مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ فَرْضِ الزَّكَاةِ باب: زکوۃ کا فرضیت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ مَالٍ وَإِنْ كَانَ تَحْتَ سَبْعِ أَرَضِينَ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ ، وَكُلُّ مَالٍ لَا تُؤَدَّى زَكَاتُهُ وَإِنْ كَانَ ظَاهِرًا فَهُوَ كَنْزٌ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِنَحْوِهِ ، وَلَكِنَّهُ مَوْقُوفٌ عَلَى ابْنِ عُمَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر وہ مال ، خواہ وہ سات زمینوں کے نیچے ہو ، اگر اس کی زکوۃ ادا کر دی جائے ، تو وہ ” کنز “ شمار نہیں ہو گا ، اور ہر وہ مال ، جس کی زکوۃ ادا نہ کی گئی ہو ، وہ اگرچہ ظاہر ہو پھر بھی وہ ” کنز “ شمار ہو گا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اس کی مانند منقول ہے ، تاہم یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر ” موقوف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔