مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْمُنَافِقِينَ . باب: منافقین کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ ذَهَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ يَلْبَسُ ثِيَابَهُ لِيَلْحَقَنِي ، فَقَالَ - وَنَحْنُ عِنْدَهُ - : " لَيَدْخُلَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ لَعِينٌ " ، فَوَاللَّهِ مَازِلْتُ وَجِلًا أَتَشَوَّفُ خَارِجًا وَدَاخِلًا حَتَّى دَخَلَ فُلَانٌ - يَعْنِي الْحَكَمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ لباس تبدیل کرنے کے لیے چلے گئے ، اُن کا مجھ سے آ کے ملنے کا ارادہ تھا ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ابھی تمہارے سامنے ایک ملعون شخص آئے گا ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں مسلسل پریشانی کا شکار رہا اور آنے جانے والے کا منتظر رہا ، یہاں تک کہ وہ شخص اندر آیا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ان کی مراد حکم تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔