حدیث نمبر: 4290
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، وَهُوَ يَسِيرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَنَفَرَتْ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا شَأْنُ رَاحِلَتِكَ نَفَرَتْ ؟ قَالَ : " إِنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ فَنَفَرَتْ لِذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَابِرُ الْجُعْفِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہا تھا آپ اپنی سواری پر چل رہے تھے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کی سواری کا کیا معاملہ ہے کہ یہ بے چین ہو رہی ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : اس نے ایک شخص کی آواز سنی ہے ، جسے اس کی قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے ، تو اس وجہ سے یہ بے چین ہوئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4290
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف