حدیث نمبر: 4316
وَعَنْهُ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ حِينَ رَجَعَ مِنْ أُحُدٍ فَوَقَفَ عَلَيْهِ وَعَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " أَشْهَدُ أَنَّكُمْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ اللَّهِ ، فَزُورُوهُمْ وَسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ أَحَدٌ إِلَّا رَدُّوا عَلَيْهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جب آپ اُحد سے واپس تشریف لا رہے تھے ۔ آپ ان کے اور ان کے ساتھیوں ( کی قبروں کے پاس ) ٹھہر گئے آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زندہ ہو “ ( پھر آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : ) تم ان کی ( قبروں کی ) زیارت کرو اور ان پر سلام بھیجو قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن تک جو شخص بھی ان پر سلام بھیجے گا یہ جواب دیتے رہیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4316
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف