مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ فَرْضِ الزَّكَاةِ باب: زکوۃ کا فرضیت کا بیان
وَعَنْ ثَوْبَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ كَنْزًا مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يَتْبَعُهُ يَقُولُ : وَيْلَكَ مَا أَنْتَ ؟ يَقُولُ : أَنَا كَنْزُكَ الَّذِي كَنَزْتَ . فَلَا يَزَالُ حَتَّى يَلْقَمَ يَدَهُ ثُمَّ يُتْبِعُهُ سَائِرَ جَسَدِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَقَالَ : إِسْنَادُهُ حَسَنٌ . قُلْتُ : وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اپنے بعد خزانہ چھوڑ کر جاتا ہے ، قیامت کے دن اُس خزانے کو گنجے سانپ کی شکل میں بنا دیا جائے گا ، جس کی دو زبانیں ہوں گی ، وہ اس شخص کے پیچھے جائے گا وہ شخص کہے گا : تمہارا ستیاناس ہو ، تم کون ہو ؟ وہ کہے گا : میں تمہارا وہ خزانہ ہوں ، جسے تم نے اکھٹا کیا تھا ، پھر وہ خزانہ مسلسل اس شخص کے پیچھے رہے گا ، یہاں تک کہ وہ اس کے ہاتھ کو اپنے منہ میں ڈال لے گا ، اور پھر اس کے پورے جسم کو نگل لے گا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس کی سند حسن ہے ۔ میں کہتا ہوں : اس کے رجال ثقہ ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں بھی نقل کی ہے ۔