حدیث نمبر: 430
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا أَرَاهُ وَلَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أَمُوتَ أَبَدًا " قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ فَأَتَاهُمَا يَشْتَدُّ - أَوْ يُسْرِعُ - فَقَالَ لَهَا : أَنْشُدُكِ اللَّهَ أَنَا مِنْهُمْ ؟ قَالَتْ : لَا ، وَلَا أُبَرِّئُ بَعْدَكَ أَحَدًا أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى لِأَبِي يَعْلَى وَأَحْمَدَ عَنْهَا : دَخَلَ عَلَيْهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، قَالَ : فَقَالَ : يَا أُمَّهْ ، قَدْ خِفْتُ أَنْ يُهْلِكَنِي كَثْرَةُ مَالِي ، أَنَا أَكْثَرُ قُرَيْشٍ مَالًا ، قَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، أَنْفِقْ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أُفَارِقَهُ " - فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ يُخْطِئُ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے ساتھ والوں میں ، ایسا فرد بھی ہے کہ میرے مرنے کے بعد ، اُسے میں کبھی نہیں دیکھوں گا اور وہ مجھے کبھی نہیں دیکھے گا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو وہ جلدی سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، کیا میں ان لوگوں میں سے ایک ہوں ؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : جی نہیں ! البتہ آپ کے بعد میں کسی اور کو لاتعلق قرار نہیں دوں گی ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ اور امام أحمد کی ایک اور روایت ، جو اُنہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کی ہے ( اس میں یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : اے امی جان ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے مال کی کثرت مجھے ہلاکت کا شکار کر دے گی ، کیونکہ میرے پاس قریش میں سب سے زیادہ مال ہے ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرو ! کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میرے ساتھیوں میں ایک ایسا فرد بھی ہے کہ جب میں اُس سے جدا ہو جاؤں گا ، تو اُس کے بعد وہ مجھے کبھی نہیں دیکھے گا “ اُس کے بعد راوی نے ، حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، یہ ثقہ ہے ، لیکن غلطی کر جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 430
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 290/6298307317 ، اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 6967 . اورده المؤلف فى زوائد المسند 4012»