مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْمُنَافِقِينَ . باب: منافقین کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الطُّفَيْلِ فَوَجَدْتُهُ طَيِّبَ النَّفْسِ ، فَقُلْتُ : لَأَغْتَنِمَنَّ ذَلِكَ مِنْهُ فَقُلْتُ : يَا أَبَا الطُّفَيْلِ ، النَّفَرُ الَّذِينَ لَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْ هُمْ ؟ سَمِّهِمْ مَنْ هُمْ ؟ قَالَ : فَهَمَّ أَنْ يُخْبِرَنِي بِهِمْ ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ سَوْدَةُ : مَهْ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ ، أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيُّمَا عَبْدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ دَعَوْتُ عَلَيْهِ بِدَعْوَةٍ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً " ؟ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤عبداللہ بن عثمان بن خثیم بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو میں نے اُن کا مزاج خوشگوار پایا ، میں نے سوچا میں اس موقع کو غنیمت سمجھوں گا ، میں نے کہا: اے سیدنا ابوطفیل ! وہ افراد کون تھے ؟ جن پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی تھی ، آپ اُن کے نام بیان کیجیے کہ وہ کون تھے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : اُنہوں نے مجھے اُن کے نام بیان کرنے کا ارادہ کیا ، تو اُن کی اہلیہ سیدہ سودہ نے اُن سے کہا: اے ابوطفیل ! آپ رُک جائیے ! کیا آپ تک
یہ روایت نہیں پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اے اللہ ! میں ایک بشر ہوں ، اہل ایمان میں سے ، جس بھی شخص کے خلاف میں دعا کر دوں ( اور وہ اس کا مستحق نہ ہو ) تو تو اُس دعائے ضرر کو اُس شخص کے حق میں ، پاکیزگی اور رحمت کا باعث بنا دینا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔