مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعَذَابِ فِي الْقَبْرِ . باب: قبر میں عذاب ہونا
وَعَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ قَالَ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطَ بَنِي النَّجَّارِ فِيهِ قُبُورٌ مِنْهُمْ قَدْ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَسَمِعَهُمْ [ وَهُمْ ] يُعَذَّبُونَ ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ : " اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " . قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنَّهُمْ لِيُعَذَّبُونِ فِي قُبُورِهِمْ ؟ قَالَ : " نَعَمْ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں اس وقت بنونجار کے ایک باغ میں موجود تھی اس باغ میں ان لوگوں کی کچھ قبریں بھی تھیں جو زمانہ جاہلیت میں مر گئے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو سنا کہ انہیں عذاب ہو رہا ہے آپ باہر نکلے اور یہ کہہ رہے تھے تم لوگ قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ان لوگوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! ایسا عذاب ہو رہا ہے ، جسے جانور بھی سنتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔