُطُّوا الْمَسَاجِدَ كَذَا وَكَذَا وَإِلَّا غَزَوْتُكُمْ " . قَالَ أَبُو شَدَّادٍ : فَلَمْ نَجِدْ مَنْ يَقْرَأُ عَلَيْنَا ذَلِكَ الْكِتَابَ حَتَّى أَصَبْنَا غُلَامًا يَقْرَأُ فَقَرَأَ عَلَيْنَا . قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ : فَقُلْتُ لِأَبِي شَدَّادٍ : مَنْ كَانَ عَلَى عَمَّانَ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : سِوَارٌ مِنْ أَسَاوِرِ كِسْرَى . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوشداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جن کا تعلق اہل عمان سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب آیا ( جس میں یہ تحریر تھا : ) ” اما بعد ! تم لوگ اس بات کی گواہی کا اقرار کرو ، کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں ، تم زکوۃ ادا کرو ، تم مساجد کے نشان اِس اِس طرح بناؤ ، ورنہ پھر میں تمہارے ساتھ جنگ کروں گا“ ۔ سیدنا ابوشداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہمیں کوئی ایسا شخص نہیں ملا ، جو ہمارے سامنے وہ مکتوب پڑھ کر سناتا ، یہاں تک کہ ہمیں ایک لڑکا ملا جو پڑھ سکتا تھا ، تو اس نے ہمیں وہ پڑھ کر سنایا ۔ عبدالعزیز نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوشداد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اُن دنوں عمان کا حکمران کون تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : کسری کی طرف سے مقرر کردہ ایک اہل کار تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، یہ روایت ” مرسل “ ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4339
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الامام البزار فى المسند (880)»