مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْمُنَافِقِينَ . باب: منافقین کا بیان
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ نَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ فَلَا يَسْبِقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ " ، فَأَتَى الْمَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ أَقْوَامٌ ، فَلَعَنَهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ عَنْ بَكْرِ بْنِ بَكَّارٍ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمَا . ¤سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کیا : پانی تھوڑا ہے ، تو کوئی بھی شخص مجھ سے ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) پہلے اُس ( چشمے ) تک نہ جائے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُس چشمے کے پاس تشریف لائے ، تو کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اُس تک پہنچ چکے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں پر لعنت کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اس کو یحیی بن محمد بن سکن نے بکر بن بکار سے روایت کیا ہے ، میں نے ان دونوں کے حالات ( کسی کتاب میں ) نہیں دیکھے ہیں ۔