حدیث نمبر: 4332
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : أَتَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ذُو مَالٍ كَثِيرٍ ، وَذُو أَهْلٍ ، وَمَالٍ ، وَحَاضِرَةٍ ، فَأَخْبِرْنِي كَيْفَ أَصْنَعُ ، وَكَيْفَ أَنْفِقُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُخْرِجُ الزَّكَاةَ مِنْ مَالِكَ فَإِنَّهَا طُهْرَةٌ تُطَهِّرُكَ ، وَتَصِلُ أَقْرِبَاءَكَ ، وَتَعْرِفُ حَقَّ الْمِسْكِينِ ، وَالْجَارِ ، وَالسَّائِلِ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقْلِلْ لِي ! فَقَالَ : " آتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ ، وَالْمِسْكِينَ ، وَابْنَ السَّبِيلِ ، وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا " . فَقَالَ : [ حَسْبِي ] يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا أَدَّيْتُ الزَّكَاةَ إِلَى رَسُولِكَ فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْهَا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ إِذَا أَدَّيْتَهَا إِلَى رَسُولِي فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْهَا ، وَلَكَ أَجْرُهَا ، وَإِثْمُهَا عَلَى مَنْ بَدَّلَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنو تمیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس بہت سا مال ہے ، اہل خانہ بھی ہیں ، مال بھی ہے ، ساز و سامان بھی ہے ، آپ مجھے بتائیے کہ میں کیا کروں اور مجھے کیسے خرچ کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے مال کی زکوۃ نکالو ، یہ ایک ایسی پاکیزگی ہو گی ، جو تمہیں پاک کر دے گی ، تم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو ، تم مسکین ، پڑوسی اور مانگنے والے کے حق کو پہچانو ، اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے مختصر ارشاد فرمایئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم رشتے داروں کو ان کا حق دو ، مسکین کو مسافر کو ( ان کا حق دو ) اور فضول خرچی نہ کرو ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے لئے یہ کافی ہے ، جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نمائندے کو زکوۃ ادا کر دوں تو کیا میں اس کے حوالے سے اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں بری الذمہ ہو جاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم وہ ( زکوۃ ) میرے نمائندے کو ادا کر دو گے تو تم بری الذمہ ہو جاؤ گے ، تمہیں اس کا اجر ملے گا ؟ اور جو شخص اس میں تبدیلی کرے گا ، اس کا گناہ اس شخص کے ذمہ ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4332
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى المسند (136/3)»