کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قبر میں سوال ہونا
حدیث نمبر: 4267
عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ ، سَرِيعًا فِي مَعْصِيَتِهِ فَجَزَاكَ اللَّهُ شَرًّا . ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى أَصَمُّ أَبْكَمُ فِي يَدِهِ مِرْزَبَّةٌ ، لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ كَانَ تُرَابًا ، فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً فَيَصِيرُ تُرَابًا ، ثُمَّ يُعِيدُهُ اللَّهُ كَمَا كَانَ ، فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً أُخْرَى فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ " . قَالَ الْبَرَاءُ : " ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ ، وَيُمَهَّدُ لَهُ مِنْ فُرُشِ النَّارِ " . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد نے ایک روایت میں ان صحابی کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” پھر ایک شخص اس کے پاس آتا ہے ، جس کا چرہ قبیح ہوتا ہے لباس قبیح ہوتا ہے بو بدبودار ہوتی ہے وہ یہ کہتا ہے : اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسوائی اور ہمیشہ رہنے والے عذاب کی اطلاع حاصل کرو اللہ تعالیٰ نے برائی کے بارے میں تمہیں اطلاع بھجوائی ہے وہ دریافت کرتا ہے تم کون ہو ، تو وہ جواب دیتا ہے میں تمہارا خبیث عمل ہوں تم اللہ تعالیٰ کے فرمانبرداری کے کام میں سست تھے ، اور اس کی معصیت کے کام میں جلد باز تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں برا بدلہ دیا ہے پھر اس شخص کے لئے ایک فرشتہ مقرر کیا جاتا ہے ، جو گونگا بہرا اور اندھا ہوتا ہے اس کے ہاتھ میں گرز ہوتا ہے اگر اس گرز کو پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہو جائے وہ فرشتہ اس مردے کو ضرب لگاتا ہے ، تو وہ مردہ مٹی ہو جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ اسے پہلے کی طرح کر دیتا ہے وہ فرشتہ پھر اسے ضرب لگاتا ہے ، تو وہ مردہ ایسی چیخ مارتا ہے ، جسے ہر چیز سنتی ہے صرف دو قسم کے گروہ ( یعنی انسان اور جنات ) نہیں سن پاتے ہیں “ ۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پھر اس شخص کے لئے جہنم کی طرف دروازہ کھول دیا جاتا ہے ، اور اس کے لئے جہنم کا بچھونا بچھا دیا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4267
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4268
وَعَنْ أَسْمَاءَ أَنَّهَا كَانَتْ تُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : " إِذَا دَخَلَ الْإِنْسَانُ قَبْرَهُ فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا أَحَفَّ بِهِ عَمَلُهُ الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ . قَالَ : فَيَأْتِيهِ الْمَلَكُ مِنْ نَحْوِ الصَّلَاةِ فَيَرُدُّهُ ، وَمِنْ نَحْوِ الصِّيَامِ فَيَرُدُّهُ ، [ قَالَ ] : فَيُنَادِيهِ : اجْلِسْ . قَالَ : فَيَجْلِسُ ، فَيَقُولُ لَهُ : مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مَنْ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ . قَالَ : [ أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَقُولُ : وَمَا يُدْرِيكَ ؟ أَدْرَكْتَهُ ؟ قَالَ ] : أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : يَقُولُ : عَلَى ذَلِكَ عِشْتَ ، وَعَلَيْهِ مِتَّ ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثَ . ¤ قَالَ : وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا أَوْ كَافِرًا قَالَ : جَاءَهُ مَلَكٌ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ شَيْءٌ يَرُدُّهُ قَالَ : فَأَجْلَسَهُ قَالَ : اجْلِسْ مَاذَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ قَالَ : أَيُّ رَجُلٍ . قَالَ : مُحَمَّدٌ . [ قََالَ ] : يَقُولُ : مَا أَدْرِي - وَاللَّهِ - سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ . قَالَ : [ فَيَقُولُ ] لَهُ الْمَلَكُ : عَلَى ذَلِكَ عِشْتَ ، وَعَلَيْهِ مِتَّ ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثَ . وَتُسَلَّطُ عَلَيْهِ دَابَّةٌ فِي قَبْرِهِ مَعَهَا سَوْطٌ ثَمَرَتُهُ جَمْرَةٌ مِثْلُ [ عَرْفِ ] الْبَعِيرِ ، تَضْرِبُهُ مَا شَاءَ اللَّهُ ، صَمَّاءُ لَا تَسْمَعُ صَوْتَهُ فَتَرْحَمَهُ " . ¤ قُلْتُ : لَهَا فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ مِنْهُ طَرَفًا فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بیان کرتی ہیں : ” جب انسان قبر میں داخل ہوتا ہے ، تو اگر وہ مؤمن ہو ، تو اس کا عمل یعنی نماز اور روزہ اسے گھیر لیتے ہیں فرشتہ نماز کی طرف سے آنے کی کوشش کرتا ہے ، تو نماز اسے واپس کر دیتی ہے ، روزے کی طرف سے آنے کی کوشش کرتا ہے ، تو روزہ اسے واپس کر دیتا ہے پھر فرشتہ اسے پکار کر کہتا ہے تم بیٹھ جاؤ وہ بندہ بیٹھ جاتا ہے فرشتہ اس سے دریافت کرتا ہے ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہو وہ کہتا ہے کون سے صاحب ؟ فرشتہ کہتا ہے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ مردہ کہتا ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں فرشتہ کہتا ہے تمہیں اس بات کا کیسے پتہ چلا کیا تم نے ان کا زمانہ پایا ہے وہ جواب دیتا ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں وہ فرشتہ کہتا ہے تم اسی عقیدے پر زندہ رہے اسی پر مرے اور اسی پر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اگر وہ مردہ کوئی گناہ گار یا کافر ہو تو فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اس کے اور مردے کے درمیان کوئی چیز نہیں ہوتی جو فرشتے کو واپس کرے وہ فرشتہ اسے بٹھا دیتا ہے ، اور کہتا ہے تم بیٹھ جاؤ ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو وہ دریافت کرتا ہے کون سے صاحب ؟ فرشتہ جواب دیتا ہے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مردہ کہتا ہے مجھے نہیں معلوم اللہ کی قسم میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تھا ، تو میں نے وہ بات کہہ دی تو فرشتہ اس سے یہ کہتا ہے تم اسی عقیدے پر زندہ رہے اس پر تم مرے اور اسی پر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ، اس شخص پر اس کی قبر میں ایک جانور کو مسلط کیا جاتا ہے ، جس کے پاس ستر کوڑے ہوتے ہیں اور اس کا کنارہ انگارے کا ہوتا ہے ، جو اونٹ کی ایال کی طرح کا ہوتا ہے ، وہ اس کو جتنا اللہ کو منظور ہو اتنا مارتا ہے وہ بہرا ہوتا ہے اس مردے کی آواز نہیں سنتا کہ اس پر رحم کرے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) ان خاتون کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4268
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (105،86/24) اخرجه الامام احمد فى المسند (6/352)»