مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعَذَابِ فِي الْقَبْرِ . باب: قبر میں عذاب ہونا
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، [ فَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ ، فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَّ فِي نَفْسِهِ ، فَحُبِسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي قَلْبِهِ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ ] ، فَلَمَّا مَرَّ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ قَالَ : إِذَا بِقَبْرَيْنِ دَفَنُوا فِيهِمَا رَجُلَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ دَفَنْتُمْ هَهُنَا الْيَوْمَ ؟ " [ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فُلَانٌ وَفُلَانٌ ، قَالَ : " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ الْآنَ وَيُفْتَنَانِ فِي قَبْرَيْهِمَا ] ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : " أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانِ لَا يَتَنَزَّهُ مِنَ الْبَوْلِ " . وَأَخَذَ جَرِيدَةً فَشَقَّهَا ، ثُمَّ جَعَلَهَا عَلَى الْقَبْرَيْنِ ، قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَلِمَ فَعَلْتَ ذَاكَ ؟ قَالَ : " لِيُخَفَّفَ عَنْهُمَا " . قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَحَتَّى مَتَى يُعَذَّبَانِ ؟ قَالَ : " غَيْبٌ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ ، [ وَلَوْلَا تَجَافِي قُلُوبِكُمْ وَتَزَيُّدُكُمْ فِي الْحَدِيثِ سَمِعْتُمْ مَا أَسْمَعُ ] " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شدید گرم دن میں بقیع غرقد کے پاس سے ہوا کچھ لوگ آپ کے پیچھے چل رہے تھے ، جب آپ نے ان کے جوتوں کی آواز سنی تو آپ کو الجھن محسوس ہوئی آپ رک گئے ان لوگوں کو اپنے سے آگے چلنے دیا تاکہ آپ کے دل میں تکبر نہ آئے جب آپ بقیع سے گزرے تو وہاں دو قبریں موجود تھیں جن میں دو افراد کو دفن کیا گیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہاں آج تم نے کسے دفن کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! فلاں اور فلاں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس وقت ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے ، اور انہیں ان کی قبر میں آزمائش کا شکار کیا گیا ہے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان دونوں میں سے ایک چغلی کیا کرتا تھا اور دوسرا پیشاب سے نہیں بچتا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شاخ لی اور اسے دو حصوں میں تقسیم کیا ، اور انہیں دونوں کی قبروں پر لگا دیا لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تاکہ ان دونوں کے عذاب میں تخفیف ہو جائے لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ان دونوں کو کب تک عذاب ہوتا رہے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ایک غیب ہے ، جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ، ۔ اگر تمہارے دلوں کی غفلت نہ ہوتی اور تمہاری بات چیت نہ ہوتی ، تو تم بھی وہ بات سنتے ، جو میں سنتا ہوں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔