حدیث نمبر: 420
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولَ وَهُوَ فِي ظِلٍّ ، فَقَالَ : قَدْ غَبَّرَ عَلَيْنَا ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ ، فَقَالَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ : وَالَّذِي أَكْرَمَكَ وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ ، لَئِنْ شِئْتَ لَأَتَيْتُكَ بِرَأْسِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا ، وَلَكِنْ بِرَّ أَبَاكَ وَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ زَيْدُ بْنُ بِشْرٍ الْحَضْرَمِيُّ . قُلْتُ : وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ( رئیس المنافقین ) عبداللہ بن ابی بن سلول کے پاس سے ہوا ، جو سائے میں موجود تھا ، اُس نے کہا: اے ابوکبشہ کے صاحبزادے ! آپ نے ہم پر غبار ڈال دیا ہے ( بعد میں ) اس کے بیٹے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ( جو صحابی رسول ہیں ، ) انہوں نے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عزت عطا کی ہے اور آپ پر کتاب نازل کی ہے ، اگر آپ چاہیں ، تو میں آپ کے پاس اُس کا ( یعنی اپنے باپ عبداللہ بن ابی بن سلول کا ) سر لے آتا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! تم اپنے باپ کے ساتھ نیکی کرو ! اور اُس کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو ! ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : زید بن بشر حضرمی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : زید بن بشر حضرمی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 421
وَعَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ قَالَ : قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ : كَيْفَ عَرَفْتَ أَمْرَ الْمُنَافِقِينَ وَلَمْ يَعْرِفْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - ؟ قَالَ : إِنِّي كُنْتُ أَسِيرُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَامَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَسَمِعْتُ نَاسًا مِنْهُمْ يَقُولُونَ : لَوْ طَرَحْنَاهُ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَانْدَقَّتْ عُنُقُهُ فَاسْتَرَحْنَا مِنْهُ ، فَسِرْتُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ ، وَجَعَلْتُ أَقْرَأُ وَأَرْفَعُ صَوْتِي فَانْتَبَهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " فَقُلْتُ : حُذَيْفَةُ . قَالَ : " مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ " . قُلْتُ : فُلَانٌ وَفُلَانٌ حَتَّى عَدَدْتُهُمْ . قَالَ : " وَسَمِعْتَ مَا قَالُوا ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ ، وَلِذَلِكَ سِرْتُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُمْ . قَالَ : " فَإِنَّ هَؤُلَاءِ فُلَانًا وَفُلَانًا " حَتَّى عَدَّ أَسْمَاءَهُمْ " مُنَافِقُونَ ، لَا تُخْبِرَنَّ أَحَدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
صلہ بن زفر بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے منافقین کے معاملے کو کیسے پہچان لیا ؟ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کوئی بھی اُسے نہیں پہچان سکا ، یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ( اُسے نہیں پہچان سکے ) تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک مرتبہ میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلتا ہوا جا رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سو گئے ، اس دوران میں نے کچھ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا : اگر ہم انہیں ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ) ان کی سواری سے گرا دیں ، تو ان کی گردن ٹوٹ جائے گی اور ہمیں ان سے نجات مل جائے گی تو میں اُن لوگوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان چلتا رہا ، میں نے بلند آواز میں تلاوت شروع کر دی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے ، آپ نے دریافت کیا : کون ہے ؟ میں نے عرض کی : حذیفہ ! آپ نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ میں نے بتایا : فلاں ہے ، اور فلاں ہے ، یہاں تک کہ میں نے اُن سب کے بارے میں بتا دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اُنہوں نے جو کہا: ہے ، وہ تم نے سنا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! اسی لئے میں آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان چل رہا ہوں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ فلاں اور فلاں ہیں ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے نام گنوائے اور فرمایا : یہ منافقین ہیں ، تم کسی کو نہ بتانا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 422
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقُودُ ، وَعَمَّارٌ يَسُوقُ - أَوْ عَمَّارٌ يَقُودُ وَأَنَا أَسُوقُ بِهِ - إِذِ اسْتَقْبَلَنَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مُتَلَثِّمِينَ . قَالَ : " هَؤُلَاءِ الْمُنَافِقُونَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَبْعَثُ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَتَقْتُلُهُ ؟ فَقَالَ : " أَكْرَهُ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ ، وَعَسَى تُكْفِهُمُ الدُّبَيْلَةُ " . قُلْنَا : وَمَا الدُّبَيْلَةُ ؟ قَالَ : شِهَابٌ مِنْ نَارٍ يُوضَعُ عَلَى نِيَاطِ قَلْبِ أَحَدِهِمْ فَيَقْتُلُهُ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑے ہوئے تھا ، اور اُسے لے کے چل رہا تھا جبکہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اُسے پیچھے سے ہانک رہے تھے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اُسے لے کر چل رہے تھے ، اور میں اُسے پیچھے سے ہانک رہا تھا ، اسی دوران ہمارے سامنے 12 افراد آئے ، جنہوں نے دھاٹے باندھے ہوئے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ قیامت کے دن تک کے لئے منافق ہیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ان میں سے ہر ایک کی طرف کسی شخص کو بھیج کر انہیں قتل کیوں نہیں کروا دیتے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ لوگ یہ بات کریں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتے ہیں عنقریب ” دبیلہ “ ان کے لئے کفایت کر جائے گا ، ہم نے عرض کی : ” دبیلہ “ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آگ کا انگارہ ، جو ان میں سے کسی ایک کے دل پر رکھا جائے گا اور اسے قتل کر دے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس ( روایت ) کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سلمہ ہے ، ایک جماعت نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سلمہ ہے ، ایک جماعت نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی ہے ۔
حدیث نمبر: 423
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَطْنَ الْوَادِي ، وَأَخَذَ النَّاسُ الْعَقَبَةَ ، فَجَاءَ سَبْعَةُ نَفَرٍ مُتَلَثِّمُونَ ، فَلَمَّا رَآهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ حُذَيْفَةُ الْقَائِدَ وَعَمَّارٌ السَّائِقَ - قَالَ : " شُدُّوا مَا بَيْنَكُمَا " فَلَمْ يَصْنَعُوا شَيْئًا ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا حُذَيْفَةُ ، هَلْ تَدْرِي مَنِ الْقَوْمُ ؟ " قُلْتُ : مَا أَعْرِفُ مِنْهُمْ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ ، فَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّهُ فُلَانٌ . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَقَالَ : لَا بَأْسَ بِهِ ، كَانَ يَتَشَيَّعُ وَيُدَلِّسُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی کے نشیبی حصے میں آئے اور لوگ گھاٹی کی طرف چلے گئے ، اسی دوران سات افراد آئے ، جو دھاٹے باندھے ہوئے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ فرمایا ، تو اُس وقت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ جانور کو آگے لے کر چل رہے تھے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اُسے پیچھے سے ہانک رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے درمیان کی چیز کا خیال رکھنا ، اُن لوگوں نے کچھ بھی نہیں کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کی طرف دیکھا اور پھر ارشاد فرمایا : اے حذیفہ ! کیا تم جانتے ہو ؟ یہ کون لوگ ہیں ؟ میں نے عرض کی : میں ان میں سے صرف سرخ اونٹ والے شخص کو پہچانتا ہوں ، مجھے پتا ہے کہ یہ فلاں ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : اُن کے حوالے سے ” صحیح “ میں حدیث منقول ہے جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی تلید بن سلیمان ہے ، جیسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے اور یہ کہا: ہے : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس میں تشیع پایا جاتا تھا اور یہ تدلیس کرتا تھا ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : اُن کے حوالے سے ” صحیح “ میں حدیث منقول ہے جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی تلید بن سلیمان ہے ، جیسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے اور یہ کہا: ہے : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس میں تشیع پایا جاتا تھا اور یہ تدلیس کرتا تھا ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 424
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : كَانَ بَيْنَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَوَدِيعَةَ بْنِ ثَابِتٍ كَلَامٌ ، فَقَالَ وَدِيعَةُ لِعَمَّارٍ : إِنَّمَا أَنْتَ عَبْدُ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، مَا أَعْتَقَكَ بَعْدُ . قَالَ عَمَّارٌ : كَمْ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ ؟ قَالَ : اللَّهُ أَعْلَمُ . قَالَ : أَخْبِرْنِي عَنْ عِلْمِكَ ؟ فَسَكَتَ وَدِيعَةُ . قَالَ مَنْ حَضَرَهُ : أَخْبِرْهُ عَمَّا سَأَلَكَ - وَإِنَّمَا أَرَادَ عَمَّارٌ أَنْ يُخْبِرَهُ أَنَّهُ كَانَ فِيهِمْ - قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَقَالَ عَمَّارٌ : فَإِنْ كُنْتُ فِيهِمْ ، فَإِنَّهُمْ خَمْسَةَ عَشَرَ . فَقَالَ وَدِيعَةُ : مَهْلًا يَا أَبَا الْيَقْظَانِ ، أُنْشِدُكَ اللَّهَ أَنْ تَفْضَحَنِي الْيَوْمَ . فَقَالَ عَمَّارٌ : وَاللَّهِ مَا سَمَّيْتُ أَحَدًا وَلَا أُسَمِّيهِ أَبَدًا ، وَلَكِنِّي أَشْهَدُ أَنَّ الْخَمْسَةَ عَشَرَ رَجُلًا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْهُمْ حِزْبُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ - وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ - وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور ودیعہ بن ثابت کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی تو ودیعہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ابوحذیفہ بن مغیرہ کے غلام ہیں ، اور اس نے آپ کو آزاد نہیں کیا تھا ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : عقبہ والے افراد کتنے تھے ؟ ( یعنی وہ لوگ ، جنہوں نے ایک گھاٹی میں ، اللہ کے رسول کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ، کیونکہ ودیعہ بھی اُن افراد میں سے ایک تھا ) ودیعہ نے جواب دیا : اللہ بہتر جانتا ہے ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم مجھے اپنے علم کے حوالے سے جواب دو ! تو ودیعہ خاموش رہا ، حاضرین میں سے ایک صاحب نے یہ کہا: یہ ( یعنی سیدنا عمار رضی اللہ عنہ ) تم سے جس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں ، تم انہیں بتا دو ! سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا ارادہ یہ تھا کہ ودیعہ انہیں یہ بتائے گا کہ وہ بھی اُن افراد میں سے ایک تھا ، ودیعہ نے کہا: ہم یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ وہ چودہ افراد تھے ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم بھی اُن میں ہوتے ، تو وہ پندرہ افراد ہوتے ، تو ودیعہ بولا: اے ابویقظان ! آپ ٹھہر جائیں ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں ، آج آپ نے مجھے شرمندہ کر دیا ہے ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم میں نے کسی کا نام نہیں لیا اور نہ ہی میں کبھی کسی کا نام لوں گا ، لیکن میں یہ گواہی دیتا ہوں ، کہ اُن 15 افراد میں سے ، 12 افراد ایسے ہیں ، جو دنیاوی زندگی میں اور اُس دن جب گواہ کھڑے ہوں گے ۔ ( وہ 12 افراد ) اللہ اور اُس کے رسول کا گروہ ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، جو ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، جو ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 425
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى غَزْوَةِ تَبُوكَ فَانْتَهَى إِلَى عَقَبَةٍ ، فَأَمَرَ مُنَادِيَهُ فَنَادَى : لَا يَأْخُذَنَّ الْعَقَبَةَ أَحَدٌ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيرُ يَأْخُذُهَا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيرُ ، وَحُذَيْفَةُ يَقُودُهُ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ يَسُوقُهُ ، فَأَقْبَلَ رَهْطٌ مُتَلَثِّمِينَ عَلَى الرَّوَاحِلِ حَتَّى غَشُّوا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَجَعَ عَمَّارٌ فَضَرَبَ وَجُوهَ الرَّوَاحِلِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحُذَيْفَةَ : " قُدْ قُدْ " فَلَحِقَهُ عَمَّارٌ ، فَقَالَ : سُقْ سُقْ ، حَتَّى أَنَاخَ ، فَقَالَ لِعَمَّارٍ : هَلْ تَعْرِفُ الْقَوْمَ ؟ فَقَالَ : لَا ، كَانُوا مُتَلَثِّمِينَ ، وَقَدْ عَرَفْتُ عَامَّةَ الرَّوَاحِلِ . قَالَ : أَتَدْرِي مَا أَرَادُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : أَرَادُوا أَنْ يَنْفِرُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَطْرَحُوهُ مِنَ الْعَقَبَةِ . فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ نَزَعَ بَيْنَ عَمَّارٍ وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْهُمْ شَيْءٌ مَا ، يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ كَمْ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ الَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَمْكُرُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَرَى أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ . قَالَ : فَإِنْ كُنْتُ فِيهِمْ فَكَانُوا خَمْسَةَ عَشَرَ ، وَيَشْهَدُ عَمَّارٌ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ حِزْبًا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہوئے ، آپ ایک گھاٹی کے پاس پہنچے ، تو آپ نے اعلان کرنے والے شخص کو حکم دیا ، تو اُس نے یہ اعلان کیا : کوئی شخص گھاٹی کی طرف نہ جائے ، کیونکہ اللہ کے رسول وہاں جانے لگے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ آپ کے جانور کے آگے چل رہے تھے ، اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اسے پیچھے سے ہانک رہے تھے ، اسی دوران کچھ لوگ سواریوں پر سوار ہو کر آئے ، انہوں نے دھاٹے باندھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ مڑے اور اُنہوں نے اُن لوگوں کی سواریوں کے منہ پر مارا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حذیفہ سے کہا: تم ( جانور کو لے کر ) چلتے رہو ! چلتے رہو ! پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آپ کے پاس پہنچے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ( جانور کو ہانکتے رہو ! ہانکتے رہو ! یہاں تک کہ ( ذرا آگے جا کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری کو بٹھا لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا تم ان لوگوں کو پہچانتے ہو ؟ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی نہیں ! اُنہوں نے منہ پر کپڑا لپیٹا ہوا تھا ، البتہ میں اُن میں سے زیادہ تر کی سواریوں کو پہچان لوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو ؟ وہ لوگ اللہ کے رسول کے بارے میں کیا ارادہ رکھتے تھے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُن کا یہ ارادہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول کو لے جائیں گے اور انہیں گھاٹی سے نیچے گرا دیں گے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) بعد میں ، ایک مرتبہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور اُن لوگوں میں سے ، ایک شخص کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی ، جس طرح لوگوں کے درمیان ہو جاتی ہے ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ گھنٹی والے افراد کتنے تھے ؟ جنہوں نے اللہ کے رسول کو دھوکہ دینے کا ارادہ کیا تھا ، تو اس شخص نے کہا: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ چودہ افراد تھے ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم بھی اُن میں ہو ، تو وہ پندرہ ہوں گے ۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اس بات کی گواہی دی کے 12 افراد دنیاوی زندگی میں ، اور قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا گروہ شمار ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 426
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثْنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَ : تَسْمِيَةُ أَصْحَابِ الْعَقَبَةِ : مُعَتِّبُ بْنُ قُشَيْرِ بْنِ مُلَيْلٍ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ شَهِدَ بَدْرًا ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ : يَعِدُنَا مُحَمَّدٌ كُنُوزَ كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَأَحَدُنَا لَا يَأْمَنُ عَلَى خَلَائِهِ ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ : لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَاهُنَا . قَالَ الزُّبَيْرُ : وَهُوَ الَّذِي شَهِدَ عَلَيْهِ الزُّبَيْرُ بِهَذَا الْكَلَامِ . ¤ وَوَدِيعَةُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ : إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ : مَالِي أَرَى قُرَّاءَنَا هَؤُلَاءِ أَرْغَبُنَا بُطُونًا وَأَجْبَنُنَا عِنْدَ اللِّقَاءِ . ¤ وَجَدُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَبْتَلَ بْنِ الْحَارِثِ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ : يَا مُحَمَّدُ ، مَنْ هَذَا الْأَسْوَدُ كَثِيرُ شَعْرٍ ، عَيْنَاهُ كَأَنَّهُمَا قِدْرَانِ مِنْ صُفْرٍ ، يَنْظُرُ بِعَيْنَيْ شَيْطَانِ ، وَكَبِدُهُ كَبِدُ حِمَارٍ ، يُخْبِرُ الْمُنَافِقِينَ بِخَبَرِكَ ، وَهُوَ الْمُخْبَرُ بِخَبَرِهِ ؟ . ¤ وَالْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الطَّائِيِّ ، حَلِيفٌ لِبَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَهُوَ الَّذِي سَبَقَ إِلَى الْوَشَلِ - يَعْنِي الْبِئْرَ - الَّتِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَسْبِقَهُ أَحَدٌ ، فَاسْتَقَى مِنْهُ . ¤ وَأَوْسُ بْنُ قِبْطِيٍّ ، وَهُوَ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ : إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ ، وَهُوَ جَدُّ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ . ¤ وَالْجُلَّاسُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ الصَّامِتِ ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَبَلَغَنَا أَنَّهُ تَابَ بَعْدَ ذَلِكَ . ¤ وَسَعْدُ بْنُ زُرَارَةَ ، مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ ، وَهُوَ الْمُدَّخَنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ سِنًّا ، وَأَخْبَثُهُمْ . ¤ وَسُوَيْدٌ وَرَاعِشٌ ، وَهُمَا مِنْ بَلْحُبْلَى ، وَهُمَا مِمَّنْ جَهَّزَ ابْنُ أُبَيٍّ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ لِخِذْلَانِ النَّاسِ . ¤ وَقَيْسُ بْنُ عَمْرِو بْنِ فَهْدٍ . ¤ وَزَيْدُ بْنُ اللُّصَيْبِ ، وَكَانَ مِنْ يَهُودِ قَيْنُقَاعَ ، فَأَظْهَرَ الْإِسْلَامَ وَفِيهِ غِشُّ الْيَهُودِ وَنِفَاقُ مَنْ نَافَقَ . ¤ وَسُلَالَةُ بْنُ الْحُمَامِ ، مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ ، فَأَظْهَرَ الْإِسْلَامَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ قَوْلِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ كَمَا تَرَى . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : علی بن عبدالعزیز نے ہمیں یہ بات بیان کی ہے : زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : ” گھاٹی والے افراد ( جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ، ) ان کے نام یہ ہیں : معتب بن قشیر بن ملیل ، اس کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے ہے ، اس نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی ، یہ وہ شخص ہے ، جس نے یہ کہا: تھا : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ کسری اور قیصر کے خزانوں کا وعدہ کرتے ہیں جبکہ ہم میں سے کوئی ایک اپنے خلای کے حوالے سے بھی محفوظ نہیں ہے ۔ یہی وہ شخص ہے جس نے یہ کہا: تھا : اگر ہمارے بس میں ہوتا ، تو ہم یہاں قتل نہ ہوتے ، زہیر بن بکار فرماتے ہیں : اس کلام کے حوالے سے ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اسی شخص کے خلاف گواہی دی تھی ۔ ودیعہ بن ثابت بن عمرو بن عوف ، یہ وہ شخص ہے ، جس نے یہ کہا: تھا : پہلے ہم کھیل کود کیا کرتے تھے ، اور یہی وہ شخص ہے ، جس نے یہ کہا: تھا : کیا وجہ ہے کہ میں یہ دیکھتا ہوں کہ ہمارے یہ قاری صاحبان ، پیٹ کی طرف سب سے زیادہ رغبت رکھتے ہیں اور دشمن کا سامنا کرنے کے وقت سب سے زیادہ بزدل ہوتے ہیں ۔ جد بن عبداللہ بن نبتل بن حارث ، اس کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے ہے ، یہ وہ شخص ہے جس کے بارے میں سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے یہ کہا: تھا : اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! بہت سے بالوں والا یہ شخص کون ہے ؟ جس کی آنکھیں پیتل کی ہنڈیاؤں جیسی ہیں ، وہ شیطان کی آنکھوں کے ساتھ دیکھتا ہے اور اس کا جگر گدھے کا جگر ہے ، یہ منافقین کو آپ کی خبریں پہنچاتا ہے ۔ حارث بن یزید طائی ، یہ بنوعمرو بن عوف کا حلیف ہے ، یہ وہ شخص ہے ، جو اس کنویں کے پاس پہلے چلا گیا تھا ، جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھا کہ کوئی آپ سے پہلے وہاں تک جائے ، اس نے وہاں سے پانی حاصل کیا تھا ۔ اوس بن قبطی ، اس کا تعلق بنو حارثہ سے ہے ، یہ وہی شخص ہے ، جس نے یہ کہا: تھا : ہمارے گھر پردہ کی چیز ہیں ، یہ یحیی بن سعید بن قیس کا دادا ہے ۔ جلاس بن سوید بن صامت ، اس کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے ہے ، ہم تک
یہ روایت پہنچی ہے کہ اس نے بعد میں توبہ کر لی تھی ۔ سعد بن زرارہ ، اس کا تعلق بنو مالک بن نجار سے ہے ، یہ وہ شخص جس نے نبی اکرم کے خلاف دھواں پھیلایا تھا ، یہ اُن لوگوں میں ، عمر میں سب سے چھوٹا تھا اور سب سے زیادہ خبیث تھا ۔ سوید اور راعش ، ان دونوں کا تعلق بلحبلی سے تھا ، یہ دونوں ان افراد میں سے ہیں ، جنہیں عبداللہ بن اُبی نے غزوہ تبوک کے موقع پر سامان فراہم کیا تھا ، تاکہ یہ لوگوں کو سوا کریں ۔ قیس بن عمرو بن فہد زید بن لصیب ، اس کا تعلق قینقاع کے یہودیوں سے تھا ، اور اس نے خود کو مسلمان ظاہر کیا تھا ، اس میں یہودیوں کا کھوٹ تھا اور منافقین کا نفاق تھا ۔ سلالہ بن حمام ، اس کا تعلق بنو قینقاع سے تھا ، اس نے خود کو مسلمان ظاہر کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، زبیر بن بکار کے قول کے طور پر نقل کی ہے ، جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔
یہ روایت پہنچی ہے کہ اس نے بعد میں توبہ کر لی تھی ۔ سعد بن زرارہ ، اس کا تعلق بنو مالک بن نجار سے ہے ، یہ وہ شخص جس نے نبی اکرم کے خلاف دھواں پھیلایا تھا ، یہ اُن لوگوں میں ، عمر میں سب سے چھوٹا تھا اور سب سے زیادہ خبیث تھا ۔ سوید اور راعش ، ان دونوں کا تعلق بلحبلی سے تھا ، یہ دونوں ان افراد میں سے ہیں ، جنہیں عبداللہ بن اُبی نے غزوہ تبوک کے موقع پر سامان فراہم کیا تھا ، تاکہ یہ لوگوں کو سوا کریں ۔ قیس بن عمرو بن فہد زید بن لصیب ، اس کا تعلق قینقاع کے یہودیوں سے تھا ، اور اس نے خود کو مسلمان ظاہر کیا تھا ، اس میں یہودیوں کا کھوٹ تھا اور منافقین کا نفاق تھا ۔ سلالہ بن حمام ، اس کا تعلق بنو قینقاع سے تھا ، اس نے خود کو مسلمان ظاہر کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، زبیر بن بکار کے قول کے طور پر نقل کی ہے ، جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔
حدیث نمبر: 427
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ نَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ فَلَا يَسْبِقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ " ، فَأَتَى الْمَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ أَقْوَامٌ ، فَلَعَنَهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ عَنْ بَكْرِ بْنِ بَكَّارٍ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کیا : پانی تھوڑا ہے ، تو کوئی بھی شخص مجھ سے ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) پہلے اُس ( چشمے ) تک نہ جائے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُس چشمے کے پاس تشریف لائے ، تو کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اُس تک پہنچ چکے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں پر لعنت کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اس کو یحیی بن محمد بن سکن نے بکر بن بکار سے روایت کیا ہے ، میں نے ان دونوں کے حالات ( کسی کتاب میں ) نہیں دیکھے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اس کو یحیی بن محمد بن سکن نے بکر بن بکار سے روایت کیا ہے ، میں نے ان دونوں کے حالات ( کسی کتاب میں ) نہیں دیکھے ہیں ۔
حدیث نمبر: 428
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الطُّفَيْلِ فَوَجَدْتُهُ طَيِّبَ النَّفْسِ ، فَقُلْتُ : لَأَغْتَنِمَنَّ ذَلِكَ مِنْهُ فَقُلْتُ : يَا أَبَا الطُّفَيْلِ ، النَّفَرُ الَّذِينَ لَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْ هُمْ ؟ سَمِّهِمْ مَنْ هُمْ ؟ قَالَ : فَهَمَّ أَنْ يُخْبِرَنِي بِهِمْ ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ سَوْدَةُ : مَهْ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ ، أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيُّمَا عَبْدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ دَعَوْتُ عَلَيْهِ بِدَعْوَةٍ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً " ؟ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عثمان بن خثیم بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو میں نے اُن کا مزاج خوشگوار پایا ، میں نے سوچا میں اس موقع کو غنیمت سمجھوں گا ، میں نے کہا: اے سیدنا ابوطفیل ! وہ افراد کون تھے ؟ جن پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی تھی ، آپ اُن کے نام بیان کیجیے کہ وہ کون تھے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : اُنہوں نے مجھے اُن کے نام بیان کرنے کا ارادہ کیا ، تو اُن کی اہلیہ سیدہ سودہ نے اُن سے کہا: اے ابوطفیل ! آپ رُک جائیے ! کیا آپ تک
یہ روایت نہیں پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اے اللہ ! میں ایک بشر ہوں ، اہل ایمان میں سے ، جس بھی شخص کے خلاف میں دعا کر دوں ( اور وہ اس کا مستحق نہ ہو ) تو تو اُس دعائے ضرر کو اُس شخص کے حق میں ، پاکیزگی اور رحمت کا باعث بنا دینا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت نہیں پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اے اللہ ! میں ایک بشر ہوں ، اہل ایمان میں سے ، جس بھی شخص کے خلاف میں دعا کر دوں ( اور وہ اس کا مستحق نہ ہو ) تو تو اُس دعائے ضرر کو اُس شخص کے حق میں ، پاکیزگی اور رحمت کا باعث بنا دینا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 429
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خُطْبَةً فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ مِنْكُمْ مُنَافِقِينَ ، فَمَنْ سَمَّيْتُ فَلْيَقُمْ " ثُمَّ قَالَ : " قُمْ يَا فُلَانُ ، قُمْ يَا فُلَانُ ، قُمْ يَا فُلَانُ " حَتَّى سَمَّى سِتَّةً وَثَلَاثِينَ رَجُلًا ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ فِيكُمْ أَوْ مِنْكُمْ ، فَاتَّقُوا اللَّهَ " قَالَ فَمَرَّ عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ مِمَّنْ سَمَّى مُقَنَّعٍ ، قَدْ كَانَ يَعْرِفُهُ ، قَالَ : مَالَكَ ؟ قَالَ : فَحَدَّثَهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : بُعْدًا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عِيَاضُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : تم لوگوں میں کچھ منافقین موجود ہیں ، جس بھی شخص کا میں نام لوں ، وہ اُٹھ جائے ( اور اُٹھ کر چلا جائے ) پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے فلاں ! تم کھڑے ہو جاؤ ! اے فلاں ! تم کھڑے ہو جاؤ ! اے فلاں ! تم کھڑے ہو جاؤ ! یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے 36 افراد کے نام لیے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک تم میں ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم میں سے ( یعنی تم میں یہ لوگ منافق تھے ) راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا ، جس کا نام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا اُس نے سر جھکایا ہوا تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کے واقف تھے ، اُنہوں نے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ تو اُس نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے بارے میں بتایا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم ہمیشہ کے لیے دور ہو جاؤ ( یا تم ہمیشہ کے لیے برباد ہو گئے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیاض بن عیاض ہے ، جس نے اسے اپنے والد سے نقل کیا ہے ( ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں نے کسی ( محدث ) کو ان دونوں کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیاض بن عیاض ہے ، جس نے اسے اپنے والد سے نقل کیا ہے ( ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں نے کسی ( محدث ) کو ان دونوں کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 430
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا أَرَاهُ وَلَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أَمُوتَ أَبَدًا " قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ فَأَتَاهُمَا يَشْتَدُّ - أَوْ يُسْرِعُ - فَقَالَ لَهَا : أَنْشُدُكِ اللَّهَ أَنَا مِنْهُمْ ؟ قَالَتْ : لَا ، وَلَا أُبَرِّئُ بَعْدَكَ أَحَدًا أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى لِأَبِي يَعْلَى وَأَحْمَدَ عَنْهَا : دَخَلَ عَلَيْهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، قَالَ : فَقَالَ : يَا أُمَّهْ ، قَدْ خِفْتُ أَنْ يُهْلِكَنِي كَثْرَةُ مَالِي ، أَنَا أَكْثَرُ قُرَيْشٍ مَالًا ، قَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، أَنْفِقْ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أُفَارِقَهُ " - فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ يُخْطِئُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے ساتھ والوں میں ، ایسا فرد بھی ہے کہ میرے مرنے کے بعد ، اُسے میں کبھی نہیں دیکھوں گا اور وہ مجھے کبھی نہیں دیکھے گا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو وہ جلدی سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، کیا میں ان لوگوں میں سے ایک ہوں ؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : جی نہیں ! البتہ آپ کے بعد میں کسی اور کو لاتعلق قرار نہیں دوں گی ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ اور امام أحمد کی ایک اور روایت ، جو اُنہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کی ہے ( اس میں یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : اے امی جان ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے مال کی کثرت مجھے ہلاکت کا شکار کر دے گی ، کیونکہ میرے پاس قریش میں سب سے زیادہ مال ہے ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرو ! کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میرے ساتھیوں میں ایک ایسا فرد بھی ہے کہ جب میں اُس سے جدا ہو جاؤں گا ، تو اُس کے بعد وہ مجھے کبھی نہیں دیکھے گا “ اُس کے بعد راوی نے ، حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، یہ ثقہ ہے ، لیکن غلطی کر جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ اور امام أحمد کی ایک اور روایت ، جو اُنہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کی ہے ( اس میں یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : اے امی جان ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے مال کی کثرت مجھے ہلاکت کا شکار کر دے گی ، کیونکہ میرے پاس قریش میں سب سے زیادہ مال ہے ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرو ! کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میرے ساتھیوں میں ایک ایسا فرد بھی ہے کہ جب میں اُس سے جدا ہو جاؤں گا ، تو اُس کے بعد وہ مجھے کبھی نہیں دیکھے گا “ اُس کے بعد راوی نے ، حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، یہ ثقہ ہے ، لیکن غلطی کر جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 431
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ ذَهَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ يَلْبَسُ ثِيَابَهُ لِيَلْحَقَنِي ، فَقَالَ - وَنَحْنُ عِنْدَهُ - : " لَيَدْخُلَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ لَعِينٌ " ، فَوَاللَّهِ مَازِلْتُ وَجِلًا أَتَشَوَّفُ خَارِجًا وَدَاخِلًا حَتَّى دَخَلَ فُلَانٌ - يَعْنِي الْحَكَمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ لباس تبدیل کرنے کے لیے چلے گئے ، اُن کا مجھ سے آ کے ملنے کا ارادہ تھا ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ابھی تمہارے سامنے ایک ملعون شخص آئے گا ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں مسلسل پریشانی کا شکار رہا اور آنے جانے والے کا منتظر رہا ، یہاں تک کہ وہ شخص اندر آیا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ان کی مراد حکم تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 432
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَطَّلِعَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى غَيْرِ سُنَّتِي - أَوْ عَلَى غَيْرِ مِلَّتِي - " وَكُنْتُ تَرَكْتُ أَبِي فِي الْمَنْزِلِ ، فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ هُوَ ، فَاطَّلَعَ رَجُلٌ غَيْرُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ رَجُلًا لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ابھی تمہارے سامنے ایک ایسا شخص آئے گا ، جسے قیامت کے دن ، میری سنت ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) میرے مذہب کے علاوہ پر زندہ کیا جائے گا “ ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اپنے والد کو گھر چھو کر آیا تھا ، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ مراد نہ ہوں ، لیکن پھر ان کی بجائے کوئی اور شخص آ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ ، یہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اس کی سند میں ایک راوی کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اس کی سند میں ایک راوی کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 433
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " وَكُنْتُ تَرَكْتُ أَبِي يَتَوَضَّأُ ، فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ هُوَ ، فَاطَّلَعَ غَيْرُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ هَذَا " . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس راستے سے ایک جہنمی شخص تم لوگوں کے سامنے آئے گا ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اپنے والد کو گھر وضو کرتا ہوا چھوڑ کر آیا تھا ، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ نہ آ جائیں ، لیکن پھر کوئی اور شخص سامنے آ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ ، یہ ہے “ ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 434
وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ مَنْ يَطْلُعُ مِنْ هَذَا الْبَابِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " فَطَلَعَ فُلَانٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس دروازے سے آنے والا پہلا شخص جہنمی ہو گا“ راوی بیان کرتے ہیں : تو فلاں شخص سامنے آیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 435
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : يَقُولُ أَحَدُهُمْ : أَبِي صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَنَعْلٌ خَلِقٌ خَيْرٌ مِنْ أَبِيهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اب کوئی شخص اُٹھ کر یہ کہہ دیتا ہے : میرے والد اللہ کے رسول کے ساتھ رہے ہیں ، یا وہ اللہ کے رسول کے ساتھ تھے ، حالانکہ ایک پرانا جوتا بھی اس کے باپ سے زیادہ بہتر ہو گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 436
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي الْأَعْوَرِ السُّلَمِيِّ : وَيْحَكَ ، أَلَمْ يَلْعَنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعَمْرَو بْنَ سُفْيَانَ ؟ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ وَذَكَرَ سَنَدًا آخَرَ إِلَى الْحَسَنِ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْنَا بَيْتَ فَاطِمَةَ ، قَالَ : وَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَكَتَبْنَاهُ فِي أَحَادِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ فِي الْإِمْلَاءِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُنہوں نے ابواعور سلمی سے یہ کہا: تمہارا ستیاناس ہو ! کیا اللہ کے رسول نے رعل اور ذکوان ( قبیلوں ) اور عمرو بن سفیان پر لعنت نہیں کی ہے ؟
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن ابوعوف نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ( یعنی وہ صحیح کے رجال میں سے تو نہیں ہے ، لیکن ) ویسے وہ ثقہ ہے ۔ انہوں نے ایک اور سند کے ساتھ ، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں یعنی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، ہم نے اسے ابن زبیر کی نقل کردہ ان احادیث میں نوٹ کیا ہے جو املاء کے طور پر نقل کی گئی ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن ابوعوف نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ( یعنی وہ صحیح کے رجال میں سے تو نہیں ہے ، لیکن ) ویسے وہ ثقہ ہے ۔ انہوں نے ایک اور سند کے ساتھ ، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں یعنی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، ہم نے اسے ابن زبیر کی نقل کردہ ان احادیث میں نوٹ کیا ہے جو املاء کے طور پر نقل کی گئی ہیں ۔
حدیث نمبر: 437
وَعَنْ سَفِينَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ جَالِسًا ، فَمَرَّ رَجُلٌ عَلَى بَعِيرٍ وَبَيْنَ يَدَيْهِ قَائِدٌ وَخَلْفَهُ سَائِقٌ ، فَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْقَائِدَ وَالسَّائِقَ وَالرَّاكِبَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ، ایک شخص اونٹ پر سوار گزرا ، جس کے آگے ایک شخص جانور کو چلا رہا تھا اور ایک شخص پیچھے سے اسے ہانک رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اس آگے سے چلانے والے ، پیچھے سے ہانکنے والے ، اور سوار شخص ( یعنی ان تینوں افراد پر ) لعنت کرے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 438
وَعَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَةً عَلَى بَعِيرٍ ، فَقَالَ : " الثَّالِثُ مَلْعُونٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین افراد کو ایک اونٹ پر سوار دیکھا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تیسرا فرد ، ملعون ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 439
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ يَوْمَ صِفِّينَ ، وَذَكَرَ أَمْرَهُمْ وَأَمْرَ الصُّلْحِ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا أَسْلَمُوا ، وَلَكِنِ اسْتَسْلَمُوا وَأَسَرُّوا الْكُفْرَ ، فَلَمَّا رَأَوْا عَلَيْهِ أَعْوَانًا أَظْهَرُوهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَسَعْدُ بْنُ حُذَيْفَةَ لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سعد بن حذیفہ بیان کرتے ہیں : جنگ صفین کے موقع پر ، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : انہوں نے ان لوگوں کا معاملہ اور صلح کا معاملہ ذکر کرتے ہوئے ، یہ بات ارشاد فرمائی : اللہ کی قسم ! یہ لوگ مسلمان نہیں ہوئے ، انہوں نے اسلام ظاہر کیا اور کفر کو پوشیدہ رکھا ، جب اُنہیں اس حوالے سے مدد گار مل گئے ، تو اُنہوں نے اسے ظاہر کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، میں نے کسی کو سعد بن حذیفہ نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، میں نے کسی کو سعد بن حذیفہ نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 440
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : يُؤَذِّنُ الْمُؤَذِّنُ ، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ قَوْمٌ ، وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مؤذن ، اذان دیتا ہے ، اور پھر کچھ ایسے لوگ بھی نماز پڑھتے ہیں ، جو ( درحقیقت ) مؤمن نہیں ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک ایسا شخص ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک ایسا شخص ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔
حدیث نمبر: 441
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، أَتَخْشَى أَنْ يَتْرُكَ النَّاسُ الْإِسْلَامَ وَيَخْرُجُونَ مِنْهُ ؟ قُلْتُ : لَا - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - وَكَيْفَ يَتْرُكُونَهُ وَفِيهِمْ كِتَابُ اللَّهِ وَسُنَنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ : لَئِنْ كَانَ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ لَيَكُونَنَّ بَنُو فُلَانٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو انہوں نے فرمایا : اے عبدالرحمن بن عوف ! کیا تمہیں یہ اندیشہ ہے کہ لوگ اسلام کو ترک کر دیں گے اور اُس میں سے نکل جائیں گے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! اگر اللہ نے چاہا ( تو ایسا نہیں ہو گا ) لوگ اسے کیسے چھوڑ سکتے ہیں ؟ جبکہ ان کے درمیان ، اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول کی سنتیں موجود ہیں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر ایسا ہی ہونا ہوتا ، تو بنوفلاں نے ہونا تھا ( یعنی انہوں نے کتاب و سنت کی موجودگی میں مسلمان رہنا تھا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔