مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْمُنَافِقِينَ . باب: منافقین کا بیان
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثْنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَ : تَسْمِيَةُ أَصْحَابِ الْعَقَبَةِ : مُعَتِّبُ بْنُ قُشَيْرِ بْنِ مُلَيْلٍ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ شَهِدَ بَدْرًا ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ : يَعِدُنَا مُحَمَّدٌ كُنُوزَ كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَأَحَدُنَا لَا يَأْمَنُ عَلَى خَلَائِهِ ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ : لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَاهُنَا . قَالَ الزُّبَيْرُ : وَهُوَ الَّذِي شَهِدَ عَلَيْهِ الزُّبَيْرُ بِهَذَا الْكَلَامِ . ¤ وَوَدِيعَةُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ : إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ : مَالِي أَرَى قُرَّاءَنَا هَؤُلَاءِ أَرْغَبُنَا بُطُونًا وَأَجْبَنُنَا عِنْدَ اللِّقَاءِ . ¤ وَجَدُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَبْتَلَ بْنِ الْحَارِثِ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ : يَا مُحَمَّدُ ، مَنْ هَذَا الْأَسْوَدُ كَثِيرُ شَعْرٍ ، عَيْنَاهُ كَأَنَّهُمَا قِدْرَانِ مِنْ صُفْرٍ ، يَنْظُرُ بِعَيْنَيْ شَيْطَانِ ، وَكَبِدُهُ كَبِدُ حِمَارٍ ، يُخْبِرُ الْمُنَافِقِينَ بِخَبَرِكَ ، وَهُوَ الْمُخْبَرُ بِخَبَرِهِ ؟ . ¤ وَالْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الطَّائِيِّ ، حَلِيفٌ لِبَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَهُوَ الَّذِي سَبَقَ إِلَى الْوَشَلِ - يَعْنِي الْبِئْرَ - الَّتِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَسْبِقَهُ أَحَدٌ ، فَاسْتَقَى مِنْهُ . ¤ وَأَوْسُ بْنُ قِبْطِيٍّ ، وَهُوَ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ : إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ ، وَهُوَ جَدُّ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ . ¤ وَالْجُلَّاسُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ الصَّامِتِ ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَبَلَغَنَا أَنَّهُ تَابَ بَعْدَ ذَلِكَ . ¤ وَسَعْدُ بْنُ زُرَارَةَ ، مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ ، وَهُوَ الْمُدَّخَنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ سِنًّا ، وَأَخْبَثُهُمْ . ¤ وَسُوَيْدٌ وَرَاعِشٌ ، وَهُمَا مِنْ بَلْحُبْلَى ، وَهُمَا مِمَّنْ جَهَّزَ ابْنُ أُبَيٍّ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ لِخِذْلَانِ النَّاسِ . ¤ وَقَيْسُ بْنُ عَمْرِو بْنِ فَهْدٍ . ¤ وَزَيْدُ بْنُ اللُّصَيْبِ ، وَكَانَ مِنْ يَهُودِ قَيْنُقَاعَ ، فَأَظْهَرَ الْإِسْلَامَ وَفِيهِ غِشُّ الْيَهُودِ وَنِفَاقُ مَنْ نَافَقَ . ¤ وَسُلَالَةُ بْنُ الْحُمَامِ ، مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ ، فَأَظْهَرَ الْإِسْلَامَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ قَوْلِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ كَمَا تَرَى . ¤امام طبرانی بیان کرتے ہیں : علی بن عبدالعزیز نے ہمیں یہ بات بیان کی ہے : زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : ” گھاٹی والے افراد ( جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ، ) ان کے نام یہ ہیں : معتب بن قشیر بن ملیل ، اس کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے ہے ، اس نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی ، یہ وہ شخص ہے ، جس نے یہ کہا: تھا : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ کسری اور قیصر کے خزانوں کا وعدہ کرتے ہیں جبکہ ہم میں سے کوئی ایک اپنے خلای کے حوالے سے بھی محفوظ نہیں ہے ۔ یہی وہ شخص ہے جس نے یہ کہا: تھا : اگر ہمارے بس میں ہوتا ، تو ہم یہاں قتل نہ ہوتے ، زہیر بن بکار فرماتے ہیں : اس کلام کے حوالے سے ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اسی شخص کے خلاف گواہی دی تھی ۔ ودیعہ بن ثابت بن عمرو بن عوف ، یہ وہ شخص ہے ، جس نے یہ کہا: تھا : پہلے ہم کھیل کود کیا کرتے تھے ، اور یہی وہ شخص ہے ، جس نے یہ کہا: تھا : کیا وجہ ہے کہ میں یہ دیکھتا ہوں کہ ہمارے یہ قاری صاحبان ، پیٹ کی طرف سب سے زیادہ رغبت رکھتے ہیں اور دشمن کا سامنا کرنے کے وقت سب سے زیادہ بزدل ہوتے ہیں ۔ جد بن عبداللہ بن نبتل بن حارث ، اس کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے ہے ، یہ وہ شخص ہے جس کے بارے میں سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے یہ کہا: تھا : اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! بہت سے بالوں والا یہ شخص کون ہے ؟ جس کی آنکھیں پیتل کی ہنڈیاؤں جیسی ہیں ، وہ شیطان کی آنکھوں کے ساتھ دیکھتا ہے اور اس کا جگر گدھے کا جگر ہے ، یہ منافقین کو آپ کی خبریں پہنچاتا ہے ۔ حارث بن یزید طائی ، یہ بنوعمرو بن عوف کا حلیف ہے ، یہ وہ شخص ہے ، جو اس کنویں کے پاس پہلے چلا گیا تھا ، جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھا کہ کوئی آپ سے پہلے وہاں تک جائے ، اس نے وہاں سے پانی حاصل کیا تھا ۔ اوس بن قبطی ، اس کا تعلق بنو حارثہ سے ہے ، یہ وہی شخص ہے ، جس نے یہ کہا: تھا : ہمارے گھر پردہ کی چیز ہیں ، یہ یحیی بن سعید بن قیس کا دادا ہے ۔ جلاس بن سوید بن صامت ، اس کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے ہے ، ہم تک
یہ روایت پہنچی ہے کہ اس نے بعد میں توبہ کر لی تھی ۔ سعد بن زرارہ ، اس کا تعلق بنو مالک بن نجار سے ہے ، یہ وہ شخص جس نے نبی اکرم کے خلاف دھواں پھیلایا تھا ، یہ اُن لوگوں میں ، عمر میں سب سے چھوٹا تھا اور سب سے زیادہ خبیث تھا ۔ سوید اور راعش ، ان دونوں کا تعلق بلحبلی سے تھا ، یہ دونوں ان افراد میں سے ہیں ، جنہیں عبداللہ بن اُبی نے غزوہ تبوک کے موقع پر سامان فراہم کیا تھا ، تاکہ یہ لوگوں کو سوا کریں ۔ قیس بن عمرو بن فہد زید بن لصیب ، اس کا تعلق قینقاع کے یہودیوں سے تھا ، اور اس نے خود کو مسلمان ظاہر کیا تھا ، اس میں یہودیوں کا کھوٹ تھا اور منافقین کا نفاق تھا ۔ سلالہ بن حمام ، اس کا تعلق بنو قینقاع سے تھا ، اس نے خود کو مسلمان ظاہر کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، زبیر بن بکار کے قول کے طور پر نقل کی ہے ، جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔