حدیث نمبر: 4318
وَعَنْ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَحِقْتُهُ بِالْبَقِيعِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ " . وَانْقَطَعَ شِسْعِي فَقَالَ : " أَنْعِشْ قَدَمَكَ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، طَالَتْ عُزُوبَتِي ، وَنَأَيْتُ عَنْ دَارِ قَوْمِي ، فَقَالَ : " يَا بَشِيرُ ، أَلَا تَحْمَدُ اللَّهَ الَّذِي أَخَذَ بِنَاصِيَتِكَ مِنْ بَيْنِ رَبِيعَةَ قَوْمٍ يَرَوْنَ لَوْلَاهُمُ انْكَفَأَتِ الْأَرْضُ بِمَنْ عَلَيْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَلَهُ طَرِيقٌ عِنْدَ أَحْمَدَ تَأْتِي فِي الْمَنَاقِبِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، بقیع میں آپ کے پاس آ کے ملا ، تو میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ” مومنین کے علاقے کے رہنے والوں پر سلام ہو “ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میرا تسمہ ٹوٹ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جوتے کے بغیر چلو ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنے علاقے سے خاصے عرصے سے دور ہوں ، اور اپنی قوم کی جگہ سے دور ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بشیر ! کیا تم اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ربیعہ قوم کے درمیان میں سے تمہاری پیشانی کو پکڑا اور تمہیں اسلام کی توفیق عطا کی ) ، وہ لوگ کہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ لوگ نہ ہوتے ، تو زمین ، اُس کے اوپر موجود سب چیزوں سمیت اوندھی ہو جاتی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کی ایک سند امام أحمد نے بھی نقل کی ہے ، جو مناقب سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4318
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1236)»