مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعَذَابِ فِي الْقَبْرِ . باب: قبر میں عذاب ہونا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ يَوْمًا بِقُبُورٍ وَمَعَهُ جَرِيدَةٌ رَطْبَةٌ ، فَشَقَّهَا بِاثْنَتَيْنِ ، وَوَضَعَ وَاحِدَةً عَلَى قَبْرٍ ، وَالْأُخْرَى عَلَى قَبْرٍ آخَرَ ، ثُمَّ مَضَى فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : " أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يُعَذَّبُ فِي النَّمِيمَةِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانِ لَا يَتَّقِي الْبَوْلَ ، وَلَنْ يُعَذَّبَا مَا دَامَتْ هَذِهِ رَطْبَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا آپ کے پاس ایک تر شاخ تھی آپ نے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا ، اور ایک حصہ ایک قبر پر رکھ دیا اور دوسرا حصہ دوسری قبر پر رکھ دیا پھر آپ تشریف لے گئے ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان میں سے ایک شخص کو چغلی کرنے کی وجہ سے عذاب ہو رہا تھا اور دوسرا پیشاب سے نہیں بچتا تھا جب تک یہ شاخ تر رہے گی ان دونوں کو عذاب نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر بن میسرہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔