مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ إِلَى النَّارِ ، وَيُمَهَّدُ لَهُ مِنْ فُرُشِ النَّارِ " . باب: قبر میں سوال ہونا
وَعَنْ أَسْمَاءَ أَنَّهَا كَانَتْ تُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : " إِذَا دَخَلَ الْإِنْسَانُ قَبْرَهُ فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا أَحَفَّ بِهِ عَمَلُهُ الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ . قَالَ : فَيَأْتِيهِ الْمَلَكُ مِنْ نَحْوِ الصَّلَاةِ فَيَرُدُّهُ ، وَمِنْ نَحْوِ الصِّيَامِ فَيَرُدُّهُ ، [ قَالَ ] : فَيُنَادِيهِ : اجْلِسْ . قَالَ : فَيَجْلِسُ ، فَيَقُولُ لَهُ : مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مَنْ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ . قَالَ : [ أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَقُولُ : وَمَا يُدْرِيكَ ؟ أَدْرَكْتَهُ ؟ قَالَ ] : أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : يَقُولُ : عَلَى ذَلِكَ عِشْتَ ، وَعَلَيْهِ مِتَّ ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثَ . ¤ قَالَ : وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا أَوْ كَافِرًا قَالَ : جَاءَهُ مَلَكٌ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ شَيْءٌ يَرُدُّهُ قَالَ : فَأَجْلَسَهُ قَالَ : اجْلِسْ مَاذَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ قَالَ : أَيُّ رَجُلٍ . قَالَ : مُحَمَّدٌ . [ قََالَ ] : يَقُولُ : مَا أَدْرِي - وَاللَّهِ - سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ . قَالَ : [ فَيَقُولُ ] لَهُ الْمَلَكُ : عَلَى ذَلِكَ عِشْتَ ، وَعَلَيْهِ مِتَّ ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثَ . وَتُسَلَّطُ عَلَيْهِ دَابَّةٌ فِي قَبْرِهِ مَعَهَا سَوْطٌ ثَمَرَتُهُ جَمْرَةٌ مِثْلُ [ عَرْفِ ] الْبَعِيرِ ، تَضْرِبُهُ مَا شَاءَ اللَّهُ ، صَمَّاءُ لَا تَسْمَعُ صَوْتَهُ فَتَرْحَمَهُ " . ¤ قُلْتُ : لَهَا فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ مِنْهُ طَرَفًا فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بیان کرتی ہیں : ” جب انسان قبر میں داخل ہوتا ہے ، تو اگر وہ مؤمن ہو ، تو اس کا عمل یعنی نماز اور روزہ اسے گھیر لیتے ہیں فرشتہ نماز کی طرف سے آنے کی کوشش کرتا ہے ، تو نماز اسے واپس کر دیتی ہے ، روزے کی طرف سے آنے کی کوشش کرتا ہے ، تو روزہ اسے واپس کر دیتا ہے پھر فرشتہ اسے پکار کر کہتا ہے تم بیٹھ جاؤ وہ بندہ بیٹھ جاتا ہے فرشتہ اس سے دریافت کرتا ہے ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہو وہ کہتا ہے کون سے صاحب ؟ فرشتہ کہتا ہے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ مردہ کہتا ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں فرشتہ کہتا ہے تمہیں اس بات کا کیسے پتہ چلا کیا تم نے ان کا زمانہ پایا ہے وہ جواب دیتا ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں وہ فرشتہ کہتا ہے تم اسی عقیدے پر زندہ رہے اسی پر مرے اور اسی پر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اگر وہ مردہ کوئی گناہ گار یا کافر ہو تو فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اس کے اور مردے کے درمیان کوئی چیز نہیں ہوتی جو فرشتے کو واپس کرے وہ فرشتہ اسے بٹھا دیتا ہے ، اور کہتا ہے تم بیٹھ جاؤ ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو وہ دریافت کرتا ہے کون سے صاحب ؟ فرشتہ جواب دیتا ہے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مردہ کہتا ہے مجھے نہیں معلوم اللہ کی قسم میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تھا ، تو میں نے وہ بات کہہ دی تو فرشتہ اس سے یہ کہتا ہے تم اسی عقیدے پر زندہ رہے اس پر تم مرے اور اسی پر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ، اس شخص پر اس کی قبر میں ایک جانور کو مسلط کیا جاتا ہے ، جس کے پاس ستر کوڑے ہوتے ہیں اور اس کا کنارہ انگارے کا ہوتا ہے ، جو اونٹ کی ایال کی طرح کا ہوتا ہے ، وہ اس کو جتنا اللہ کو منظور ہو اتنا مارتا ہے وہ بہرا ہوتا ہے اس مردے کی آواز نہیں سنتا کہ اس پر رحم کرے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) ان خاتون کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔