مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا زَارَ الْقُبُورَ . باب: جب آدمی قبر کی زیارت کرے تو کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 4317
وَعَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَقْبَرَةِ فَقَالَ : " السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الْقُبُورِ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ . أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ ، وَنَحْنُ لَكُمْ تَبَعٌ ، عَافَانَا اللَّهُ وَإِيَّاكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کے ایک جنازے میں شریک ہوئے آپ قبرستان آئے ، تو آپ نے یہ فرمایا : ” اہل قبرستان پر سلام ہو “ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی : ( پھر یہ فرمایا ) : ” تم میں سے جو شخص بھی مؤمن ہے ، اور مسلمان ہے تم ہمارے پیشرو ہو ، اور ہم تمہارے پیچھے آ رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں عافیت عطا کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔