مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعَذَابِ فِي الْقَبْرِ . باب: قبر میں عذاب ہونا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ بِجَنَبَاتِ بَدْرٍ إِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ حُفْرَةٍ فِي عُنُقِهِ سِلْسِلَةٌ فَنَادَانِي : يَا عَبْدَ اللَّهِ اسْقِنِي . فَلَا أَدْرِي أَعَرَفَ اسْمِي أَوْ دَعَانِي بِدَعَايَةِ الْعَرَبِ . وَخَرَجَ رَجُلٌ فِي ذَلِكَ الْحَفِيرِ فِي يَدِهِ سَوْطٌ فَنَادَانِي : يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَسْقِهِ فَإِنَّهُ كَافِرٌ . ثُمَّ ضَرَبَهُ بِالسَّوْطِ حَتَّى عَادَ إِلَى حُفْرَتِهِ . فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْرِعًا فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي : " أَوَ قَدْ رَأَيْتَهُ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " ذَاكَ عَدُوُّ اللَّهِ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ ، وَذَاكَ عَذَابُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں بدر کے آس پاس سفر کر رہا تھا اسی دوران ایک گڑھے میں سے ایک شخص نکلا جس کی گردن میں ایک بیڑی تھی اس نے مجھے پکار کر کہا: اے عبداللہ ! تم مجھے کچھ پلاؤ ! مجھے اندازہ نہیں ہوا کہ کیا اس نے میرا نام لیا ہے ، یا مجھے عربوں کے مخصوص طریقے کے مطابق بلایا ہے پھر اس گڑھے میں سے ایک اور شخص نکلا جس کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس نے مجھے پکار کر کہا: اے عبداللہ ! تم اسے نہ پلاؤ کیونکہ یہ کافر ہے پھر اس نے اسے چھڑی ماری پھر اسے واپس گڑھے میں لے گیا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جلدی سے حاضر ہوا میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اللہ کا دشمن ابوجہل بن ہشام تھا اور یہ اس کا عذاب ہے ، جو قیامت تک ہوتا رہے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن مغیرہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔