حدیث نمبر: 4288
وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ يَمْشِيَانِ بِالْبَقِيعِ إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بِلَالُ ، هَلْ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ ؟ " . قَالَ : [ لَا ] وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَسْمَعُهُ ! قَالَ : " أَلَا تَسْمَعُ أَهْلَ هَذِهِ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ ؟ " . يَعْنِي : قُبُورَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے یہ بات بتائی ہے ، جس کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے ہے ، اور جس پر میں تہمت عائد نہیں کرتا وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جنت البقیع سے گزر رہے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے بلال تم وہ بات سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں انہوں نے عرض کی : جی نہیں اللہ کی قسم میں وہ نہیں سن رہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم ان قبر والوں کو نہیں سن رہے ، جنہیں عذاب ہو رہا ہے راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اہل جاہلیت کی قبریں تھیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4288
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى المسند (259/3)»