حدیث نمبر: 4269
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَيُسْمَعُ خَفْقُ نِعَالِهِمْ حِينَ يُوَلُّونَ عَنْهُ ، فَإِذَا كَانَ مُؤْمِنًا كَانَتِ الصَّلَاةُ عِنْدَ رَأْسِهِ ، وَالزَّكَاةُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَالصَّوْمُ عَنْ شِمَالِهِ ، وَفِعْلُ الْخَيْرَاتِ ، وَالْمَعْرُوفُ ، وَالْإِحْسَانُ إِلَى النَّاسِ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ ، فَيُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ، فَتَقُولُ الصَّلَاةُ : لَيْسَ قِبَلِي مَدْخَلٌ . فَيُؤْتَى عَنْ يَمِينِهِ فَتَقُولُ الزَّكَاةُ : لَيْسَ قِبَلِي مَدْخَلٌ . وَيُؤْتَى مِنْ قِبَلِ شِمَالِهِ فَيَقُولُ الصَّوْمُ : لَيْسَ قِبَلِي مَدْخَلٌ . ثُمَّ يُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ فَيَقُولُ فِعْلُ الْخَيْرَاتِ ، وَالْمَعْرُوفُ ، وَالْإِحْسَانُ إِلَى النَّاسِ : لَيْسَ مِنْ قِبَلِي مَدْخَلٌ . فَيُقَالُ لَهُ : اجْلِسْ . فَيَجْلِسُ ، وَقَدْ مَثُلَتْ لَهُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ ، فَيُقَالُ لَهُ : مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي كَانَ قِبَلَكُمْ ؟ - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولُ : أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا ; فَصَدَّقْنَاهُ وَاتَّبَعْنَاهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : صَدَقْتَ ، وَعَلَى هَذَا حَيِيتَ وَعَلَى هَذَا مِتَّ ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنَّ شَاءَ اللَّهُ . وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : " يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ " ، وَيُقَالُ : افْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ ، فَيُفْتَحُ لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ ، فَيُقَالُ : هَذَا كَانَ مَنْزِلَكَ لَوْ عَصَيْتَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - . فَيَزْدَادُ غِبْطَةً وَسُرُورًا وَيُقَالُ : افْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ ، فَيُفْتَحُ لَهُ فَيُقَالُ : هَذَا مَنْزِلُكَ وَمَا أَعَدَّهُ اللَّهُ لَكَ . فَيَزْدَادُ غِبْطَةً وَسُرُورًا فَيُعَادُ الْجِلْدُ إِلَى مَا بَدَأَ مِنْهُ وَيُجْعَلُ رُوحُهُ فِي نَسَمِ طَيْرٍ يُعَلَّقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ . ¤ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُؤْتَى [ فِي قَبْرِهِ ] مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ ، فَيُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ فَلَا يُوجِدُ شَيْءٌ ، فَيَجْلِسُ خَائِفًا مَرْعُوبًا فَيُقَالُ لَهُ : مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ كَانَ فِيكُمْ ؟ وَمَا تَشَهَدُ بِهِ ؟ فَلَا يَهْتَدِي لِاسْمِهِ ، فَيُقَالُ : مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَيَقُولُ : سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُ كَمَا قَالُوا . فَيُقَالُ لَهُ : صَدَقْتَ ، عَلَى هَذَا حَيِيتَ ، وَعَلَيْهِ مِتَّ ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . وَيُضَيَّقُ اللَّهُ قَبْرَهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : ( وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا ) ، فَيُقَالُ : افْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ ، [ فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ ] ، فَيُقَالُ لَهُ : هَذَا كَانَ مَنْزِلَكَ وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ لَوْ أَطَعْتَهُ ، فَيَزْدَادُ حَسْرَةً وُثُبُورًا ، ثُمَّ يُقَالُ : افْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ ، فَيُفْتَحُ لَهُ [ بَابٌ ] إِلَيْهَا ، فَيُقَالُ : هَذَا مَنْزِلُكَ وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ ، فَيَزْدَادُ حَسْرَةً وَثُبُورًا " . ¤ قَالَ أَبُو عُمَرَ - يَعْنِي الضَّرِيرَ - : قُلْتُ لِحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ : كَانَ هَذَا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ . ¤ قَالَ أَبُو عُمَرَ : كَأَنَّهُ يَشْهَدُ بِهَذِهِ الشَّهَادَةِ عَلَى غَيْرِ يَقِينٍ يَرْجِعُ إِلَى قَلْبِهِ ، كَانَ يَسْمَعُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَيَقُولُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جب اسے لوگ چھوڑ کر جاتے ہیں تو وہ ( یعنی مردہ ) ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے اگر وہ مؤمن ہو ، تو نماز اس کے سرہانے آ جاتی ہے زکوۃ اس کے دائیں طرف آ جاتی ہے روزہ بائیں طرف آ جاتا ہے بھلائی کے کام اور نیکیاں اور لوگوں کے ساتھ اچھائیاں پاؤں کی طرف آ جاتے ہیں پھر اگر فرشتہ اس کے سرہانے کی طرف سے آنے کی کوشش کرے تو نماز یہ کہتی ہے میری طرف سے جانے کا راستہ نہیں ہے اگر دائیں طرف سے آنے کی کوشش کرے تو زکوۃ یہ کہتی ہے میری طرف سے جانے کا راستہ نہیں ہے بائیں طرف سے آنے کی کوشش کی جائے تو روزہ کہتا ہے میری طرف سے جانے کا راستہ نہیں ہے پھر اگر پاؤں کی طرف سے آنے کی کوشش کرے تو بھلائی کے کام نیکیاں اور لوگوں کے سے اچھائیاں یہ کہتی ہیں میری طرف سے آنے کی گنجائش نہیں ہے ، تو اس مردے سے کہا: جاتا ہے تم بیٹھ جاؤ وہ بیٹھ جاتا ہے اس مردے کے سامنے یہ صورت حال ہوتی ہے جیسے سورج غروب ہونے لگا ہے اس سے دریافت کیا جاتا ہے : ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ جو تمہاری طرف مبعوث ہو کر آئے ) تھے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہو ، تو مردہ یہ کہتا ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں یہ ہمارے پاس ہمارے پروردگار کی طرف سے واضح نشانیاں لے کے آئے تھے ہم نے ان کی تصدیق کی اور ہم نے ان کی پیروی کی ، تو اس سے کہا: جاتا ہے تم نے ٹھیک کہا: ہے تم اسی عقیدے پر زندہ رہے تھے اسی پر تم مرے تھے ، اور اسی پر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا اگر اللہ نے چاہا پھر اس مردے کے لئے اس کی قبر کو تا حد نگاہ کشادہ کر دیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے ۔ ” اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر ثابت قدم رکھے گا دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی “ ۔ یہ بات کہی جاتی ہے اس کے لئے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھولو اس کے لئے جہنم کی طرف دروازہ کھولا جاتا ہے ، اور یہ کہا: جاتا ہے اگر تم نے اللہ کی طرف نافرمانی کی ہوتی ہے ، تو تمہارا ٹھکانہ یہ ہونا تھا ، تو اس شخص کی خوشی اور سرور میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر یہ کہا: جاتا ہے اس کے لئے جنت کی طرف ایک دروازہ کھولو اس کے لئے دروازہ کھولا جاتا ہے ، اور یہ کہا: جاتا ہے یہ تمہارا ٹھکانہ ہے ، اور یہ کہا: جاتا ہے ، یہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تیار کی ہے ، تو اس شخص کے رشک اور سرور میں اضافہ ہو جاتا ہے ، اور پھر جلد کو اس کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے ، جس سے اس کا آغاز ہوا تھا اور اس کی روح کو ایک پرندے کے اندر رکھ دیا جاتا ہے ، جو جنت کے درخت سے لٹکا رہتا ہے ۔ جہاں تک کافر کا تعلق ہے ، تو اس کی قبر میں اس کے سرہانے کی طرف سے ( فرشتہ ) آتا ہے ، تو کوئی چیز نہیں ملتی پاؤں کی طرف سے آنا چاہئے ، تو کوئی چیز نہیں پائی جاتی وہ ( کافر ) خوف زدہ اور مرعوب ہو کر بیٹھ جاتا ہے اس سے دریافت کیا جاتا ہے : تمہارے درمیان جو یہ صاحب تھے ان کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ، اور ان کے بارے میں تم کیا گواہی دیتے ہو ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے بارے میں اسے رہنمائی نصیب نہیں ہوتی تو کہا: جاتا ہے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ( کے بارے میں سوال کیا جا رہا ہے ) تو وہ شخص کہتا ہے میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تھا ، تو میں نے بھی اسی طرح کہہ دیا جس طرح انہوں نے کہا: تھا ، تو اس مردے سے کہا: جاتا ہے تم نے سچ کہا: اسی عقیدے پر تم زندہ رہے اسی پر تم مرے اور اگر اللہ نے چاہا تو اسی پر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا پھر اس کی قبر اس پر تنگ کی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” اور جو شخص میرے ذکر سے منہ موڑتا ہے ، تو اس کے لئے تنگی والی زندگی ہوتی ہے “ ۔ پھر یہ حکم ہوتا ہے اس کے لئے جنت کی طرف دروازہ کھولو تو اس کے لئے جنت کی طرف سے دروازہ کھولا جاتا ہے اس سے یہ کہا: جاتا ہے کہ اگر تم نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ہوتی تو یہ جگہ تمہارا ٹھکانہ ہوئی تھی اور یہ چیز اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تیار رکھی ہونی تھی ، تو اس کی حسرت اور چیخ و پکار میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر یہ کہا: جاتا ہے اس کے لئے جہنم کی طرف دروازہ کھولو اس کے لئے جہنم کی طرف دروازہ کھولا جاتا ہے ، تو اس سے یہ کہا: جاتا ہے یہ تمہارا ٹھکانہ ہے ، اور یہ وہ چیز ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تیار کی ہے ، تو اس کی حسرت اور آہ و فریاد میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ ابوعمر ضریر نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے حماد بن سلمہ سے دریافت کیا : یہ اہل قبلہ میں سے ہو گا انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ ابوعمر نامی راوی کہتے ہیں : گویا کہ اس مردے نے یہ گواہی یقین کے بغیر دی تھی ، ایسا یقین جو اس کے دل کی طرف لوٹتا ہوتا اس نے صرف لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تھا ، تو وہ بات کہہ دی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4269
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2651)»