مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعَذَابِ فِي الْقَبْرِ . باب: قبر میں عذاب ہونا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " الْمُؤْمِنُ فِي قَبْرِهِ فِي رَوْضَةٍ ، وَيُرَحَّبُ لَهُ قَبْرِهِ سَبْعِينَ ذِرَاعًا ، وَيُنَوَّرُ لَهُ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، أَتَدْرُونَ فِيمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : ( فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى ) [ قَالَ : أَتَدْرُونَ مَا الْمَعِيشَةُ الضَّنْكِ ؟ ] قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " عَذَابُ الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لِيُسَلَّطُ عَلَيْهِمْ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا ، أَتَدْرُونَ مَا التِّنِّينُ ؟ " . قَالَ : " تِسْعٌ وَتِسْعُونَ حَيَّةً ، لِكُلِّ حَيَّةٍ سَبْعَةُ رُءُوسٍ ، يَنْفُخُونَ فِي جِسْمِهِ ، وَيَلْسَعُونَهُ وَيَخْدِشُونَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ دَرَّاجٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مومن اپنی قبر میں باغ میں ہوتا ہے اس کی قبر کو ستر گز تک کشادہ کر دیا جاتا ہے ، اور چودھویں رات کے چاند کی مانند روشن کر دیا جاتا ہے کیا تم جانتے ہو یہ آیت کس کے لئے نازل ہوئی ہے : ” اور اس کے لئے تنگی کی زندگی ہو گی ، اور ہم قیامت کے دن اسے نابینا ہونے کے طور پر دوبارہ زندہ کریں گے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ تنگی کی زندگی سے مراد کیا ہے لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد کافر کا عذاب ہے ، جو اسے قبر میں ہو گا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس شخص پر ننانوے تنین مسلط کیے جائیں گے کیا تم جانتے ہو تنین کیا ہوتا ہے آپ نے فرمایا : وہ ننانوے سانپ ہوں گے ہر سانپ کے سات سر ہوں گے وہ اس کافر کے جسم میں پھونک ماریں گے اسے ڈسیں گے اسے زخمی کریں گے اور ایسا قیامت کے دن تک ہو گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی دراج ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔