حدیث نمبر: 4287
وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ لِأَبِي طَلْحَةَ يَبْرُزُ لِحَاجَتِهِ قَالَ : وَبِلَالٌ يَمْشِي وَرَاءَهُ ، يُكْرِمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى جَنْبِهِ ، فَمَرَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ ، فَقَامَ حَتَّى تَمَّ إِلَيْهِ بِلَالٌ فَقَالَ : " وَيْحَكَ يَا بِلَالُ ، هَلْ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ ؟ " . قَالَ : مَا أَسْمَعُ شَيْئًا . قَالَ : " صَاحِبُ الْقَبْرِ يُعَذَّبُ " . فَسَأَلَ عَنْهُ فَوَجَدَ يَهُودِيًّا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے باغ میں موجود تھے ، آپ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے چل رہے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کے باعث وہ آپ کے ساتھ نہیں چلتے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا آپ ٹھہر گئے یہاں تک کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آ گئے آپ نے فرمایا : اے بلال ! تمہارا ستیاناس ہو کیا تم وہ بات سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں ؟ انہوں نے عرض کی : میں کچھ نہیں سن رہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس قبر والے کو عذاب ہو رہا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبر والے کے بارے میں دریافت کیا ، تو پتہ چلا کہ وہ ایک یہودی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4287
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى المسند (151/3)»