مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ فَرْضِ الزَّكَاةِ باب: زکوۃ کا فرضیت کا بیان
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آتِيَهُ بِطَبَقٍ يَكْتُبُ فِيهِ مَا لَا تَضِلُّ أُمَّتُهُ مِنْ بَعْدِهِ ، فَخَشِيتُ أَنْ تَفُوتَنِي نَفْسُهُ ، قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي أَحْفَظُ وَأَعِي . قَالَ : " أَوْصِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ ، وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ نُعَيْمُ بْنُ يَزِيدَ ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ عُمَرَ بْنِ الْفَضْلِ . ¤سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں آپ کے پاس کوئی ایسی چیز لے کے آؤں جس پر آپ ایسی تحریر لکھ دیں کہ اس کے بعد آپ کی امت گمراہ نہیں ہو گی ، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہوا کہ کہیں ( میرے جانے کے بعد ) آپ انتقال نہ کر جائیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : میں اس بات کو یاد بھی رکھوں گا ، اور محفوظ بھی رکھوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نماز اور زکوۃ کی تلقین کرتا ہوں ، اور جو تمہارے زیر ملکیت ہیں ( یعنی تمہارے غلاموں اور کنیزوں کے بارے میں بھی تلقین کرتا ہوں ) “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن یزید ہے ، عمر بن فضل کے علاوہ اور کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ۔