مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْمُنَافِقِينَ . باب: منافقین کا بیان
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَطَّلِعَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى غَيْرِ سُنَّتِي - أَوْ عَلَى غَيْرِ مِلَّتِي - " وَكُنْتُ تَرَكْتُ أَبِي فِي الْمَنْزِلِ ، فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ هُوَ ، فَاطَّلَعَ رَجُلٌ غَيْرُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ رَجُلًا لَمْ يُسَمَّ . ¤اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ابھی تمہارے سامنے ایک ایسا شخص آئے گا ، جسے قیامت کے دن ، میری سنت ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) میرے مذہب کے علاوہ پر زندہ کیا جائے گا “ ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اپنے والد کو گھر چھو کر آیا تھا ، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ مراد نہ ہوں ، لیکن پھر ان کی بجائے کوئی اور شخص آ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ ، یہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اس کی سند میں ایک راوی کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔